قربانی کے بکرے خریدتے وقت کن باتوں کا خیال رکھنا چاہیے؟

پاکستان سمیت دنیا بھر میں عید الاضحی کی تیاریاں جاری ہیں جس میں سب سے اہم فریضہ قربانی ہوتا ہے اور اس کی ادائیگی کے لیے جانور کا انتخاب اور خریداری ایک مشکل عمل سمجھا جاتا ہے۔

ان دنوں پاکستانیوں کی بڑی تعداد اس فریضے کی ادائیگی کے لیے قربانی کے جانوروں کی خریداری میں مصروف ہیں۔

حکومت پنجاب نے لاہور شہر کے اطراف چار بڑی منڈیاں قائم کر رکھی ہیں، جہاں بکرے، چھترے اور بڑے جانور کی کثیر تعداد فروخت کے لیے موجود ہے۔

تاہم سوال یہ ہے کہ آخر بکرا خریدتے وقت کن چیزوں کو دیکھنا اور کن باتوں کا خیال رکھنا چاہیے؟

لاہور کی سب سے بڑے مویشی منڈی شاہ پور کانجراں میں سیالکوٹ سے سو کے قریب بکرے فروخت کے لیے لانے والے بیوپاری محمد فراز نے انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو میں بتایا کہ ’اچھا اور خوبصورت بکرا خریدتے ہوئے سب سے پہلے تو مختلف رنگ اور نسل کو دیکھا جاتا ہے، پھر اس کا وزن اور قد دلچسپی کا سبب بنتا ہے۔‘

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

بکرے کی عمرے کا تعین کے کا طریقہ بتاتے ہوئے کہا کہ ’دو دانت ایک سال، چار دانت دو سال جبکہ سامنے کے چھے دانت والے بکرے کی عمر تین سال ہوتی ہے۔ دو یا چار دانت والے بکرے کا گوشت سب سے لذیز ہوتا ہے۔ پھر نسلی بکرے کے گوشت سے مہک بھی اچھی آتی ہے۔‘

ایک اور بیوپاری محمد شکیل نے بتایا کہ ’اچھا بکرا چیک کرنے کے لیے سب سے پہلے اسے دم والی سائیڈ سے پٹھ کو ہاتھ ڈال کر اندازہ لگایا جاتا ہے۔ پھر سینے کے نیچے اگلی ٹانگ کے اوپر ہاتھ لگا کر چربی کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔

’جس بکرے کا پیٹ بڑا ہو اس میں اوجڑی بڑی جبکہ گوشت کم نکلتا ہے۔ لمبے کانوں والی نسل اور چھوٹے سینگھ کے بکرے لوگوں کی زیادہ دلچسپی حاصل کرتے ہیں۔‘

انہوں نے ایک دلچسپ بات بتائی کہ ’بکروں میں شوگر فری بکرے بھی ہوتے ہیں جو کھلے عام چر کر یعنی مرضی سے کھا پی کر پلتے ہیں۔

’ان میں اگرچہ گوشت کم نکلتا ہے لیکن وہ خاص خوراک کھلا کر پالے گئے بکروں سے لذیز گوشت رکھتے ہیں ان میں شوگر بھی نہیں ہوتی۔ ایسے بکروں کی نشانی یہ ہے کہ وہ پھرتیلے اور ایکٹو زیادہ ہوتے ہیں۔ انہیں سنبھالنا بھی فارم کے بکروں کی نسبت مشکل ہوتا ہے۔‘


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *