پشاور کے تاریخی گھنٹہ گھر سے چند قدم کے فاصلے پر واقع تنگ گلیوں میں ایک چھوٹی سی ورکشاپ میں سوئی، دھاگے اور چمڑے پر تیزی سے کام جاری ہے۔ ایک طرف دنیا کی توجہ فیفا ورلڈ کپ کے مقابلوں پر مرکوز ہے تو دوسری جانب یہاں استعمال شدہ فٹ بالز کو پھر سے کھیل کے قابل بنایا جا رہا ہے۔
اسی ورکشاپ میں محمد حذیفہ خاموشی سے ایک گیند کی سلائی مکمل کرتے ہیں اور فوراً دوسری اٹھا لیتے ہیں۔ یہ ہنر انہیں اپنے والد سے ملا جسے وہ گذشتہ چار برس سے پیشے کے طور پر اپنائے ہوئے ہیں۔
محمد حذیفہ نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ ابتدا میں یہ کام مشکل محسوس ہوتا ہے لیکن مسلسل مشق کے بعد مہارت آ جاتی ہے۔
ان کے کہنا ہے کہ ’صرف سلائی نہیں کی جاتی بلکہ پہلے گیند کو احتیاط سے کھولا جاتا ہے اس میں نیا بلیڈر ڈالا جاتا ہے اور پھر مخصوص دھاگے سے دوبارہ سلائی کی جاتی ہے۔
’اگر کام درست ہو تو کھیل کے دوران نئے اور مرمت شدہ فٹ بال میں زیادہ فرق محسوس نہیں ہوتا۔‘
وہ بتاتے ہیں کہ سات، آٹھ یا دس ہزار روپے مالیت کی فٹ بال ہر بار خریدنا ہر کسی کے بس کی بات نہیں اسی لیے کئی لوگ استعمال کے چند ماہ بعد انہیں ٹھیک کرانے کے لیے لے آتے ہیں۔
ان کے مطابق تقریباً تین سو روپے میں یہ کام ہو جاتا ہے جو نئی گیند خریدنے سے کہیں کم خرچ ہے۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
حذیفہ نے مزید بتایا کہ ایک گیند پر اوسطاً تین گھنٹے صرف ہوتے ہیں۔
فیفا ورلڈ کپ کے آغاز کے بعد ان کی ورکشاپ کی مصروفیت میں بھی اضافہ ہوا ہے۔
’اب روزانہ تقریباً دس سے 15 فٹ بال مرمت کے لیے آتے ہیں جبکہ 20 کے قریب نئے بھی فروخت ہوتے ہیں۔‘
ان کی دکان پر چند سو روپے سے لے کر دس ہزار روپے تک مختلف معیار کے فٹ بال دستیاب ہیں، تاہم مرمت کی سہولت زیادہ تر ان خریداروں کے لیے ہے جو مہنگا سامان دوبارہ خریدنے کے بجائے اسے قابلِ استعمال رکھنا چاہتے ہیں۔
پاکستان کئی دہائیوں سے ہاتھ سے سلے ہوئے فٹ بال بنانے کے حوالے سے دنیا بھر میں پہچانا جاتا ہے۔
اگرچہ فیفا ورلڈ کپ 2026 میں استعمال ہونے والے فٹ بال جدید سینسر اور نئی ٹیکنالوجی سے لیس ہیں لیکن پشاور کے اس بازار میں ہاتھ کی سلائی اب بھی اپنی اہمیت برقرار رکھے ہوئے ہے۔
گھنٹہ گھر کے قریب اس چھوٹی سی ورکشاپ میں ہر مکمل ہونے والی سلائی صرف ایک فٹ بال کی مرمت نہیں بلکہ ان بچوں، نوجوانوں اور شوقیہ کھلاڑیوں کے لیے کھیل کا تسلسل بھی ہے جو نئی خریداری کے بجائے اپنی پرانے فٹ بال کے ساتھ ہی میدان میں اترنا چاہتے ہیں۔
