پاکستان کے فیلڈ مارشل عاصم منیر پیر کو ایران کے دورے پر روانہ ہو گئے۔
پاکستان فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق ان کے ہمراہ وزیر داخلہ محسن نقوی بھی ہیں اور دورے کا مقصد علاقائی امن و استحکام کو فروغ دینا ہے۔
آئی ایس پی آر کے مطابق فیلڈ مارشل مشرق وسطیٰ میں جاری تنازعے کے پرامن، پائیدار اور جامع حل کے لیے کوششوں کو آگے بڑھانے پر توجہ مرکوز کریں گے۔
یہ دورہ ایک ایسے وقت پر ہو رہا ہے جب امریکہ نے ایران کے خلاف ’اب تک کی سب سے بڑی مالی کارروائی‘ کی دھمکی دی ہے۔
امریکہ آج ایسی اقتصادی پابندیاں عائد کرنے کی تیاری کر رہا ہے جن کا ہدف ایران کے تجارتی شراکت دار ہوں گے۔
انڈپینڈنٹ اردو کا واٹس ایپ گروپ جائن کریں
روئٹرز کے مطابق امریکی وزیر خزانہ سکاٹ بیسنٹ پیر کو دوپہر دو بجے مشرقی امریکی وقت (گرین وچ مین ٹائم کے مطابق شام چھ بجے) پریس کانفرنس کریں گے، جس میں تقریباً مسلسل اقتصادی پابندیوں کا سامنا کرنے والے ملک ایران کے خلاف مزید سخت اقدامات کا اعلان متوقع ہے۔
ایران 1979 کے انقلاب کے بعد سے تقریباً مسلسل اقتصادی پابندیوں کی زد میں ہے۔
بیسنٹ نے اتوار کو فنانشل ٹائمز میں شائع ہونے والے ایک مضمون میں لکھا ’صبح ہوتے ہی اقتصادی ڈی ڈے شروع ہو گا — کسی مخالف کے خلاف اب تک کی سب سے بڑی مالی کارروائی۔‘
ایرانی وزارت خارجہ کے مطابق عمان کے وزیر خارجہ بدر البوسعیدی منگل کو ایران کا دورہ کریں گے۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے پیر کو ایک بیان میں کہا بدر البوسعیدی ’آبنائے ہرمز کے دونوں ساحلی ممالک کی حیثیت سے جاری سیاسی مشاورت‘ میں شرکت کریں گے، جس کا مقصد خطے میں امن و سلامتی کے فروغ میں مدد دینا ہے۔
بقائی نے مزید کہا ’دورے کا مقصد ایران اور عمان کے درمیان دوطرفہ تعاون کو مضبوط بنانا ہے، جبکہ البوسعیدی ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی سے ملاقات میں دوطرفہ اور علاقائی امور پر تبادلہ خیال کریں گے۔‘
تاہم انہوں نے پاکستانی فیلڈ مارشل عاصم منیر اور عمانی وزیر خارجہ کے دوروں میں تعلق کو رد کر دیا۔
بقائی نے امریکی معاشی دباؤ میں شامل ہونے والے ممالک کو ’سنگین نتائج‘ کی وارننگ بھی دی۔
عاصم منیر اور محسن نقوی نے رواں سال اپریل میں بھی وفد کے ہمراہ ایران کا تین روزہ سرکاری دورہ کیا تھا۔
