اسرائیل کی فوج نے پیر کو تصدیق کی ہے کہ سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ایک تصویر، جس میں جنوبی لبنان میں ایک اسرائیلی فوجی کو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے مجسمے پر حملہ کرتے دکھایا گیا ہے، اصلی ہے۔
تصویر میں بظاہر ایک اسرائیلی فوجی کو ہتھوڑے سے مجسمے کے سر پر ضرب لگاتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔
یہ مجسمہ جنوبی لبنان کے گاؤں ڈبل میں واقع ہے، جو اسرائیلی سرحد کے قریب ہے۔ مقامی بلدیہ کے مطابق مجسمہ وہاں موجود ہے، تاہم حکام یہ نہیں بتا سکے کہ اسے کتنا نقصان پہنچا۔
اسرائیلی فوج نے اپنے سرکاری سوشل میڈیا اکاؤنٹ پر کہا کہ وہ اس واقعے کو ’انتہائی سنجیدگی‘ سے دیکھتی ہے اور یہ کہ ’فوجی کا طرز عمل فوجی اقدار کے بالکل برعکس ہے۔‘
فوج کے مطابق ابتدائی تحقیقات کے بعد تصدیق ہوئی کہ تصویر میں دکھایا گیا شخص واقعی جنوبی لبنان میں تعینات ایک اسرائیلی فوجی ہے۔
اس واقعے کی تحقیقات شمالی کمانڈ کر رہی ہے اور معاملہ کمانڈ چین کے ذریعے نمٹایا جا رہا ہے۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
فوج نے کہا کہ ملوث افراد کے خلاف ’مناسب کارروائی‘ کی جائے گی، تاہم مزید تفصیلات نہیں بتائی گئیں۔
فوج نے یہ بھی کہا کہ وہ مقامی لوگوں کے ساتھ مل کر مجسمے کو دوبارہ اپنی جگہ پر بحال کرنے کا کام کر رہی ہے۔
اسرائیلی وزیر خارجہ گدعون ساعر نے اس عمل کو ’شرمناک اور قابلِ مذمت‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ملوث افراد کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔
لبنان مارچ کے اوائل میں مشرق وسطیٰ کی جنگ میں اس وقت شامل ہوا جب حزب اللہ نے ایران کی حمایت میں اسرائیل پر راکٹ حملے کیے، جس کے جواب میں اسرائیل نے لبنان بھر میں شدید فضائی حملے اور جنوبی علاقوں میں زمینی کارروائی شروع کی۔
دونوں ممالک کے درمیان جمعے کو جنگ بندی ہونے کے باوجود اسرائیلی افواج جنوبی لبنان میں اب بھی موجود ہیں۔
