وائٹ ہاؤس کے ایک عہدیدار نے انکشاف کیا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے نائب صدر جے ڈی وینس کے نام ایک خط لکھ رکھا ہے، جو اُس صورت میں کھولا جائے گا، اگر صدر کو قتل کر دیا جائے۔
سیباسٹین گورکا، جو رواں مدت میں ٹرمپ انتظامیہ کی انسدادِ دہشت گردی حکمتِ عملی کی قیادت کر رہے ہیں، نے کہا کہ اگر صدر کے ساتھ کچھ ہوتا ہے تو مختلف ’پروٹوکولز‘ موجود ہیں، جن میں نائب صدر کے لیے ایک ذاتی پیغام کی موجودگی بھی شامل ہے۔
سیباسٹین گورکا نے بدھ کو دی نیو یارک پوسٹ کے پوڈکاسٹ ’پوڈ فورس ون‘ کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا: ’ہمارے پاس پروٹوکولز ہیں، یقین کریں۔ میں ان پر بات نہیں کر سکتا، لیکن ہمارے پاس پروٹوکولز ہیں۔‘
انہوں نے کہا: ’اوول آفس کے ڈیسک ’ریزیلوٹ ڈیسک‘ کی دراز میں ایک خط موجود ہے، جو نائب صدر کے نام ہے، اگر صدر کے ساتھ کچھ ہو جائے۔‘
رواں برس جنوری میں ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ انہوں نے اپنے ممکنہ قتل کی صورت میں ’انتہائی سخت ہدایات‘ چھوڑ رکھی ہیں، خاص طور پر ایران کی جانب سے ملنے والی دھمکیوں کے تناظر میں۔
صدر نے نیوز نیشن کو بتایا تھا: ’میں نے نوٹس چھوڑ دیے ہیں کہ اگر کچھ بھی ہوا تو ہم ردِعمل میں پورا ملک اڑا دیں گے۔‘ اس وقت انہوں نے جے ڈی وینس کے نام کسی خط کا ذکر نہیں کیا تھا۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
ٹرمپ اس سے قبل بھی تین بار عوامی سطح پر قاتلانہ حملوں سے بچ چکے ہیں، جن میں تازہ ترین واقعہ گذشتہ ماہ وائٹ ہاؤس کورسپانڈنٹس ڈنر کے دوران پیش آیا، جب ایک مسلح شخص سکیورٹی توڑ کر صدر تک پہنچنے کی کوشش میں مبینہ طور پر آگے بڑھا۔
ویڈیو میں دکھایا گیا کہ 25 اپریل کو جے ڈی وینس کو فوری طور پر تقریب سے باہر لے جایا گیا، جبکہ ٹرمپ اپنی نشست پر موجود رہے، تاہم بعد میں صدر نے کہا کہ یہ ممکنہ طور پر ان کا اپنا فیصلہ تھا کیونکہ وہ ’یہ دیکھنا چاہتے تھے کہ کیا ہو رہا ہے۔‘
حکام کے مطابق ملزم، جس کی شناخت 31 سالہ کول ایلن کے طور پر ہوئی، کو موقعے پر ہی قابو کر لیا گیا، جب اس نے بال روم کے قریب سکیورٹی چیک پوائنٹ پر طویل فاصلے کے ہتھیار سے فائرنگ کی۔
بعد ازاں کول ایلن کو عدالت میں پیش کیا گیا جہاں اس پر صدر کے قتل کی کوشش سمیت دیگر الزامات عائد کیے گئے اور اس نے الزامات کو تسلیم کرنے سے انکار کیا۔
ٹرمپ اس سے قبل بھی 2024 کے صدارتی انتخاب سے پہلے دو مزید قاتلانہ حملوں میں بال بال بچے۔ پہلا واقعہ جولائی میں پنسلونییا کے شہر بٹلر میں ایک ریلی کے دوران پیش آیا تھا۔
اس وقت کے رپبلکن صدارتی امیدوار کو تھامس کروکس نامی حملہ آور کی گولی کان کے قریب سے چھو کر گزری تھی، جس کے بعد سیکرٹ سروس نے انہیں فوراً محفوظ مقام پر منتقل کیا۔ اس واقعے میں ایک شخص جان سے گیا اور دو زخمی ہوئے تھے، جبکہ جوابی کارروائی میں سنائپر نے حملہ آور کو مار دیا تھا۔
دوسرا حملہ دو ماہ بعد فلوریڈا کے ویسٹ پام بیچ میں ٹرمپ کے انٹرنیشنل گالف کلب میں ہوا تھا، جہاں ریان روتھ نے گالف کھیلتے ہوئے صدر پر فائرنگ کی کوشش کی، جنہیں بعد ازاں گرفتار کر لیا گیا اور مقدمے کی سماعت کے بعد عمر قید کی سزا سنائی گئی۔

