انڈین پریمیئر لیگ (آئی پی ایل) کی ٹیم ممبئی انڈینز کے ہیڈ کوچ مہیلا جے وردھنے نے جمعرات کو مسلسل پانچویں لیگ میچ میں کوئی وکٹ نہ لینے پر مشکلات کا شکار فاسٹ بولر جسپریت بمراہ کا دفاع کیا ہے۔
پنجاب کنگز کے خلاف میچ میں ممبئی انڈینز کو سات وکٹوں سے شکست ہوئی تھی۔
2012 کے بعد پہلی بار سیزن کا اپنا افتتاحی میچ جیتنے کے بعد پانچ بار کی چیمپیئن ممبئی انڈینز کے لیے صورت حال خراب رہی ہے اور مسلسل چار شکستوں کے بعد وہ 10 ٹیموں کی لیگ میں نویں نمبر پر آ گئی ہے۔
جے وردھنے بمراہ کے وکٹیں نہ لے پانے کی وجہ بتانے سے قاصر رہے، لیکن انہوں نے کہا کہ یہ بات واضح ہے کہ ٹیمیں ان کی بولنگ کے خلاف زیادہ محتاط ہیں اور اپنا حملہ ممبئی کے دیگر بولرز پر مرکوز کر رہی ہیں۔
’میں ٹھیک طور پر یہ نہیں بتا سکتا کہ وہ وکٹیں کیوں نہیں لے رہے… لیکن بطور ایک ٹیم ہم مختلف پچز پر مؤثر انداز میں دباؤ پیدا کرنے میں ناکام رہے اور یہ وہ چیز ہے جس پر ہمیں کام کرنے کی ضرورت ہے۔‘
بمراہ نے ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں انڈیا کی مسلسل دو فتوحات میں اہم کردار ادا کیا تھا اور اس سال کے ٹورنامنٹ میں سب سے زیادہ وکٹیں لینے والے بولر رہے۔
جے وردھنے کے مطابق ’انہوں نے شروع میں شریاس (ائیر) کو کچھ بہت اچھی گیندیں کرائیں لیکن وہ اتنے خوش قسمت نہیں تھے۔
’میرا خیال ہے کہ ایک بار جب وہ وکٹیں لینا شروع کر دیں گے، تو (مخالفین) شاید انہیں ایسا کرنے سے نہ روک سکیں۔‘
ائیر نے 35 گیندوں پر جارحانہ 66 رنز بنائے اور آئی پی ایل کی سرفہرست ٹیم پنجاب نے 196 رنز کا ہدف 21 گیندیں باقی رہتے حاصل کر لیا۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
سری لنکا کے سابق کپتان جے وردھنے نے کہا ممبئی اہم مواقع پر خاطر خواہ موثر ثابت نہیں ہوئی۔
ان کا مزید کہنا تھا ’میں جانتا ہوں ہم اچھی کرکٹ کھیل رہے ہیں۔ ہم مکمل طور پر باہر نہیں ہوئے لیکن اس کے ساتھ ہی دوسری ٹیمیں بہت بہتر اور موثر ہیں۔
’ہم کچھ شعبوں میں اچھی کارکردگی کی جھلک دکھا رہے ہیں، لیکن دوسری جانب مخالف ٹیمیں اس میں زیادہ کامیاب ہو رہی ہیں، خاص طور پر بولنگ میں۔‘
ممبئی کے کپتان ہردک پانڈیا نے کہا کہ ٹیم کو اس تنزلی کو روکنے کے لیے کچھ مشکل فیصلے کرنے پڑ سکتے ہیں۔
آل راؤنڈر نے کہا ’ہمیں واقعی یہ دیکھنے کی ضرورت ہے کہ آیا ہمیں کچھ مشکل فیصلے کرنے ہیں یا ہمیں اسی طرح جاری رکھتے ہوئے امید کرنی چاہیے کہ ہم حالات کو بدل دیں گے۔
’یہ کچھ مشکل سوالات ہیں، جن کا بالآخر ہمیں جواب دینا ہو گا اور اس کی ذمہ داری لینا ہو گی۔‘
