عمر بڑھنے کے ساتھ دن چھوٹے کیوں محسوس ہوتے ہیں؟

’وقت اڑتا جا رہا ہے۔‘ یہ ایک ایسا جملہ ہے جو آپ نے شاید سنا بھی ہوگا اور خود بھی کہا ہوگا۔ ہفتے، مہینے اور سال گزرتے جاتے ہیں اور یوں محسوس ہوتا ہے کہ زندگی تیزی سے آگے بڑھ رہی ہے، لیکن کیا واقعی عمر بڑھنے کے ساتھ وقت تیزی سے گزرنے لگتا ہے؟

محققین کئی برس سے اس بات کا جائزہ لے رہے ہیں کہ عمر بڑھنے کے ساتھ وقت تیزی سے گزرنے کا احساس کیوں پیدا ہوتا ہے۔ 2019 میں کیمبرج یونیورسٹی پریس میں شائع ہونے والی ایک تحقیق میں اسے ذہنی وقت اور ’ذہنی طور پر محسوس کیے جانے والے وقت اور گھڑی کے وقت میں عدم مطابقت‘ قرار دیا گیا۔

تحقیق کے مطابق: ’گھڑی کا وقت اور انسانی ذہن کا محسوس کیا ہوا وقت ایک جیسا نہیں ہوتا۔‘ گھڑی کا وقت 24 گھنٹے کے دن پر مشتمل ہوتا ہے جبکہ ’ذہنی وقت‘ ہماری زندگی میں جمع ہونے والی یادوں، تجربات اور ذہنی تصاویر سے تشکیل پاتا ہے۔

ذہنی صحت سے متعلق ادارے ریچ لنک نے پانچ ممکنہ عوامل کی نشاندہی کی ہے، جو عمر بڑھنے کے ساتھ وقت تیزی سے گزرنے کے احساس میں کردار ادا کر سکتے ہیں، جس میں پہلا عنصر ’تناسب کے نظریے‘ (Proportional Theory) کے نام سے جانا جاتا ہے۔

10 سال کی عمر میں زندگی کا ایک سال اب تک گزرنے والی زندگی کا 10 فیصد ہوتا ہے، لیکن 50 سال کی عمر میں یہی ایک سال زندگی کے تجربے کا صرف 2 فیصد رہ جاتا ہے۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

تناسب کے نظریے کی بنیادی بات یہی ہے کہ زندگی کا ہر نیا سال ہماری مجموعی زندگی کے مقابلے میں نسبتاً کم حصہ بنتا جاتا ہے۔

کمپنی نے وقت کے تیزی سے گزرنے کا ایک اور سبب نئے پن کی کمی (Novelty Deficit) کو قرار دیا ہے۔

نئے پن کی کمی سے مراد یہ تصور ہے کہ انسانی یادداشت وقت کو یکساں انداز میں محفوظ نہیں کرتی بلکہ نمایاں اور منفرد واقعات کو زیادہ یاد رکھتی ہے۔ جب ہفتوں اور مہینوں تک روزمرہ معمول تقریباً ایک جیسا رہے تو مختلف ادوار کو ایک دوسرے سے الگ کرنے والی نئی یادیں کم بنتی ہیں۔ نتیجتاً، ماضی پر نظر ڈالنے پر وقت زیادہ تیزی سے گزرا ہوا محسوس ہو سکتا ہے۔

اس کے بعد توجہ کا کسی کام میں مکمل طور پر جذب ہو جانا (Attention Absorption) آتا ہے۔

 یہ اس وقت ہوتا ہے جب دماغ مانوس یا معمول کے کام کرتے ہوئے خودکار انداز میں کام کرنے لگتا ہے اور ہمیں وقت گزرنے کا احساس کم ہوتا ہے۔

جب انسان کسی کام میں پوری طرح مصروف ہو تو اس کی ذہنی توجہ دوسری جانب مرکوز ہوتی ہے، اس لیے گھڑی دیکھنا ثانوی حیثیت اختیار کر لیتا ہے۔

جذباتی کیفیت کا مدھم پڑ جانا بھی ایک اور عنصر ہے۔ خوف، بے چینی اور جوش جیسے شدید جذبات انسان کے ذہن پر دیرپا اثر چھوڑتے ہیں۔ اس کے برعکس ذہنی تھکن، دباؤ اور یکسانیت وقت کو سمٹا ہوا محسوس کروا سکتے ہیں، کیونکہ ان کے نتیجے میں ایسی یادیں بنتی ہیں جو کم نمایاں اور ایک دوسرے سے ملتی جلتی ہوتی ہیں۔

پانچواں عنصر ڈوپامین ہے، جو دماغ میں تحریک، انعام اور وقت کے احساس سے متعلق مختلف عمل میں کردار ادا کرنے والا کیمیائی مادہ ہے۔

عمر کے ساتھ ڈوپامین کی سطح میں تبدیلی آ سکتی ہے اور ریچ لنک کے مطابق یہ تبدیلی بھی اس احساس میں کردار ادا کر سکتی ہے کہ وقت تیزی سے گزر رہا ہے۔

اس سب کو مدنظر رکھتے ہوئے، آپ وقت کو قدرے سست محسوس کرنے اور زندگی کے بعد کے مراحل میں بننے والے معمولات کے درمیان نئے لمحات اور یادیں پیدا کرنے کے لیے کچھ اقدامات کر سکتے ہیں۔

مکینیکل انجینیئرنگ کے پروفیسر اور Time and Beauty: Why Time Flies and Beauty Never Dies کے مصنف ایڈرین بیجان نے اس سے قبل دی انڈپینڈنٹ سے گفتگو میں کہا تھا: ’رفتارِ زندگی کو کچھ سست کریں اور خود کو معمول کے دائرے سے نکلنے کے لیے نئی چیزیں کرنے پر مجبور کریں۔‘

کیمبرج یونیورسٹی پریس کی تحقیق کے مصنف ایڈریان بیجان نے مزید کہا: ’اپنے لیے خوشگوار حیرت کے مواقع پیدا کریں۔ معمول سے ہٹ کر کام کریں۔ ’کوئی اچھا لطیفہ سنا ہے؟ مجھے بتاؤ! کیا تمہارے پاس کوئی نیا آئیڈیا ہے؟ کچھ کریں، کچھ بنائیں، کچھ کہیں۔‘


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *