جماعت اسلامی کے سربراہ حافظ نعیم الرحمٰن نے منگل کو وزیر اعظم شہباز شریف سے ملاقات تک لانگ مارچ موخر جبکہ تیاریاں جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے۔
کراچی سے 20 ستمبر کو روانہ ہونے والا لانگ مارچ ملتان میں موجود ہے۔ جس کی اسلام آباد روانگی عارضی موخر کردی گئی ہے۔
وزیر اعظم آفس کی جانب سے منگل کو جاری اعلامیے کے مطابق وزیر اعظم نے امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمٰن سے ٹیلی فونک رابطہ کر کے انہیں اسلام آباد میں دھرنا مؤخر کرنے کا کہا۔
گفتگو کرتے ہوئے وزیرِ اعظم نے کہا کہ حکومت معاشی طور پر کمزور اور متوسط طبقے کو ان مشکل حالات میں پیٹرولیم مصنوعات پر ریلیف فراہم کر رہی ہے۔ حکومت جس قدر ممکن ہوا عوام کو ریلیف کی فراہمی یقینی بناتی رہے گی۔
امیر جماعت اسلامی نے وزیر اعظم کی تجویز کا خیر مقدم کیا اور کہا کہ جماعت اسلامی دھرنا مؤخر کرنے پر غور کر رہی ہے۔
دونوں رہنماؤں نے وزیرِ اعظم کے دورے کے بعد ملاقات کرنے اور اس امر پر مزید مشاورت جاری رکھنے پر اتفاق کیا۔
ملتان میں امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمٰن نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ ’ہم نے پیٹرولیم لیوی کے خلاف ایک ماہ سے زائد دھرنے دیے متعدد بار حکومتی وفد نے ملاقاتیں کر کے احتجاج ختم کرنے کی درخواست کی۔ لیکن ہم نے لیوی ٹیکس ختم ہونے تک احتجاج کے ساتھ لانگ مارچ کا اعلان کیا۔ لانگ مارچ کراچی سے ملتان پہنچا جس میں مہنگائی سے ستائے شہریوں کی بڑی تعداد شریک ہوئی۔‘
بقول نعیم الرحمٰن، ’وزیر اعظم شہباز شریف نے گذشتہ روز پیر کو فون پر رابطہ کیا کہ وہ امریکہ سے وطن واپسی پر ملاقات کریں گے اور ہمارے مطالبات تسلیم کرنے کی یقین دھانی کرائی۔ جس کے بعد ہم نے شوریٰ سے مشاورت کے بعد فیصلہ کیا ہے کہ لانگ مارچ اور 40 شہروں میں جاری دھرنے ختم نہیں کیے جائیں گے۔ البتہ وزیر اعظم سے ملاقات کے لیے لانگ مارچ اسلام آباد کی طرف روانہ نہیں ہوگا۔ اگر ہمارے مطالبات کے مطابق حکومت نے ریلیف نہ دیا تو اکتوبر کے پہلے ہفتے لانگ مارچ دوبارہ روانہ ہوجائے گا۔
’ہم پر امن جماعت ہیں ہمارا مقصد حالات خراب کرنا یا بدامنی پھیلانا نہیں ہم چاہتے ہیں کہ عوام کو مہنگائی سے نجات دلائیں۔ حکومت پیٹرولیم لیوی ٹیکس ختم کرے اور لوگوں کو ریلیف دے۔ وزیر اعظم نے یقین دہانی کرائی کہ مل کر مشاورت سے ریلیف کا راستہ نکالا جائے گا۔‘
نعیم الرحمٰن نے کہا کہ ’حکومت نے ہمارے احتجاج کے باعث ہی سو روپے فی لیٹر ریلیف پیکج کا اعلان کیا۔ لیکن ہم اس چھوٹے سے ریلیف کو مسترد کرتے ہیں۔ جب تک لیوی ٹیکس ختم نہیں ہوتا ہمارا احتجاج جاری رہے گا کیونکہ یہ عوامی مسائل کا مسئلہ ہے۔ بجلی، گیس اور پٹرول کی قیمتیں آسمان سے باتیں کر رہی ہیں۔ حکومت پٹرول پر بھتہ ٹیکس وصول کرتی ہے۔ سیاسی جاعتیں عوام کے حقیقی مسائل سے بہت دور ہیں۔ ہم سنجیدہ لوگ ہیں، عوام کے حقیقی مسائل ایڈریس کرتے ہیں۔‘
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
حافظ نعیم الرحمٰن کے بقول، ہم اپنی احتجاجی تحریک سے دستبردار نہیں ہوں گے۔ اگر حالات خراب ہیں تو اس کی ذمہ دار حکومت ہے۔ ہم نے اے بی سی پلان بنایا ہے صرف ایک جگہ سے اسلام آباد داخل نہیں ہوں گے۔ ہمارا ایجنڈہ فساد یا جھگڑا نہیں عوام کا ریلیف ہے۔
خیال رہے کہ حکومت نے جماعت اسلامی، تحریک انصاف اور کسان اتحاد کے لانگ مارچ اسلام آباد داخلے سے روکنے کے اقدامات بھی کر رکھے ہیں۔ وفاقی دارالحکومت میں کنٹینروں کی بڑی تعداد پہنچا دی گئی ہے۔
پولیس اہلکار بھی دوسرے شہروں سے ہزاروں کی تعداد میں وفاقی دارالحکومت پہنچ چکے ہیں۔ البتہ ابھی تک کسان اتحاد اور پی ٹی آئی نے اپنا لانگ مارچ شروع یا موخر کرنے کا اعلان نہیں کیا۔
