پاکستان کے وزیرِ داخلہ محسن نقوی سینئر ایرانی حکام سے مذاکرات کے لیے منگل کو تہران پہنچ چکے ہیں جہاں انہوں نے ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی سے ملاقات کی ہے۔
یہ دورہ ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب اسلام آباد امریکہ اور ایران کے درمیان امن قائم کرانے کی سفارتی کوششوں میں مصروف ہے۔
ایران کی سرکاری خبر رساں ایجنسی ارنا کے مطابق محسن نقوی کا دورۂ تہران امریکہ اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی کے تناظر میں ہو رہا ہے۔
ایرانی خبر رساں ادارے پریس ٹی وی کے مطابق ایران کے وزیرداخلہ اسکندر مومنی نے ہوائی اڈے پر محسن نقوی کا استقبال کیا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پیر کے روز کہا تھا کہ وہ کسی بھی امن معاہدے کے حصے کے طور پر ایران سے تنازعے کے ازالے کے لیے معاوضے کا مطالبہ کریں گے۔
ان کے مطابق یہ مطالبہ ان حملوں اور ہلاکتوں کے تناظر میں ہے جن کے بارے میں واشنگٹن کا مؤقف ہے کہ گزشتہ کئی دہائیوں کے دوران ایران کی حمایت سے یا اس کے ذریعے انجام دیے گئے۔
ٹرمپ کا یہ بیان ایران کے اس مؤقف کے جواب میں سامنے آیا جس میں تہران نے کہا تھا کہ جاری تنازعے کے خاتمے کے لیے کسی بھی حل کی پیشگی شرط امریکہ کی جانب سے جنگی ہرجانے کی ادائیگی ہے۔
امریکہ اور ایران کے درمیان لڑائی، جو جون میں پاکستان کی ثالثی میں ہونے والے امن معاہدے کے بعد مختصر طور پر رک گئی تھی، گذشتہ ماہ دوبارہ شروع ہو گئی۔ واشنگٹن نے تہران پر آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں کو نشانہ بنانے کا الزام عائد کیا تھا۔
گذشتہ ہفتے ٹرمپ نے ایران کو ’بہت سخت‘ نشانہ بنانے کی دھمکی دی تھی اور عندیہ دیا تھا کہ شہری انفراسٹرکچر بھی حملوں کی زد میں آ سکتا ہے، تاہم بعد میں انہوں نے اپنے مؤقف میں نرمی دکھائی اور کہا کہ امن معاہدہ قریب ہو سکتا ہے۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
محسن نقوی کے ایرانی ہم منصب اسکندر مومنی گذشتہ ماہ اسلام آباد آئے تھے، جہاں انہوں نے پاکستانی قیادت سے ملاقاتیں کی تھیں۔
محسن نقوی، وزیراعظم شہباز شریف اور چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے ہمراہ، ایران کی قیادت کے ساتھ جنگ کے خاتمے سے متعلق مذاکرات میں فعال کردار ادا کرتے رہے ہیں۔
پاکستان کی جانب سے علاقائی امن کی کوششوں کے سلسلے میں محسن نقوی گذشتہ چند ماہ کے دوران متعدد مرتبہ ایران کا دورہ کر چکے ہیں اور وہاں کی اعلیٰ قیادت سے ملاقاتیں کر چکے ہیں۔
فروری میں امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ شروع ہونے کے بعد پاکستان نے ایک اہم ثالث کے طور پر کردار ادا کیا ہے۔
اسلام آباد نے اپریل میں دونوں ممالک کے درمیان جنگ بندی کرانے میں مدد دی تھی اور اسی ماہ دونوں فریقوں کے درمیان براہِ راست امن مذاکرات کے پہلے دور کی میزبانی بھی کی تھی۔
پاکستان مسلسل تمام فریقوں پر تحمل اور ضبطِ نفس کا مظاہرہ کرنے پر زور دیتا رہا ہے اور اس کا مؤقف ہے کہ وسیع علاقائی تنازعے سے بچنے کا واحد قابلِ عمل راستہ مذاکرات اور سفارت کاری ہے۔
