پنجاب میں خفیہ کیمروں والی عینکوں، گھڑیوں اور پین پر پابندی کا فیصلہ

پاکستان کے صوبہ پنجاب کی حکومت نے خفیہ کیمروں اور ریکارڈنگ آلات سے لیس عینکوں، پین، گھڑیوں اور دیگر الیکٹرانک ڈیوائسز کے استعمال اور خرید و فروخت پر مکمل پابندی عائد کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

یہ فیصلہ پیر کو وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز کی زیر صدارت صوبائی کابینہ کے اجلاس میں کیا گیا۔

اجلاس کے بعد صوبائی وزیر اطلاعات و نشریات عظمیٰ بخاری نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ یہ فیصلہ خاص طور پر خواتین اور بچوں کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے کیا گیا ہے۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ترجمان محکمہ داخلہ پنجاب کے مطابق جاسوسی کے آلات کے ذریعے غیر قانونی نگرانی، ہراسانی اور بلیک میلنگ کی شکایات سامنے آئی ہیں، جس کے پیش نظر شہریوں کی نجی زندگی اور ذاتی معلومات کے تحفظ کے لیے یہ اقدام کیا گیا۔

محکمہ داخلہ کے مطابق جاسوسی کے آلات اور خفیہ الیکٹرانک ڈیوائسز کے استعمال اور خرید و فروخت پر سخت قانونی کارروائی کی جائے گی، جبکہ خفیہ کیمروں سے لیس روزمرہ استعمال کی اشیاء کے غیر قانونی استعمال پر بھی سخت سزا ہو گی۔

حکومت پنجاب کا کہنا ہے کہ وہ شہریوں کے بنیادی حقوق، نجی معلومات اور ذاتی زندگی کے تحفظ کے لیے اقدامات کر رہی ہے۔


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *