ویسٹ انڈیز اور پاکستان ہفتے کو ٹرینیڈاڈ میں ٹیسٹ کرکٹ کے جدید ترین میدان برائن لارا سٹیڈیم میں دو ٹیسٹ میچوں کی سیریز کے آغاز پر آمنے سامنے ہوں گے، جہاں میزبان ٹیم غیر مستحکم مہمانوں کے مقابلے میں غیر معمولی طور پر پسندیدہ قرار دی جا رہی ہے۔
جزیرے کے جنوبی حصے میں واقع برائن لارا سٹیڈیم اس سے قبل ایک روزہ اور ٹی20 بین الاقوامی میچوں کے ساتھ ساتھ علاقائی فرسٹ کلاس مقابلوں کی میزبانی کر چکا ہے۔
اب یہ ملک کا دوسرا ٹیسٹ وینیو اور پورے ویسٹ انڈیز کا 13واں ٹیسٹ گراؤنڈ بن جائے گا۔ یوں یہ دارالحکومت پورٹ آف سپین کے کوئینز پارک اوول کے برابر آ جائے گا، جہاں ایک ہفتے بعد دوسرا ٹیسٹ کھیلا جائے گا۔
روسٹن چیز نے صرف تین ہفتے قبل ویسٹ انڈیز کے ٹیسٹ کپتان کی حیثیت سے اپنی پہلی میچ اور سیریز فتوحات حاصل کیں، جب کیریبین ٹیم نے سری لنکا کو ایک اننگز اور 217 رنز سے عبرتناک شکست دی اور پھر اینٹیگوا میں کھیلے گئے دوسرے اور آخری ٹیسٹ کو ڈرا کر دیا۔
چیز دائیں ہاتھ کی شہادت کی انگلی میں چوٹ کے باعث نیوزی لینڈ کے خلاف حالیہ ون ڈے سیریز میں شکست کے دوران ٹیم کا حصہ نہیں تھے۔
ویسٹ انڈیز کے ہیڈ کوچ ڈیرن سیمی نے کہا، ’روسٹن ایک فائٹر ہے۔ مجھے معلوم ہے کہ وہ کوئی بھی ٹیسٹ کرکٹ مس نہیں کرنا چاہے گ۔‘
انہوں نے مزید کہا، ’مجھے یقین ہے کہ ڈاکٹر بائم (ٹیم فزیو ڈینس بائم) کے پاس کھلاڑیوں کو میدان میں رکھنے کا طریقہ موجود ہے، اس لیے مجھے پوری توقع ہے کہ روسٹن پہلے ٹیسٹ کے لیے تیار ہوگا۔‘
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
یہ ویسٹ انڈیز کی 2022 میں بنگلہ دیش کو 0-2 سے شکست دینے کے بعد پہلی ہوم ٹیسٹ سیریز فتح تھی، اور یہ ہی ان کی کسی بھی مقام پر مسلسل سیریز فتوحات کی آخری مثال بھی تھی۔ بنگلہ دیش کے خلاف کلین سویپ سے قبل ویسٹ انڈیز نے تین ٹیسٹ میچوں کی سیریز میں انگلینڈ کو 0-1 سے شکست دی تھی۔
سری لنکا کے خلاف کامیاب کمبی نیشن میں بڑی تبدیلیوں کی توقع نہیں کی جا رہی، تاہم بائیں ہاتھ کے سپنر جومیل واریکن کو فاسٹ میڈیم بولر اینڈرسن فلپ کی جگہ شامل کیے جانے کا امکان ہے، کیونکہ توقع کی جا رہی ہے کہ میچ کے آخری حصوں میں وکٹ سپنرز کے لیے مددگار ثابت ہوگی۔
فارم میں علی
اس کے بالکل برعکس، پاکستان نے دو ماہ قبل بنگلہ دیش کے ہاتھوں 0-2 سے سیریز ہارنے کے بعد ایک مرتبہ پھر اپنی ٹیم میں بڑے پیمانے پر تبدیلیاں کی ہیں۔ سینیئر بلے باز بابر اعظم شان مسعود کی جگہ کپتان بن کر واپس آئے ہیں، تاکہ ٹیم کی ٹیسٹ قسمت بدل سکیں۔
بابر اور اوپننگ بلے باز اذان اویس نے ہفتے کو ویسٹ انڈیز سلیکٹ الیون کے خلاف واحد وارم اپ میچ میں سنچریاں بنائیں، جبکہ دیگر اہم بلے بازوں نے بھی مفید رنز بنا کر اعتماد حاصل کیا۔
تاہم مہمان ٹیم کے لیے بیٹنگ کے موافق حالات میں سب سے حوصلہ افزا پہلو فاسٹ بولر محمد علی کی بولنگ رہی، جنہوں نے پہلی اننگز میں پانچ وکٹیں حاصل کیں۔ پاکستان کو امید ہوگی کہ وہ نئی تشکیل دی گئی فاسٹ بولنگ لائن اپ کے دیگر ارکان کے ساتھ مل کر ٹیم کو بیرون ملک مسلسل سات ٹیسٹ شکستوں کے افسوسناک سلسلے کا خاتمہ کرنے کا موقع فراہم کریں گے۔
پاکستان کا ویسٹ انڈیز کا آخری دورہ 2021 میں ہوا تھا، جو کنگسٹن میں دو ٹیسٹ میچوں کے بعد 1-1 سے برابر رہا تھا۔ دونوں ٹیموں کے درمیان آخری ٹیسٹ مقابلے جنوری 2025 میں ملتان کی سپن ساز وکٹوں پر ہوئے تھے، جہاں ویسٹ انڈیز نے دوسرے میچ میں پاکستان کو شکست دے کر سیریز 1-1 سے برابر کر دی تھی۔
دو غیر متوقع مزاج رکھنے والی ٹیموں کے درمیان اس مقابلے میں موسم بھی ایک اہم عنصر ہو سکتا ہے، کیونکہ جولائی اور اگست کا عرصہ جنوبی کیریبین میں عموماً شدید بارشوں کا موسم سمجھا جاتا ہے۔
