ایران اور امریکہ کے درمیان جاری مذاکرات اور خطے میں بدلتی صورتحال کے اثرات صرف سیاست تک محدود نہیں رہے بلکہ مالیاتی منڈیوں میں بھی نمایاں طور پر محسوس کیے جا رہے ہیں۔
ایکسچینج کمپنیز ایسوسی ایشن آف پاکستان (ای سی اے پی) کے چیئرمین ملک بوستان نے کہا ہے کہ حالیہ پیش رفت کے باعث ایرانی ریال کی قدر میں غیر معمولی اتار چڑھاؤ دیکھنے میں آیا ہے، جبکہ پاکستان میں عوام کی جانب سے اس کرنسی میں سرمایہ کاری کا رجحان بھی بڑھ رہا ہے۔
ملک بوستان نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ 28 فروری سے پہلے ایرانی ریال کی قدر بہت کم تھی، جہاں تقریباً 2,500 پاکستانی روپے کے بدلے ایک کروڑ ایرانی ریال مل رہا تھا۔ تاہم اب یہی رقم 6,000 سے 8,000 روپے تک پہنچ چکی ہے، یعنی اس کی قیمت میں کئی گنا اضافہ ہوا ہے۔
ان کے مطابق ’اس اضافے کی بڑی وجہ ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی اور اس کے بعد ہونے والی پیش رفت ہے۔ ایران کی جانب سے امریکی ڈرونز اور طیارے گرانے اور مختلف عسکری کارروائیوں نے یہ تاثر دیا کہ ایران کمزور نہیں بلکہ مضبوط پوزیشن میں ہے۔ اسی کے بعد مذاکرات کی بات چیت شروع ہوئی، جس نے مارکیٹ میں مثبت اثر ڈالا۔‘
مزید یہ کہ گذشتہ ہفتے متوقع مذاکرات میں یہ خبریں بھی سامنے آئیں کہ ایران پر عائد اقتصادی پابندیاں ختم ہو سکتی ہیں، اس کے منجمد اکاؤنٹس بحال کیے جا سکتے ہیں، اور تقریباً 120 ارب ڈالر کے اثاثے واپس ملنے کا امکان ہے۔
ان خبروں نے ایرانی ریال کو مزید مضبوط کیا اور اس کی قدر 8,000 سے 12,000 روپے فی کروڑ ایرانی ریال تک جا پہنچی۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
ان کے بقول: ’تاہم جب یہ مذاکرات مؤخر ہو گئے تو کرنسی کی قدر دوبارہ کم ہو کر 6,000 سے 7,000 روپے کے درمیان آ گئی۔ اب دوبارہ خبریں آ رہی ہیں کہ اہم عالمی رہنما، جیسے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ، سعودی ولی عہد محمد بن سلمان، اور دیگر ممالک کے سربراہان ممکنہ طور پر کسی بڑے معاہدے کے لیے جمع ہو سکتے ہیں۔ اگر ایسا معاہدہ طے پا جاتا ہے اور پابندیاں ختم ہو جاتی ہیں تو ایرانی ریال کی قدر میں مزید نمایاں اضافہ ہو سکتا ہے۔‘
ملک بوستان نے ماضی کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ 2018 سے پہلے، جب پابندیاں نہیں تھیں، تو ایک کروڑ ایرانی ریال تقریباً 50,000 پاکستانی روپے کے برابر تھا۔ لیکن پابندیوں کے بعد اس کی قدر گر کر 2,500 روپے تک آ گئی۔ اب امید کی جا رہی ہے کہ اگر حالات بہتر ہوتے ہیں تو کرنسی دوبارہ مضبوط ہو سکتی ہے، تاہم یہ ضروری نہیں کہ وہ پرانی سطح تک ہی پہنچے۔
انہوں نے بتایا کہ عوام میں ایرانی ریال خریدنے کا رجحان بڑھ رہا ہے، جس کی دو بڑی وجوہات ہیں۔
ایک طبقہ اسے سرمایہ کاری سمجھ کر خرید رہا ہے، اس امید پر کہ پابندیاں ختم ہوں گی اور وہ منافع کمائیں گے، جبکہ دوسرا طبقہ ایران کی حمایت کے جذبے کے تحت یہ خریداری کر رہا ہے۔
تاہم انہوں نے خبردار کیا کہ اس میں خطرات بھی موجود ہیں۔ اگر مذاکرات ناکام ہو جاتے ہیں تو ریال کی قدر دوبارہ گر سکتی ہے۔
