پاکستان کے لیے قطر کا ایل این جی ٹینکر آبنائے ہرمز پار کر گیا

ایران جنگ کے آغاز کے بعد پہلی بار ایک قطری مائع قدرتی گیس (ایل این جی) ٹینکر نے آبنائے ہرمز بحفاظت عبور کر کے پاکستان پہنچ رہا ہے، جسے توانائی بحران کے شکار پاکستان کے لیے ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔

قطر انرجی کے زیر انتظام ٹینکر  ’الخریطیات‘ اتوار کو آبنائے ہرمز سے گزرا اور کراچی کے قریب واقع پورٹ قاسم کے لیے طرف روانہ ہوا۔

شپنگ ڈیٹا کے مطابق یہ پہلا قطری ایل این جی جہاز ہے جو 28 فروری کو شروع ہونے والی ایران جنگ کے بعد اس اہم بحری راستے سے گزرا ہے، جسے عالمی توانائی سپلائی کے لیے انتہائی اہم سمجھا جاتا ہے۔

روئٹرز نے ذرائع کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ اس کارگو کی ترسیل کو ایران کی جانب سے بھی منظوری دی گئی، جس کا مقصد قطر اور پاکستان کے ساتھ اعتماد سازی کو فروغ دینا تھا۔

پاکستان میں حالیہ دنوں میں گیس کی کمی کے باعث بجلی کی بندشوں میں اضافہ ہوا ہے، اس لیے اس کارگو کو عارضی ریلیف کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

تاہم ایران نے واضح کیا ہے کہ وہ ممالک جو امریکہ کی عائد کردہ پابندیوں کی حمایت کرتے ہیں، ان کے جہازوں کو آبنائے ہرمز سے گزرنے میں مشکلات پیش آ سکتی ہیں۔

اس بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ خطے میں کشیدگی بدستور برقرار ہے اور شپنگ کے لیے خطرات مکمل طور پر ختم نہیں ہوئے۔

امریکہ نے پاکستانی ثالثی میں ایران کو تجویز بھیجی ہے جس کے تحت پہلے جنگ کا باضابطہ خاتمہ کیا جائے اور پھر دیگر حساس معاملات، خصوصاً ایران کے جوہری پروگرام، پر مذاکرات شروع کیے جائیں۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے عندیہ دیا ہے کہ ایران کا جواب جلد متوقع ہے، تاہم اب تک کوئی حتمی ردعمل سامنے نہیں آیا۔

گذشتہ ہفتے آبنائے ہرمز اور اس کے اطراف میں جھڑپوں کے بعد صورت حال کچھ بہتر ہوئی ہے لیکن مکمل امن بحال نہیں ہوا۔

کویت نے اتوار کو اپنی فضائی حدود میں مشتبہ ڈرونز کی موجودگی کی اطلاع دی، جس سے سکیورٹی خدشات برقرار ہیں۔

یہ تنازع اس وقت عالمی سطح پر بھی دباؤ کا باعث بنا ہوا ہے۔ امریکی صدر کے متوقع دورہ چین سے قبل جنگ کے خاتمے کے لیے کوششیں تیز ہو گئی ہیں، کیونکہ اس کشیدگی نے عالمی توانائی بحران کو جنم دیا ہے اور بڑی معیشتوں پر منفی اثرات ڈالے ہیں۔

یاد رہے کہ آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین گزرگاہوں میں سے ایک ہے جہاں سے جنگ سے قبل عالمی تیل اور ایل این جی کی تقریباً 20 فیصد ترسیل ہوتی تھی۔ ایران کی جانب سے اس راستے پر پابندیاں عائد کیے جانے کے بعد عالمی سپلائی چین متاثر ہوئی ہے۔


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *