’مجھے میرا بچہ دو ورنہ میں یہاں سے نہیں اٹھوں گی یہیں بیٹھی رہوں گی۔‘
یہ کہنا ہے ایک غم زدہ ماں کا جن کا بچہ بدھ کو پمز ہسپتال میں لگنے والی آگ کے نتیجے میں جان سے گیا۔
یہ واحد متاثرہ خاتون نہیں ہیں بلکہ اس واقعے میں کل 14 بچوں کی موت ہوئی ہے۔
جویریہ سمیع اللہ نامی خاتون جو ہسپتال کے مدر اینڈ چائلڈ ہیلتھ وارڈ کے باہر بیٹھی ہیں اور اب بھی اپنے بچے کی منتظر ہیں۔
انہوں نے روتے ہوئے کہا کہ ’دو دن پہلے میرا سی سیکشن ہوا اور میں یہاں اس حالت میں بیٹھی ہوں۔‘
جویریہ نے وہاں موجود لوگوں سے اور انتظامیہ سے سوال کیا کہ ’کیسے کہہ سکتے ہیں کہ جل گئے ہیں بچے، ایک بندہ اور نہیں جلا؟
’یہ کہتے ہیں کہ ہم بڑے لوگوں کو بچا رہے تھے، کیوں بڑے لوگ پاؤں سے چل نہیں سکتے تھے۔ بچوں کو لاک لگا کر کے کہاں چلے گئے تھے؟‘
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
وہیں وارڈ کے باہر موجود ایک اور خاتون جو آگ کی زد میں آنے والی وارڈ کے ساتھ والے کمرے میں تھیں، کہتی ہیں کہ ’یہاں عملے کا کوئی بندہ نہیں ہے، فائربریگیڈ والے دو گھنٹوں کے بعد آئے اور نرسری میں بچے جل گئے۔‘
انہوں نے کہا کہ ’ہم تو بچوں کو لے کر بھاگے ہیں۔ کچھ سمجھ ہی نہیں آ رہی تھی، آدھا سامان تو اندر ہی رہ گیا۔‘
ایسے ہی تاثرات تقریباً وہاں موجود دیگر والدین کے بھی تھے جو یہ الزام بھی لگا رہے تھے کہ جب آگ لگی تو وارڈ کے دروازے بند تھے اور وہاں کوئی موجود نہیں تھا۔
ان میں سے ایک الزام کی تصدیق تو خود فائربریگیڈ کے عملے میں شامل یاسر علی نامی فائر فائٹر نے بھی کی۔ جن کا کہنا تھا کہ جب وہ وہاں پہنچے تو وارڈ سے ہنگامی صورت حال میں باہر نکلنے کے لیے بنائے گئے دروازے بند تھے۔
یاسر علی نے کہا کہ دروازہ بند ہونے کے باعث انہیں کھڑکیاں اور دیوار توڑ کر اندر جانا پڑا۔
وہیں پر موجود ایک اور خاتون جن کی بھتیجی کی اس واقعے میں موت ہوئی نے سوال کیا کہ ’جب آگ لگی تو عملہ کہاں تھا۔‘
’ویسے تو کہتے ہیں کہ ’ڈاکٹر موجود ہے، نرسیں موجود ہیں۔ تو وہ عملہ کہاں تھا، عملے کا کوئی کیوں نہیں مرا؟‘
انہوں نے کہا کہ ’ہماری تین دن کی بچی تھی۔ ہمیں دکھا ہی نہیں رہے ہیں۔ کہتے ہیں کہ بعد میں پتا کیجیے گا۔‘
’جن کے بچے جاتے ہیں تو کیا وہ بعد میں پتا کرتے ہیں؟‘
