پاکستان کے خلاف القاعدہ کا حالیہ بیان اور افغان طالبان کی حمایت

حالیہ دنوں میں القاعدہ کی جانب سے پاکستان کے خلاف جاری ہونے والے تند و تیز بیانات نے خطے میں سکیورٹی کی صورت حال اور سرحد پار دہشت گردی کے بدلتے ہوئے خدوخال پر نئی بحث چھیڑ دی ہے۔

افغانستان میں طالبان کے برسرِ اقتدار آنے کے بعد سے یہ خدشہ ظاہر کیا جا رہا تھا کہ شدت پسند تنظیمیں ایک بار پھر اس سرزمین کو اپنے مقاصد کے لیے استعمال کریں گی اور اب یہ خطرات حقیقت بن کر سامنے آ رہے ہیں۔

اپریل  میں القاعدہ کے مرکزی ترجمان ادارے السحاب فاؤنڈیشن نے، تحریکِ طالبان پاکستان کے سرحد پار حملوں کے جواب میں کنڑ پر کیے گئے پاکستانی فضائی حملوں کی غیر معمولی لیکن شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔

القاعدہ مرکز کا یہ بیان دراصل اس کے جنوبی ایشیائی ونگ القاعدہ برصغیر کے مارچ میں دیے گئے اس اعلان کی توثیق ہے، جس میں کابل اور قندھار میں ہونے والے فضائی حملوں کی مذمت کی گئی تھی۔

اگرچہ القاعدہ برصغیر اپنے اردو رسالے ’نوائے غزوہ ہند‘ کے ذریعے مستقل طور پر پاکستان مخالف بیانات جاری کرتی رہتی ہے، لیکن طالبان کے دوبارہ برسرِ اقتدار آنے کے بعد یہ پہلا موقع ہے کہ القاعدہ مرکز نے پاکستان کے خلاف اور طالبان حکومت کی کھلی حمایت میں بیان جاری کیا ہے، جس میں طالبان کی مدد کے لیے اقدام کرنے کی اپیل بھی کی گئی ہے۔

واضح رہے کہ القاعدہ نے طالبان کو ان کی فتح پر مبارک باد دی تھی اور اس کا جشن بھی منایا تھا، لیکن اس کے بعد اس نے حکمتِ عملی کے تحت خاموشی اختیار کر لی تھی تاکہ نوآموز طالبان حکومت کے لیے سکیورٹی اور قانونی چیلنجز پیدا نہ ہوں۔

یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ القاعدہ طالبان کی اسلامی امارت میں گہری دلچسپی رکھتی ہے اور داعش کے ساتھ اپنی رقابت کے تناظر میں اسے ایک عظیم الشان پیش رفت سمجھتی ہے، کیونکہ داعش عراق اور شام میں اپنی نام نہاد علاقائی خلافت کھو چکی ہے۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

دونوں بیانات میں استعمال کیے گئے استعارے اور بیانیے بالکل یکساں ہیں۔ ان بیانات میں پاکستان کے موجودہ ہائبرڈ نظام اور ٹرمپ انتظامیہ کے ساتھ اس کے تعلقات کا موازنہ جنرل پرویز مشرف کے فوجی دور اور بش انتظامیہ سے ان کی قربت کے ساتھ کیا گیا ہے۔

پاکستان کے غزہ پیس بورڈ میں شامل ہونے کے فیصلے کا حوالہ دیتے ہوئے، بیان میں یہ دعویٰ کیا گیا ہے کہ افغانستان میں پاکستانی فضائی حملے امریکی سٹریٹجک مفادات کو آگے بڑھانے کے لیے کیے جا رہے ہیں۔

القاعدہ مرکز کا پاکستان کے خلاف طالبان حکومت کی کھلی حمایت کا اعلان کرنا ایک ایسی اہم پیش رفت ہے، جس کا باریک بینی سے جائزہ لینا ضروری ہے، تاکہ طالبان کے ساتھ القاعدہ کے مسلسل گٹھ جوڑ اور اس سے پیدا ہونے والے خطرات کی نوعیت کا اندازہ لگایا جا سکے۔

واضح طور پر یہ بیان ان سابقہ خطرات کے جائزوں اور اقوامِ متحدہ کی مانیٹرنگ کمیٹی کی ان رپورٹس کی توثیق کرتا ہے، جن کے مطابق القاعدہ نہ صرف طالبان حکومت کے ساتھ قریبی اتحاد برقرار رکھے ہوئے ہے بلکہ وہ تزویراتی (سٹریٹجک) معاملات پر طالبان قیادت کو مشورے بھی دیتی ہے۔

اگرچہ یہ تنظیم شاید اب آپریشنل طور پر پہلے کی طرح فعال نہ ہو، لیکن یہ علاقائی جہادی گروہوں کے ساتھ قریبی تعلقات برقرار رکھ کر خاموشی سے اپنا دائرہ اثر پھیلا رہی ہے اور بدلتے ہوئے حالات کے مطابق خود کو ڈھالنے کا عمل جاری رکھے ہوئے ہے۔

القاعدہ مرکز تزویراتی صبر (سٹریٹجک پیشنس) کی پالیسی پر عمل پیرا ہے، جہاں اس نے خود کو عالمی شدت پسندی کے ایک نظریاتی ہراول دستے کے طور پر قائم کر لیا ہے اور وہ ضابطہ اخلاق کے ذریعے اپنی مختلف ذیلی تنظیموں کی رہنمائی کرتا ہے۔

 

اپنی موجودہ شکل میں، القاعدہ مرکز میں کمزور لیکن اپنے دائرہ کار یا اطراف میں مضبوط ہے۔ فی الوقت، اس نے سرحد پار حملوں کو اپنی ترجیحات سے نکال دیا ہے اور اس کی تمام تر توجہ لچک پذیری، حالات کے مطابق ڈھلنے اور مقامی شراکت داریوں کے ذریعے اپنی بقا پر مرکوز ہے۔

اس سلسلے میں القاعدہ مرکز کی طالبان کے ساتھ شراکت داری سب سے قدیم اور اہم ترین ہے۔ یہ تعلق 1990 کی دہائی کے وسط سے قائم ہے، جس نے دہشت گردی کے خلاف دو دہائیوں پر محیط عالمی جنگ کے تھپیڑوں کا سامنا کیا اور ایک ایسی فتح کے ساتھ ابھرا ہے، جس کی قیمت بہت بھاری تھی۔

طالبان اور القاعدہ مرکز کے گٹھ جوڑ کا اندازہ ان کی داخلی تنظیموں سے متعلق بعض اہم پیش رفتوں پر ان کے پالیسی موقف کی ہم آہنگی سے لگایا جا سکتا ہے۔

مثال کے طور پر 2022 میں کابل میں القاعدہ کے سربراہ ایمن الظواہری کی موت کے بعد، طالبان نے وہاں ان کی موجودگی سے انکار کیا۔ اسی طرح القاعدہ نے بھی طالبان کی انکار کی پالیسی سے مطابقت رکھتے ہوئے، باضابطہ طور پر ان کی موت کی تصدیق نہیں کی ہے۔

مزید برآں، القاعدہ نے سیف العدل کو تنظیم کے نئے امیر کے طور پر مقرر کرنے کا بھی سرکاری اعلان نہیں کیا ہے، جو کہ تاحال عملی طور پر اس عالمی عسکریت پسند گروہ کی قیادت کر رہے ہیں۔

افغانستان میں موجود القاعدہ نے اپنی توجہ دور کے دشمن یعنی امریکہ اور مغرب سے ہٹا کر قریبی دشمن یعنی ان مسلم اکثریتی ریاستوں پر مرکوز کر دی ہے، جن پر وہ اپنے مفادات کے حصول کے لیے امریکہ کے ساتھ گٹھ جوڑ کا الزام لگاتی ہے۔ القاعدہ مرکز کے پاکستان مخالف بیان کو بھی اسی تناظر میں دیکھا جانا چاہیے۔

اس نئی حکمتِ عملی کے تحت 11 ستمبر 2001 کے واقعات یا 2005 کے لندن بم دھماکوں جیسے ہائی پروفائل بین الاقوامی حملوں کی منصوبہ بندی اور ان پر عمل درآمد سے توجہ ہٹ گئی ہے۔

 اس کے بجائے، القاعدہ اپنی یمنی شاخ القاعدہ فی جزیرۃ العرب کے ذریعے مغرب میں لون وولف (انفرادی سطح پر) حملوں کی ترغیب دے رہی ہے۔

القاعدہ مغرب میں مقیم مسلمان تارکینِ وطن کے نظریاتی اختلافات اور شکایات کا فائدہ اٹھانے کی کوشش کر رہی ہے اور ایسا کرتے ہوئے وہ انہیں تشدد پر اکسا رہی ہے، اگرچہ حالیہ برسوں میں اسے اس سلسلے میں کوئی خاص کامیابی حاصل نہیں ہوئی ہے۔

افغانستان اور پاکستان میں اپنی کارروائیوں کے حوالے سے القاعدہ مرکز کی بنیادی توجہ اب عالمگیریت کے بجائے ’مقامی عالمگیریت‘ پر مرکوز ہو گئی ہے۔ اس مقصد کے لیے، یہ تنظیم خود کو مقامی عسکریت پسند گروہوں میں ضم کر رہی ہے اور ان کے اہداف کے حصول میں ان کی مدد کر رہی ہے۔

تاہم، اس نے ایک خود ساختہ عالمی خلافت کے قیام کے اپنے بڑے مقصد کو ترک نہیں کیا، بلکہ صرف اپنے طریقہ کار کو بلاواسطہ سے بالواسطہ میں تبدیل کر لیا ہے۔

اس کا ماننا ہے کہ مقامی عسکریت پسند گروہوں کی مدد کر کے اور بین الاقوامی حملوں کو ثانوی حیثیت دے کر وہ دہشت گردی کے خلاف عالمی کارروائیوں سے محفوظ رہ سکے گی۔

یہ حکمتِ عملی اسے مقامی عسکریت پسند گروہوں کے ساتھ اتحاد کے ذریعے بقا، بحالی اور دوبارہ ابھرنے کا موقع فراہم کرے گی۔

موجودہ وقت میں القاعدہ، اتحاد المجاہدین پاکستان کی کارروائیوں میں گہرائی سے شامل ہے، جو کہ حافظ گل بہادر، لشکرِ اسلام اور انقلابِ اسلامی پاکستان کا ایک اتحاد ہے۔

یہ مانا جاتا ہے کہ انقلابِ اسلامی پاکستان دراصل القاعدہ کے 313 بریگیڈ کے بچ جانے والے عناصر اور بعض دیگر عسکریت پسند گروہوں کی باقیات کی ایک نئی شکل ہے۔

اس ضمن میں نوائے غزوہ ہند میں فروری 2026 میں شائع ہونے والے ان ماہانہ انفوگرافکس کا ذکر کرنا ضروری ہے، جو دنیا کے مختلف حصوں میں القاعدہ کے حملوں سے متعلق ہیں اور جن میں پاکستان میں اتحاد المجاہدین پاکستان کی دہشت گردانہ مہم کو بھی شامل کیا گیا ہے۔

اگرچہ القاعدہ مرکز کا عروج اب ماضی کا حصہ بن چکا ہے، لیکن یہ اب بھی ایک ایسی غیر روایتی قوت ہے جسے نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔

تزویراتی صبر، افغانستان جیسی کمزور ریاستوں میں مقامی عسکریت پسند گروہوں کے ساتھ گٹھ جوڑ اور مرکزیت کے بجائے لچک پذیری کی حکمتِ عملی کے ذریعے القاعدہ نے اپنی اہمیت برقرار رکھی ہے۔

افغانستان میں اس تنظیم کے ارتقا سے نظریں چرانا ایک سنگین غلطی ہوگی، خاص طور پر ایک ایسے وقت میں جب دہشت گردی کے خاتمے کے لیے بین الاقوامی فنڈنگ اور پالیسی توجہ کی شدید کمی ہے۔

ایسے ماحول میں، مقامی قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ شراکت داری اور انٹیلی جنس ہم آہنگی کو فروغ دینا اور اس کے ساتھ ساتھ سیاسی استحکام اور بہتر طرزِ حکمرانی کے لیے کوششیں کرنا، القاعدہ کے ابھرتے ہوئے خطرے کو روکنے کے لیے انتہائی ناگزیر ہے۔

نوٹ: یہ تحریر کالم نگار کی ذاتی آرا پر مبنی ہے، جس سے انڈپینڈنٹ اردو کا متفق پونا ضروری نہیں۔


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *