مشرق وسطیٰ میں جنگ بندی کے بعد پاکستان ایران تجارت بحالی کے راستے پر

مشرق وسطیٰ میں جنگ بندی کے بعد پاکستان اور ایران کے درمیان تجارت کو فروغ دینے میں کافی سرگرمی دکھائی دے رہی ہے۔

بلوچستان کے ضلع کیچ میں ڈیڑھ سال سے بند بارڈر کو اگلے ماہ یعنی جولائی میں تجارت کے لیے کھول دیا جائے گا۔ اسی طرح گوادر سے ایران ٹرانزٹ ٹریڈ کے لیے مختصر ترین راہداری کو فعال کیا جا رہا ہے۔

ڈپٹی کمشنر کیچ یاسر اقبال دشتی نے میڈیا کو بریفنگ کے دوران بتایا کہ کیچ میں کراسنگ پوائنٹ کھولنے کے حوالے سے ایرانی حکام کے ساتھ اتفاق ہو گیا ہے اور جولائی میں جالگی بارڈر کراسنگ پوائنٹ سے باقاعدہ سرحدی تجارتی سرگرمیوں کا آغاز ہو جائے گا۔

اس سلسلے میں چند تکنیکی امور کو حتمی شکل دی جا رہی ہے۔ یاسر دشتی کے مطابق پاکستانی اور ایرانی حکام کے ساتھ مذاکرات کامیابی سے مکمل ہو چکے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ گزشتہ ڈیڑھ سال سے سرحد بند تھی جس سے دونوں جانب کے عوام اور تاجروں کو معاشی مشکلات کا سامنا تھا۔

انہوں نے کہا کہ تمپ میں سوراب بارڈر کراسنگ پوائنٹ بحال ہے، اسی طرح پنجگور میں جیرک کراسنگ پوائنٹ کو عارضی طور پر کھول دیا گیا ہے۔ یاسر دشتی کے مطابق جیسے جیسے تجارت کا تسلسل وقت کے ساتھ جاری ہو جائے گا تو دیگر پوائنٹس کو کھولنے کے لیے بھی اقدامات کیے جائیں گے۔

گوادر پورٹ اتھارٹی (جی پی اے) نے ایران کے ساتھ ٹرانزٹ تجارت کے لیے سی جی او 05/2026 کے تحت رہنما ہدایات جاری کی ہیں، جن میں گوادر بندرگاہ سے گبد-ہمدان سرحدی گزرگاہ کے ذریعے ایران تک سامان کی ترسیل کے طریقہ کار اور دستیاب سہولتوں کی تفصیلات بیان کی گئی ہیں۔ ہدایات کے مطابق یہ عمل قانونی تقاضوں اور کسٹمز کی نگرانی میں انجام دیا جائے گا۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

گوادر بندرگاہ سے گبد سرحد تک فاصلہ 87 کلومیٹر ہے، جو ایران تک مال برداری کے لیے مختصر ترین زمینی راستہ ہے۔

چیئرمین گوادر پورٹ اتھارٹی نور الحق بلوچ کے مطابق سامان کی نقل و حمل کے لیے کسٹمز کی متعدد سہولتیں فراہم کی جائیں گی، جن میں ٹی ٹی آئی کارنیٹ سکیورٹی کے ساتھ ٹرانزٹ گڈز ڈیکلریشن اور کراس اسٹف طریقہ کار شامل ہیں۔

نور الحق بلوچ کے مطابق اس اقدام سے تاجروں، درآمد کنندگان، ٹرانسپورٹروں، کسٹمز کلیئرنگ ایجنٹس اور گوداموں سے متعلق شعبوں سے وابستہ کاروباری اداروں کے لیے نئے تجارتی مواقع پیدا ہوں گے۔

بلوچستان کے پانچ اضلاع کی سرحدیں ایران کے ساتھ ملتی ہیں، جن میں چاغی، واشک، پنجگور، کیچ اور گوادر شامل ہیں۔ ضلع گوادر کی زمینی اور سمندری سرحد ایرانی بارڈر سے ملتی ہے، جبکہ تفتان، رمدان، گبد، جیرک، جالگی اور سوراب ایسے کراسنگ پوائنٹس ہیں جن کے ذریعے ایران اور پاکستان کے درمیان باقاعدہ تجارت ہوتی ہے، جب کہ ماشکیل، گوادر، پنجگور، تفتان اور دیگر علاقوں کو ایران سے بجلی کی فراہمی بھی کی جاتی ہے۔

بلوچستان کے اکثر لوگوں کی زندگی کا دار و مدار ایران بارڈر پر تجارت اور وہاں سے آنے والی اشیائے خوردونوش پر ہے۔ بارڈر بند ہونے کی صورت میں ان علاقوں میں معاشی مشکلات جنم لیتی ہیں۔


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *