مسلسل آٹھ شکستوں کے بعد پاکستان کی ویسٹ انڈیز میں پہلی ٹیسٹ فتح

پاکستان نے بدھ کو ویسٹ انڈیز کو دوسرے اور آخری ٹیسٹ میچ کے چوتھے روز آٹھ وکٹوں سے شکست دے کر ٹیسٹ سیریز 1-1 سے برابر کر دی۔

پہلے ٹیسٹ میں 90 رنز سے شکست کے بعد مہمان ٹیم کو جیت کے لیے آج صرف 75 رنز کا ہدف ملا تھا کیونکہ میزبان ویسٹ انڈیز کی ٹیم، جو کل دوسری اننگز میں 103 رنز پر چھ وکٹیں گنوا چکی تھی، دن کے کھیل کے آغاز کے صرف آدھے گھنٹے بعد 117 رنز پر آؤٹ ہو گئی۔

عبداللہ شفیق اور کپتان بابر اعظم نے ٹیم کو فتح سے ہمکنار کیا۔ اس سے قبل اوپنرز امام الحق اور اذان اویس فاسٹ بولرز جیڈن سیلز اور شِمار جوزف کا شکار بنے۔

بابر نے سپنر جومیل وریکان کو مسلسل دو چھکے لگا کر پاکستان کی فتح پر مہر ثبت کی۔

یہ کامیابی پاکستان کے لیے کیریبین کے آخری دورے (2021) جیسا نتیجہ لے کر آئی، جب پاکستان نے پہلے ٹیسٹ میں شکست کے بعد دوسرے میچ میں کامیابی حاصل کر کے سیریز برابر کی تھی۔

اس وقت دونوں میچ جمیکا کے سبینا پارک، کنگسٹن میں کھیلے گئے تھے۔

دونوں ٹیموں کے درمیان پاکستان میں آخری مقابلہ بھی جنوری 2025 میں ملتان میں کھیلے گئے دو ٹیسٹ میچز پر مشتمل تھا، جو 1-1 سے برابر رہا تھا۔

یہ میچ عبداللہ شفیق کے لیے ذاتی طور پر ایک بڑی کامیابی ثابت ہوا۔

وہ اصل دورہ کرنے والے سکواڈ کا حصہ نہیں تھے اور زخمی شان مسعود کی جگہ گذشتہ ہفتے ہی ٹیم میں شامل کیے گئے تھے۔

ان کی ناقابل شکست 160 رنز کی اننگز پاکستان کی پہلی اننگز کے 387 رنز کے مجموعے کی بنیاد بنی۔ یہ کوئنز پارک اوول میں پاکستان کی 1977 کے بعد پہلی ٹیسٹ فتح بھی ہے۔

اس وقت کپتان مشتاق محمد کی آل راؤنڈ کارکردگی کی بدولت پاکستان نے پانچ ٹیسٹ میچوں کی سیریز کے چوتھے میچ میں کامیابی حاصل کر کے سیریز برابر کی تھی۔

تاہم ویسٹ انڈیز نے کنگسٹن میں فیصلہ کن میچ جیت کر سیریز 2-1 سے اپنے نام کر لی تھی۔

ٹیسٹ کے پہلے روز تجربہ کار فاسٹ بولر محمد عباس کو ٹیم سے باہر رکھنے کے فیصلے پر ہونے والی بحث کو ایک طرف رکھتے ہوئے پاکستان نے کامیابی اپنے دو اہم سپنرز کی شاندار کارکردگی کی بدولت حاصل کی۔

آف سپنر ساجد خان نے، جنہیں پہلے ٹیسٹ میں شامل نہیں کیا گیا تھا، واپسی کا بھرپور فائدہ اٹھاتے ہوئے میچ میں 117 رنز دے کر آٹھ وکٹیں حاصل کیں۔

تاہم آخری روز انہیں بولنگ کی ضرورت پیش نہیں آئی کیونکہ دوسرے سپنر، بائیں ہاتھ کے آرتھوڈوکس بولر علی عثمان نے گرنے والی آخری تین میں سے دو وکٹیں حاصل کر کے اننگز میں چار وکٹیں 39 رنز کے عوض حاصل کیں۔

انہوں نے میچ میں مجموعی طور پر 119 رنز دے کر چھ وکٹیں حاصل کیں۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ویسٹ انڈیز کو باقاعدہ اوپننگ بلے باز برینڈن کنگ کی عدم موجودگی کا نقصان اٹھانا پڑا، جو گذشتہ روز پاکستان کے کپتان بابر کو 88 رنز پر رن آؤٹ کرنے کی کوشش کے دوران کمر میں کھچاؤ کے باعث بیٹنگ نہیں کر سکے۔

ساجد خان نے تیسرے روز کے اختتام پر ویسٹ انڈیز کی دوسری اننگز کے خاتمے میں اہم کردار ادا کرتے ہوئے 32 رنز دے کر چار وکٹیں حاصل کی تھیں۔

تاہم بابر نے چوتھے روز علی عثمان اور فاسٹ بولر محمد علی کے امتزاج سے باقی کام مکمل کرنے کا فیصلہ کیا۔

میزبان ٹیم کے نچلے نمبروں کے بلے بازوں کے خراب شاٹ انتخاب نے بھی پاکستان کی مدد کی۔

کیمار روچ، جنہوں نے پہلی اننگز میں آخری نمبروں پر مزاحمت دکھائی تھی، علی عثمان کی جانب سے کرائی گئی دوسری گیند پر بڑا شاٹ کھیلنے کی کوشش میں صفر پر بولڈ ہو گئے۔

جسٹن گریوز، جو ویسٹ انڈیز کی جانب سے مزاحمت کی آخری امید تھے، محمد علی کی گیند پر پل شاٹ کھیلنے کی کوشش میں گیند اپنے ہی مڈل سٹمپ پر کھیل بیٹھے۔

اننگز کا اختتام اس وقت ہوا جب جوزف، جو پہلے ہی دو چوکے لگا چکے تھے، علی کی گیند پر ایک اور بڑا شاٹ کھیلنے کی کوشش میں گیند ہوا میں اچھال بیٹھے اور وکٹ کیپر محمد رضوان نے آسان کیچ لے لیا۔

پاکستان کی یہ فتح بیرون ملک مسلسل آٹھ ٹیسٹ میچز میں شکست کے سلسلے کے خاتمے کا باعث بھی بنی، جو دسمبر 2023 میں پرتھ میں آسٹریلیا کے ہاتھوں 360 رنز کی شکست سے شروع ہوا تھا۔


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *