وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا محمد سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ لانگ مارچ کا اگلا مرحلہ آج دوپہر 2 بجے حیات آباد ٹول پلازہ سے شروع ہوگا اور قافلہ رنگ روڈ، بھانہ ماری، کوہاٹی، گنج اور جمیل چوک سے ہوتا ہوا چارسدہ کی جانب روانہ ہوگا۔
سہیل آفریدی نے اپنے ویڈیو پیغام میں پشاور کے عوام سے مارچ میں بھرپور شرکت کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ خیبر پختونخوا کے مستقبل کے فیصلے ’بند کمروں کے بجائے عوامی امنگوں کے مطابق ہونے چاہییں۔‘
ان کا مزید کہنا تھا کہ ’صوبے میں دوبارہ بدامنی، دہشت گردی اور خونریزی کا راستہ کھولنے والی کوئی پالیسی قبول نہیں کی جائے گی۔‘
”ان شاء اللہ کل دوپہر 2 بجے حیات آباد انڈر پاس سے لانگ مارچ کے اگلے مرحلے کا آغاز ہوگا۔ پشاور کے غیور عوام سے اپیل ہے کہ بھرپور تعداد میں نکلیں اور دنیا کو پیغام دیں کہ پشاور عمران خان کے ساتھ تھا، ساتھ ہے اور ساتھ رہے گا۔ ہم ایسی کوئی پالیسی قبول نہیں کریں گے جس سے خیبرپختونخوا میں دوبارہ بدامنی، دہشت گردی اور خونریزی کا راستہ کھلے۔ خیبرپختونخوا کے عوام کے مستقبل کے فیصلے بند کمروں میں نہیں بلکہ عوامی امنگوں کے مطابق ہونے چاہئیں۔ پشاور ہمارا دارالخلافہ اور پھولوں کا شہر ہے، ہم اسے دوبارہ بارود، گولیوں اور دھماکوں کی نذر نہیں ہونے دیں گے۔ تمام غیرت مند پشاوری کل لانگ مارچ میں بھرپور شرکت کریں اور عمران خان کے ساتھ اپنی یکجہتی کا اظہار کریں۔ “ – وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی کا پشاور کے عوام کے نام اہم پیغام. #عوامی_مزاحمت_کی_للکار
— PTI (@PTIofficial) October 7, 2026
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کی قیادت میں پی ٹی آئی نے اپنے مطالبات منوانے کے لیے 4 اکتوبر سے لکی مروت سے اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ کا آغاز کر رکھا ہے، جس کے پیش نظر وفاقی دارالحکومت میں سکیورٹی انتظامات کیے گئے ہیں اور شہر کی سڑکوں پر جا بجا کنٹینرز رکھے دیکھے جا سکتے ہیں۔
لانگ مارچ کے خاتمے کے لیے حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان گذشتہ ہفتے اسلام آباد میں مذاکرات بھی ہوئے لیکن انسداد دہشت گردی کے نکات پر ڈیڈ لاک کے باعث کامیاب نہ ہو سکے۔
گذشتہ روز وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثنا اللہ نے پی ٹی آئی کو بات چیت کی پیشکش کرتے ہوئے کہا تھا کہ مذاکرات کے دروازے کھلے ہیں، تاہم ’ریاست کو یرغمال بنا کر یا سیاسی عدم استحکام کے ذریعے مطالبات منوانے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔‘
اس سے قبل وزیراعظم شہباز شریف بھی پی ٹی آئی کو مذاکرات کی پیشکش کر چکے ہیں جبکہ وفاقی حکومت یہ بھی واضح کر چکی ہے کہ پی ٹی آئی کے مارچ کو اسلام آباد میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
پشاور میں سکیورٹی اور تعلیمی سرگرمیاں متاثر
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
لانگ مارچ کے باعث پشاور اور خیبر پختونخوا کے مختلف علاقوں میں سخت سکیورٹی انتظامات کیے گئے ہیں۔ مارچ کے روٹ پر پولیس کی تعیناتی اور ٹریفک مینجمنٹ کے اقدامات کیے جا رہے ہیں جبکہ صورت حال کے باعث تعلیمی سرگرمیاں بھی متاثر ہوئی ہیں۔
پشاور سمیت خیبرپختونخوا کے مختلف تعلیمی بورڈز نے 7 سے 10 اکتوبر تک ہونے والے میٹرک کے ضمنی امتحانات ملتوی کر دیے ہیں جبکہ پشاور بورڈ نے بھی ان دنوں کے لیے مقررہ امتحانات مؤخر کیے ہیں۔
پی ٹی آئی کے چیئرمین بیرسٹر گوہر خان نے بدھ کو قومی اسمبلی میں صحافیوں سے گفتگو میں حکومت کے ساتھ مذاکرات میں تعطل کو ’افسوس ناک‘ قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ ’بڑی جدوجہد کے بعد فریقین مذاکرات کی میز پر آئے تھے، اس لیے بات چیت ختم نہیں ہونی چاہیے تھی۔‘
ان کا مزید کہنا تھا کہ ’ملک، قوم اور جمہوریت کے مفاد میں مذاکرات کی کامیابی ضروری ہے، سیاسی معاملات میں شرائط یا وقت کی پابندی کے بجائے اس وقت تک بات چیت جاری رہنی چاہیے جب تک کوئی حل نہ نکل آئے۔‘
تحریک انصاف کے مطالبات
پارٹی چیئرمین بیرسٹر گوہر کے مطابق پی ٹی آئی کے مطالبات میں بانی چیئرمین عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی سے ملاقات، عمران خان تک ان کے ڈاکٹروں اور اہل خانہ کی رسائی، ان کی صحت سے متعلق وضاحت اور گرفتار افراد کی رہائی شامل ہے۔
انہوں نے کہا کہ وزیراعظم کی جانب سے مذاکرات کی پیشکش مشروط تھی، جبکہ پی ٹی آئی غیر مشروط مذاکرات کے لیے تیار ہے۔ ساتھ ہی ان کا کہنا تھا کہ سیاسی معاملات میں مذاکرات کے لیے دو دن کی مدت مقرر نہیں کی جا سکتی۔
خیبر پختونخوا کی صورت حال پر بیرسٹر گوہر نے کہا کہ صوبہ کسی ’غیر آئینی یا غیر قانونی اقدام‘ کا متحمل نہیں ہوسکتا۔ ’نہ گورنر راج لگنا چاہیے اور نہ ایمرجنسی نافذ ہونی چاہیے، معاملات مذاکرات کے ذریعے حل کیے جانے چاہییں۔‘
لانگ مارچ کے حوالے سے انہوں نے کہا تھا کہ ’مارچ طے شدہ شیڈول کے مطابق آگے بڑھے گا، تاہم مذاکرات کے لیے اب بھی وقت موجود ہے۔‘
