عالمی یوم پارلیمان: ہم کہاں کھڑے ہیں؟

آج یعنی 30 جون کو دنیا میں یوم پارلیمان منایا جا رہا ہے۔ سوال یہ ہے کہ اس پارلیمانی سفر میں ہم کہاں کھڑے ہیں؟ ہماری کیا کارکردگی رہی ہے، ہم نے کیا حاصل کیا اور ہماری کامیابیوں اور ناکامیوں کا میزانیہ کیا ہے؟

لیکن اس سوال کا جواب ملامت اور خود ستائشی کی دو متضاد انتہاؤں سے دور رہ کر تلاش کرنے کی ضرورت ہے۔

جب ہم پاکستان کی پارلیمانی تاریخ پر ایک نظر ڈالتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ یہ اگر زیادہ روشن نہیں تو اتنی تاریک بھی نہیں۔

کہیں کہیں قابل تعریف چیزیں بھی ملتی ہیں اور کہیں کہیں کچھ مقاماتِ آہ و فغاں بھی آتے ہیں۔ ہر دو کا جائزہ لے کر ہی متوازن رائے قائم کی جا سکتی ہے۔

ہمارا پارلیمانی سفر جیسا بھی تھا، ایک چیز خوش آئند ہے کہ سماج کے شعور اجتماعی نے غیر پارلیمانی بندوبست کو قبول نہیں کیا۔

آمریتوں کے طویل ادوار بے شک رہے، لیکن سماج کو جب بھی موقع ملا، وہ واپس پارلیمانی نظام کی طرف پلٹ آیا۔

راستہ بے شک ہموار نہیں تھا، لیکن پارلیمانی سفر جیسے تیسے جاری رہا۔ اس کی شکل بھی اکثر اوقات بلا شبہ مثالی نہ رہ  لیکن یہ سفر رکا نہیں۔

سارے مسائل کے باوجود بات آگے ہی بڑھی، پیچھے نہیں گئی۔ پہلے عام انتخابات بہت تاخیر سے ہوئے، مگر اس کے بعد جیسے تیسے بھی سہی، انتخابات ہوتے رہے۔

سیاسی تلخیاں بھی رہیں، مگر پھر میثاقِ جمہوریت کی شکل میں ان غلطیوں کا ازالہ بھی ہوا۔ اسی کا نام ارتقا ہے۔

پارلیمانی سفر کی اس دھوپ چھاؤں میں ہماری پارلیمان کا سب سے بڑا کارنامہ ہمارا آئینی ڈھانچہ ہے، جو دنیا میں اپنی نوعیت کا واحد اور منفرد پارلیمانی تجربہ تھا۔ ہماری پارلیمان کا تذکرہ اس کارنامے کے بغیر ادھورا ہے۔

اس آئینی ڈھانچے کے مطابق پاکستان ایک جمہوری ریاست ہے، مگر یہ عام مروجہ جمہوریت نہیں بلکہ اسلامی جمہوریہ ہے۔ پھر یہ کہ بھلے یہ اسلامی جمہوریہ ہے لیکن یہاں تھیوکریسی یعنی ملائیت نہیں ہے۔

پاکستان میں قانون سازی قرآن و سنت کے مطابق ہو گی، لیکن یہ قانون سازی تھیوکریسی کے ذریعے نہیں بلکہ عوام کے منتخب نمائندوں کے ذریعے ہو گی۔

اور عوام کے منتخب نمائندے فیصلہ ساز تو ہوں گے لیکن ان کا اختیار لامحدود نہیں بلکہ محدود ہو گا اور وہ اس اختیار کو اللہ کی امانت سمجھ کر استعمال کریں گے۔

اسلامی ریاست کے حوالے سے یہ ایک منفرد تجربہ تھا، جس کی تفہیم میں بعض لوگوں کو مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور اکثر اوقات نظری مباحث اسی وجہ سے الجھ جاتے ہیں۔

کچھ کو لگتا ہے ہم اسلامی ریاست نہیں ہیں اور کچھ کو محسوس ہوتا ہے ہم جمہوری ریاست نہیں ہیں۔ سمجھنے کی بات یہ ہے کہ ہم اسلامی جمہوریہ ہیں۔

آئینی ڈھانچے اور آئین میں کافی فرق ہے۔ ڈھانچہ تو پارلیمان نے شاندار بنایا، لیکن آئین میں بہت سارے مسائل ہیں۔

پارلیمان نے اس پر اس طرح غور و فکر ہی نہیں کیا جو کیا جانا چاہیے تھا۔

آئینی ترامیم کیں تو کھڑے کھڑے کر دیں۔ پہلا متفقہ آئین بنا تو وہ بھی اس وقت بنا جب قوم مشرقی پاکستان کے سانحے کی وجہ سے صدمے میں تھی اور پارلیمان کی کوشش تھی کہ بس اب کسی نہ کسی طرح قوم کو متفقہ آئین دے دیا جائے۔

یہ اچھا کام تھا، مگر اس میں کچھ چیزیں نظر انداز ہو گئیں، جو آج تک نظر انداز ہو رہی ہیں۔

کہیں کہیں کاپی پیسٹ کا تاثر آتا ہے۔ کہیں کہیں پارلیمانی ہے، کہیں کہیں صدارتی ہے، کہیں کہیں شاہانہ اختیارات بھی ہیں۔

تھوڑا تھوڑا نوآبادیاتی بھی ہے۔ بہت کچھ ایسا ہے جو نظرِ ثانی کا محتاج ہے، لیکن پارلیمان کا المیہ یہ رہا کہ جب جب آئین سازی کی یا ترامیم کیں، اکثر کسی ہیجانی یا وقتی ضرورت کے تحت کیں اور ایک بامعنی مشاورتی عمل کا فقدان رہا۔

پارلیمان کی کارکردگی بھی ایک سوالیہ نشان ہی رہی۔ غیر معمولی مراعات کے باوجود پارلیمان میں عوام کو درپیش سنجیدہ مسائل پر کوئی سنجیدہ گفتگو کم ہی دیکھنے کو ملتی ہے۔

بالعموم جذباتیت اور سطحیت کا غلبہ رہتا ہے۔ پارلیمان جس سنجیدگی کی طالب ہے، وہ سنجیدگی ہمیشہ نایاب ہی رہی۔ کورم تک پورے نہیں ہوتے۔

پارلیمان پر جب سوال اٹھتا ہے تو اہل سیاست غیر پارلیمانی قوتوں کو اپنی ناکامی کا ذمہ دار ٹھہرا دیتے ہیں۔

یہ بات جزوی طور پر تو سچ ہو سکتی ہے مگر یہ مکمل سچ نہیں ہے۔ مکمل سچ یہ ہے کہ پارلیمان کی اس بے توقیری میں سب سے بڑا ہاتھ پارلیمان کا اپنا ہے۔

سب سے پہلی پارلیمان کو دیکھ لیجیے، دستور ساز اسمبلی۔ اس کا بنیادی کام ہی آئین بنانا تھا۔

1947 سے 1954 تک اس سے آئین نہیں بنایا گیا۔ اب تو پارلیمان کی مدت پانچ سال ہوتی ہے لیکن اس پارلیمان کی کوئی مدت ہی نہیں تھی۔

سات آٹھ سال میں یہ نہ آئین بنا سکی، نہ ہی ازراہِ مروت مستعفی ہو سکی کہ یہ آئین ہمارے بس کی بات نہیں۔ اس اسمبلی کو توڑ دیا گیا اور پھر ایک عدالتی کارروائی چلی، جو تاریخ کا حصہ ہے۔

قانون کے طالب علم کے طور پر میری رائے بھی یہی ہے کہ اس اسمبلی کو غلط اور غیر قانونی طریقے سے توڑا گیا اور اس پر عدالتی فیصلہ بھی غلط تھا۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

لیکن سوال یہ ہے کہ اگر یہ اسمبلی نہ توڑی جاتی تو کیا کوئی بتا سکتا ہے کہ یہ اکابرین خود معاملہ مزید کتنے سال اسمبلی میں تشریف فرما رہتے کہ عزیز ہم وطنو، ہم آئین بنا رہے ہیں؟

ان کی تو کوئی مدت ہی نہ تھی۔ شاید انہیں لگتا ہو کہ آئین بنا دیا تو ہماری مدت ختم ہو جائے گی، اس لیے بیٹھے رہو اور مزے کرو، آئین بنانے کی کیا ضرورت ہے؟

انڈیا کی پارلیمان اگر بہت جلد ہی آئین بنا سکتی تھی تو ہماری اسمبلی سات سالوں میں آئین کیوں نہ بنا سکی؟

کیا کوئی ضمانت ہے کہ یہ اکابرینِ کرام اگلے دس بیس سال بھی اسمبلی میں نہ بیٹھے رہتے کہ ہم ابھی تک آئین بنا رہے ہیں، اس لیے ہمیں تنگ نہ کیا جائے؟

ایک عذر پیش کیا جاتا ہے کہ شروع میں ہی قائدِ اعظم کا انتقال ہو گیا، اس لیے پارلیمان آئین نہ بنا سکی۔ یہ کمزور دلیل ہے کیونکہ قتل تو گاندھی کا بھی ابتدائی دنوں میں ہی ہو گیا تھا۔

1948 میں گاندھی قتل ہوئے اور 1949 میں انڈیا اپنا آئین بنا چکا تھا۔ ہمارے اکابرین 1954 تک آئین نہ بنا سکے۔ وہ آخر اس دوران کرتے کیا رہے؟

یہیں سے پارلیمان کی بے توقیری کا آغاز ہوا۔ ورنہ جو اہل سیاست قیام پاکستان کے بعد اس کی پہلی اسمبلی کا حصہ تھے، وہ اگر کارکردگی دکھا پاتے تو وہ اتنے کمزور تو نہ ہوتے کہ ان پر ایوب خان ایبڈو لگا دیتا۔

یہ ان کا اپنا نامۂ اعمال بھی تھا جس نے انہیں نامعتبر کیا۔ افسوس کہ یہ سلسلہ اب تک چل رہا ہے۔

پارلیمان ہمارے نمائندوں کا اجتماع ہے۔ وہ نہ فرشتے ہیں نہ شیاطین، وہ ہم جیسے ہیں۔

ان میں خوبیاں بھی ہیں اور خامیاں بھی۔ ہم ان کی خوبیوں کے معترف ہیں۔ اب انہیں بھی اپنی خامیوں کو تسلیم کر کے ان کی اصلاح کرنی چاہیے اور اس میں کیا کلام ہے کہ خوبیوں کا پلڑا ہلکا ہے، بہت ہلکا۔

نوٹ: یہ تحریر مصنف کی رائے پر مبنی ہے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *