خیبر پختونخوا کے ضلع ٹانک میں پولیس کے مطابق جمعرات کی شب پولیس اور سکیورٹی فورسز کی مشترکہ چیک پوسٹ پر حملے کے نتیجے میں دو پولیس اہلکار جان سے گئے اور سات زخمی ہیں جبکہ دھماکے میں مزید اموات کا خدشہ بھی ظاہر کیا جا رہا ہے۔
ٹانک پولیس کے ترجمان ابراہیم خان نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ گذشتہ رات بارود سے بھری گاڑی مانجھی خیل چیک پوسٹ کی عمارت سے ٹکرائی گئی، جس سے عمارت مکمل طور پر منہدم ہوگئی۔
ابراہیم خان نے بتایا: ’اب تک کی تفصیلات کے مطابق دو پولیس اہلکار جان سے گئے ہیں اور سات زخمی پولیس اہلکاروں کو ہسپتال منتقل کیا گیا ہے۔‘
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
پولیس کے مطابق دھماکے کے بعد عسکریت پسندوں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ بھی جاری تھا اور فائرنگ کے تبادلے میں پولیس کے مطابق تین حملہ آوروں کو مار دیا گیا ہے۔
دھماکے کے بعد ڈپٹی کمشنر کی جانب سے جاری پریس ریلیز کے مطابق ٹانک کی مصروف شاہراہوں پر صبح چھ بجے سے شام چھ بجے تک گاڑیوں کی نقل و حرکت بند رہے گی جبکہ رانول بازار بھی مکمل بند رہے گی۔
خیبر پختونخوا کے جنوبی اضلاع میں گذشتہ کچھ عرصے سے حالات مخدوش ہیں۔ ٹانک بھی ان اضلاع میں شامل ہے، جہاں پولیس اور سکیورٹی فورسز پر حملے ہوتے آئے ہیں۔ اسی تناظر میں بنوں اور لکی مروت میں سکیورٹی فورسز کا ٹارگٹڈ آپریشن بھی جاری ہے۔
بنوں میں گذشتہ سات روز سے پولیس کے مطابق بکاخیل اور میریان تحصیل کے مختلف علاقوں میں ٹارگٹڈ آپریشن جاری ہے، جس میں مختلف کارروائیوں میں مشتبہ افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔
ٹارگٹڈ آپریشن کی وجہ سے علاقے میں انٹرنیٹ سروس اور موبائل سگنلز بھی بند ہیں جبکہ بازاروں میں رش نہ ہونے کے برابر ہے۔
