اطلاعات کے مطابق پاکستان نے روچڈیل گرومنگ گینگ کے سرغنہ کو واپس لینے سے انکار کر دیا ہے، حالانکہ برطانوی حکومت انہیں ملک بدر کرنے کے لیے برطانوی قانون میں تبدیلی کا منصوبہ بنا رہی ہے۔
شبیر احمد، جنھیں کم عمر لڑکیوں کے ساتھ متعدد ریپ اور جنسی استحصال کے جرائم میں 14 سال قید کی سزا ہوئی تھی، گذشتہ ہفتے جیل سے رہا ہوئے ہیں۔
اس وقت برطانوی حکومت نے کہا تھا کہ 55 سال پرانے ایک قانون کی وجہ سے انہیں پاکستان ڈی پورٹ نہیں کیا جا سکتا، حالانکہ ان کی برطانوی شہریت پہلے ہی منسوخ کی جا چکی ہے۔
توقع ہے اگلے ہفتے برطانیہ کی وزیر داخلہ امیگریشن ایکٹ 1971 میں ایسی تبدیلیوں کا اعلان کریں گی جن کا مقصد اس قانونی خلا کو ختم کرنا ہے جس کی وجہ سے شبیر کو پاکستان واپس نہیں بھیجا جا سکا۔
تاہم، اطلاعات ہیں پاکستان اس وقت شبیر کو قبول کرنے سے انکار کر رہا ہے اور اس کے بدلے برطانیہ میں مقیم دو سیاسی مخالفین کی حوالگی کا مطالبہ کر رہا ہے۔
برطانوی وزیراعظم کے دفتر (نمبر 10) نے تصدیق کی ہے کہ اسلام آباد میں حکام کے ساتھ یہ معاملہ اٹھایا گیا ہے اور اس بات پر زور دیا ہے کہ ’تمام آپشنز زیر غور ہیں۔‘
وزیراعظم کے ترجمان نے کہا ’ہم اس بات پر مکمل طور پر واضح ہیں کہ جب بھی کوئی غیر ملکی شہری برطانیہ میں جرم کا ارتکاب کرے گا تو ہم اسے ملک سے نکالنے کے لیے اپنی پوری کوشش کریں گے۔‘
اطلاعات کے مطابق برطانیہ سے کسی شخص کی بے دخلی کے لیے متعلقہ ملک کا اس شخص کو واپس قبول کرنا ضروری ہوتا ہے۔
امیگریشن ایکٹ 1971 کے تحت وہ افراد جو 1973 سے پہلے برطانیہ آئے ہوں اور ملک بدری پر غور کیے جانے سے قبل کم از کم پانچ سال تک برطانیہ میں مقیم رہے ہوں، انہیں ملک بدر نہیں کیا جا سکتا۔
شبیر احمد بھی اسی قانونی شق کے تحت آتے ہیں۔ ابھی یہ واضح نہیں کہ اس قانونی خلا کو ختم کرنے کے لیے علیحدہ طور پر فوری قانون سازی کی جائے گی یا امیگریشن اینڈ اسائلم بل میں ترمیم کی جائے گی، جس پر پیر کو ایوان زیریں (ہاؤس آف کامنز) میں بحث متوقع ہے۔
برطانوی وزارت داخلہ کے ایک وزیر نے رواں ہفتے عندیہ دیا تھا کہ حکومت ہنگامی قانون سازی پر بھی غور کر سکتی ہے۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
گذشتہ ہفتے ایل بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے لیبر پارٹی کی وزیر بیرونس جیکی سمتھ نے کہا تھا کہ شبیر ان چند افراد میں شامل ہیں جو تقریباً 50 سال قبل دولت مشترکہ (کامن ویلتھ) کے ممالک سے برطانیہ آئے تھے اور موجودہ قانون انہیں ملک بدر کرنے کی اجازت نہیں دیتا۔
بیرونس سمتھ نے یہ بھی عندیہ دیا کہ پاکستان شبیر کو واپس لینے سے انکار کر رہا ہے۔ ان کے بقول اگر انہیں ملک بدر کیا جاتا ہے تو پاکستان کو انہیں قبول کرنے پر آمادہ کرنے کے لیے مزید کام کرنے کی ضرورت ہے۔
انہوں نے کہا ’ہم اس شخص کو ملک سے نکالنے کے لیے ہر ممکن راستہ اختیار کر رہے ہیں اور ہر آپشن کا جائزہ لے رہے ہیں۔‘
شبیر کی رہائی کے بعد متاثرین نے اپنی سلامتی سے متعلق خدشات کا اظہار کیا ہے۔ متاثرہ خواتین میں سے ایک نے، جس کی شناخت صرف ’روبی‘ کے نام سے ظاہر کی گئی ہے، کہا وہ اپنی اور اپنے بچوں کی حفاظت کے بارے میں خوف زدہ ہے۔
روبی، جن کی معاونت دی میگی اولیور فاؤنڈیشن کر رہی ہے، نے کہا ’اس گینگ کا مرکزی سرغنہ جیل سے رہا ہو گیا ہے۔
’وہ روچڈیل، اولڈہم اور مڈلٹن میں اچھی طرح جانا پہچانا شخص ہے، اس لیے اگرچہ وہ اس علاقے میں موجود نہ بھی ہو، تب بھی وہ وہاں کے لوگوں سے رابطہ کر سکتا ہے اور یہی بات مجھے غیر محفوظ محسوس کراتی ہے۔‘
فاؤنڈیشن کے ذریعے جاری کیے گئے بیان میں روبی نے کہا جنسی استحصال کے متاثرین سے ’جھوٹے وعدے‘ کیے گئے اور حکام سے مناسب تعاون نہ ملنے کے باعث انہیں ’اپنے حال پر چھوڑ دیا گیا۔‘
انہوں نے مطالبہ کیا کہ قانون میں تبدیلی کر کے گرومنگ گینگز کے ارکان کو ملک بدر کرنے کی راہ ہموار کی جائے۔
شبیر کو 2012 میں لیورپول کراؤن کورٹ نے پانچ کم عمر لڑکیوں کے خلاف جرائم میں ملوث نو افراد میں شامل قرار دیتے ہوئے 19 سال قید کی سزا سنائی تھی۔
