’پاکستان کے لیے‘ ایل این جی لانے والے جہاز پر حملہ، سعودی عرب اور قطر کی مذمت

سعودی عرب اور قطر نے خلیج عرب میں مائع قدرتی گیس (ایل این جی) بردار جہاز پر حملے کی شدید مذمت کی ہے جس کے بارے میں اطلاعات ہیں کہ یہ جہاز پاکستان کے لیے ایندھن لے جا رہا تھا۔

پیر کو سعودی وزارت خارجہ نے ایکس پر جاری بیان میں خلیج عرب کے پانیوں میں قطر گیس ٹرانسپورٹ کمپنی کا مائع قدرتی گیس (ایل این جی) بردار جہاز المائدہ کو نشانہ بنائے جانے کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔ 

بیان میں بحری نقل و حمل اور عالمی سطح پر توانائی سپلائی کی سلامتی کو خطرے میں ڈالنے والی تمام خلاف ورزیوں کو مسترد کرنے کا اعادہ کیا گیا ہے۔

قطر نے بھی اتوار کو اپنے گیس بردار بحری جہاز پر حملے کی مذمت کی تھی۔

قطری وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ بحری جہاز پر حملہ خطرناک عمل ہے جو بحری نقل و حمل کی سلامتی اور توانائی کی عالمی ترسیل کی سکیورٹی کے لیے خطرہ ہے۔

قطری کی وزارت خارجہ نے ایکس پوسٹ میں توثیق کی کہ ’ریاست قطر اپنے اثاثوں کے تحفظ اور اپنے بحری جہازوں اور ان کے عملے کی حفاظت کے لیے بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے منشور کے مطابق تمام ضروری اقدامات اٹھانے کا حق محفوظ رکھتی ہے۔‘

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

دوسری جانب اس بارے میں امریکی نیوز ویب سائٹ بلوم برگ نے اتوار کو رپورٹ کیا کہ ایرانی حکام سے کلیئرنس ملنے کے باوجود، آبنائے ہرمز کے قریب قطری ایندھن پاکستان لے جانے والا مائع قدرتی گیس کا ایک ٹینکر حملے کی زد میں آیا۔

بلوم برگ نے ذرائع کے حوالے سے رپورٹ کیا کہ پاکستان نے جمعے کو جہاز کو نشانہ بنائے جانے سے قبل ایرانی حکام کے ساتھ مارشل آئی لینڈز کے پرچم بردار جہاز ’المائدہ‘ کے محفوظ راستے کے لیے مذاکرات کیے تھے۔

اطلاعات کے مطابق ایرانی حکام نے حملے سے چند گھنٹے قبل ہی اس سفر کی منظوری دی تھی، اگرچہ واقعے کے حالات تاحال غیر واضح ہیں۔

اس بارے میں تاحال پاکستان کی جانب سے کوئی بیان سامنے نہیں آیا ہے۔

ایران میں جاری جنگ کے باعث آبنائے ہرمز سے بحری جہازوں کی آمدورفت میں رکاوٹ کے سبب قطر انرجی نے پاکستان اور دیگر صارفین کو معاہدے کے تحت ایل این جی کی ترسیل معطل کر دی تھی جس کے باعث ایشیا میں مارکیٹ سے ملنے والی ایل این جی کی قیمتیں بڑھ گئی ہیں، جس سے درآمدات پر انحصار کرنے والے پاکستان کے لیے متبادل کارگوز خریدنا خاصا مہنگا ہو گیا ہے۔

ایل این جی کی سپلائی میں تعطل کے باعث شام کے اوقات میں بجلی کی طلب میں اضافے کے دوران بجلی پیدا کرنے کے لیے فرنس آئل کا استعمال بڑھایا جا رہا ہے۔


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *