مکہ دفاعی معاہدے میں شمولیت پر غور کر رہے ہیں: شام

شام کے وزیر خارجہ نے ہفتے کو کہا ہے کہ ان کا ملک ترکی، سعودی عرب اور پاکستان پر مشتمل نیٹو طرز کے مکہ دفاعی اتحاد میں شمولیت پر غور کر رہا ہے۔

یمنی حوثیوں کے شدید حملوں کا سامنا کرنے والا سعودی عرب شام کی موجودہ حکومت کا اہم حامی ہے جو دسمبر 2024  میں سابق حکمران بشار الاسد کے اقتدار کے خاتمے کے بعد برسراقتدار آئی تھی۔

انڈپینڈنٹ اردو کا واٹس ایپ گروپ یہاں جوائن کریں

شام کے وزیر خارجہ أسعد الشيباني نے بحرین میں منامہ ڈائیلاگ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ’مکہ اتحاد میں شام کی شمولیت کا جائزہ لینے کے لیے اس وقت بات چیت جاری ہے۔‘

سعودی عرب حوثیوں کے بڑھتے ہوئے حملوں کے خلاف حمایت حاصل کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ان حملوں میں رواں ماہ ہونے والا ایک بڑا حملہ بھی شامل ہے جس کے باعث ریاض کا بین الاقوامی ہوائی اڈہ دو ہفتوں تک بند رہا۔

اگست 2026 میں سعودی عرب، پاکستان اور ترکی نے اسلام کے مقدس ترین شہر مکہ میں ایک دفاعی معاہدے پر دستخط کیے تھے جس کے تحت تینوں میں سے کسی ایک ملک پر حملے کو تمام ممالک پر حملہ تصور کیا جائے گا۔

پاکستان اور ترکی نے ایران کے حمایت یافتہ حوثیوں کے خلاف کسی حملے کا اعلان نہیں کیا ہے۔

رواں ماہ کے آغاز میں فرانس کے صدر ایمانوئل میکروں نے ریاض کا اچانک دورہ کیا تھا اور کہا تھا کہ فرانس نے سعودی عرب کی تیل کی ایک اہم تنصیب کو حوثیوں کے حملوں سے محفوظ رکھنے میں مدد کے لیے فوجی دستے بھیجے ہیں۔

اکتوبر ہی میں برطانوی حکومت نے بھی اعلان کیا تھا کہ وہ سعودی عرب کو ان حملوں سے نمٹنے میں مدد فراہم کرنے کے لیے اپنے لڑاکا طیارے تعینات کرے گی۔


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *