امریکہ کے وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے جمعرات کو کہا ہے کہ امریکی فوج کے پاس اتنے وسائل موجود ہیں کہ وہ غیر معینہ مدت تک ایران کی بحری ناکہ بندی برقرار رکھ سکے۔
انہوں نے کہا کہ ضرورت کے مطابق بحری جہازوں کو خطے میں لایا اور لے جایا جا سکتا ہے۔
پیٹ ہیگستھ کے بیانات سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو مشورہ دے رہے ہیں کہ امریکی فوج ایران پر اس وقت تک معاشی دباؤ برقرار رکھ سکتی ہے جب تک اس کی ضرورت ہو، تاکہ فروری میں شروع ہونے والے تنازعے کو ختم کرنے کے لیے اب تک ناکام رہنے والے مذاکرات میں مدد مل سکے۔
روئٹرز کے مطابق ہیگستھ نے صحافیوں کو بتایا: ’امریکی بحریہ اس طرح کی ناکہ بندی غیر معینہ مدت تک برقرار رکھ سکتی ہے۔ ہم بحری جہازوں کو لاتے اور لے جاتے رہیں گے، جیسا کہ ہم نے کیا ہے اور ہم ایسا کرتے رہیں گے۔‘
انہوں نے پانامہ میں یو ایس ایس گرڈلی نامی گائیڈڈ میزائل ڈسٹرائر پر سوار عملے سے خطاب کے بعد یہ بات کہی، جسے اس سے قبل مشرق وسطیٰ میں تعینات کیا گیا تھا۔
ٹرمپ نے بدھ کو کہا تھا کہ امریکہ کا آبنائے ہرمز پر کنٹرول ہے۔
انہوں نے اپنے ٹروتھ سوشل پلیٹ فارم پر لکھا: ’امریکہ کا آبنائے ہرمز پر مکمل کنٹرول ہے۔ مجھے لگتا ہے کہ ہم اسے برقرار رکھیں گے! ہر کوئی ہماری بحری ناکہ بندی کو ’سٹیل کی دیوار‘ کہہ رہا ہے اور ایران اس حوالے سے کچھ نہیں کر سکتا۔‘
ایران کو مکمل معاشی تنہائی کا شکار کر دیں گے: امریکی وزیر خزانہ
دوسری جانب اے ایف پی کے مطابق امریکی وزیر خزانہ سکاٹ بیسنٹ نے جمعرات کو دھمکی دی کہ وہ ایران کو ایسی معاشی تنہائی کا شکار کر دیں گے ’جیسی دنیا نے پہلے کبھی نہیں دیکھی ہو گی۔‘ انہوں نے مزید کہا کہ اگلے ہفتے نئے اقدامات متوقع ہیں۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
بیسنٹ نے قدامت پسند ٹیلی ویژن نیٹ ورک نیوز میکس کو بتایا کہ ’یہ ایسی معاشی تنہائی کا مجموعہ ہو گا، جیسی دنیا نے پہلے کبھی نہیں دیکھی ہو گی۔‘
انہوں نے مزید کہا کہ ’آبنائے ہرمز میں مسلسل ناکہ بندی۔ ایرانی بندرگاہوں میں کسی بھی چیز کے آنے یا جانے کو روکے گی۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’اگلے ہفتے آنے والے مزید اعلانات کے لیے اس پر نظر رکھیں۔‘
امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے اس سے قبل کہا تھا کہ ایران جنگ میں امریکہ کی اولین ترجیح امریکیوں کے لیے تیل کی قیمتوں کو کم کرنا ہے، جبکہ تہران کو ایٹمی ہتھیار حاصل کرنے سے روکنا اب دوسرے نمبر پر ہے۔
یہ سخت موقف بیسنٹ کے چار اگست کے بیانات سے متصادم ہے، جب انہوں نے سی این بی سی کو بتایا تھا کہ آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے لیے تہران کے ساتھ چند دنوں میں معاہدہ طے پا سکتا ہے۔
ان بیانات سے وال سٹریٹ میں تیزی آئی اور تیل کی قیمتوں میں کمی واقع ہوئی۔
