’ضمیر کے تقاضوں پر استعفیٰ پیش کرتا ہوں‘: جسٹس محسن اختر کیانی

اسلام آباد ہائی کورٹ سے لاہور ہائی کورٹ منتقل ہونے والے جسٹس محسن اختر کیانی نے ’ضمیر کے تقاضوں‘، 26 ویں اور 27 ویں آئینی ترامیم کے باعث عدلیہ کی آزادی متاثر ہونے پر تحفظات اور صحت سمیت دیگر ذاتی وجوہات کی بنا پر اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے۔

انڈپینڈنٹ اردو کو موصول ہونے والے صدر پاکستان کے نام تحریری استعفے میں جسٹس محسن اختر کیانی نے مؤقف اختیار کیا کہ عدالتی اداروں پر انتظامیہ کا بڑھتا ہوا اثر ججوں کی تقرریوں اور تبادلوں تک پھیل چکا ہے، جس سے عدلیہ کی آزادی اور عدالتی عمل کی منصفانہ حیثیت پر عوام کے اعتماد کو شدید نقصان پہنچا۔

انہوں نے لکھا کہ ان حالات میں ان کا ضمیر انہیں مزید عدالتی منصب پر فائز رہنے کی اجازت نہیں دیتا۔

انڈپینڈنٹ اردو کا واٹس ایپ گروپ یہاں جوائن کریں

پاکستان کی اعلیٰ عدلیہ کے بعض جج حکومت کی حالیہ 26 اور27 ویں آئینی ترامیم پر تحفظات کا اظہار کرتے رہے ہیں۔

 سپریم کورٹ کے ساتھ آئینی عدالت کے قیام پر سپریم کورٹ کے سینئر ججز منصور علی شاہ اور جسٹس اطہر من اللہ نے 13 نومبر کو ایک ہی دن اپنے عہدوں سے استعفے دے دیے تھے۔

علاوہ ازیں ترامیم کے ذریعے ہائی کورٹس کے ججز کے دوسری ہائی کورٹس میں تبادلوں پربھی بعض جج تحفظات کا اظہار کرتے رہے ہیں۔

جسٹس محسن اختر کیانی کے استعفے کی وجوہات:

انڈپینڈنٹ اردو کو موصول جسٹس محسن اختر کیانی کے صدر پاکستان کو بھجوائے گئے تحریری استعفے کی کاپی میں کہا گیا ہے کہ ’میں جسٹس محسن اختر کیانی، ذاتی وجوہات، بشمول حالیہ سرجری کے بعد صحت سے متعلق مسائل اور ذیل میں بیان کردہ ضمیر کے تقاضوں کے باعث لاہور ہائی کورٹ کے جج کے عہدے سے اپنا استعفیٰ پیش کرتا ہوں۔

’اسلام آباد ہائی کورٹ اور لاہور ہائی کورٹ میں خدمات انجام دینا میرے لیے باعثِ اعزاز رہا ہے۔ عدالتی خدمات کے یہ سال میری زندگی کے سب سے بامقصد اور قابلِ اطمینان ادوار میں شمار ہوتے ہیں۔ دوران ملازمت میں نے مختلف نوعیت کے 23 ہزار سے زائد مقدمات کے فیصلے کیے۔

 اس دوران میری ہمیشہ یہ کوشش رہی کہ آئین کی بالادستی قائم رکھوں۔ بنیادی حقوق کا تحفظ کروں اور بلا خوف و طرف داری انصاف فراہم کروں۔‘

جسٹس کیانی نے استعفے میں لکھا کہ ’میری سوچی سمجھی رائے میں 26 اور27 ویں آئینی ترامیم کے ذریعے متعارف کرائی گئی تبدیلیوں نے ہائی کورٹس کی آزادی اور ادارہ جاتی خودمختاری کو متاثر کیا۔

 ’میں نے عدالتی اداروں پر انتظامیہ کے بڑھتے ہوئے کنٹرول کا مشاہدہ کیا ہے۔ جو ججوں کی تقرری اور تبادلوں تک پھیل چکا ہے۔

’میرے نزدیک اس قسم کی مداخلت نے عدلیہ کی آزادی اور عدالتی عمل کی منصفانہ حیثیت پر عوام کے اعتماد کو شدید نقصان پہنچایا۔

’خصوصی طور پر عام سائلین کی حالت زار میرے لیے باعث تشویش ہے۔ کیونکہ انصاف کے نظام میں وہ سب سے اہم فریق ہیں لیکن ان کی مشکلات بدستور برقرار ہیں۔

 ’انصاف کے حصول کے لیے آنے والے افراد کی ضروریات کو اکثر نظرانداز کیا گیا جبکہ بعض دوسرے عناصر اس نظام سے فائدہ اٹھانے لگے ہیں حالانکہ یہ نظام عوام کی خدمت کے لیے قائم کیا گیا تھا۔‘

جج نے لکھا کہ ’ان حالات میں میرا ضمیر مجھے مزید عدالتی منصب پر فائز رہنے کی اجازت نہیں دیتا۔

’یہ ایک تکلیف دہ فیصلہ ہے لیکن یہ میرے اس پختہ یقین کی عکاسی ہے کہ عدالتی منصب کو عدلیہ کی آزادی، آئین سے وفاداری اور انسانی وقار کے تحفظ سے الگ نہیں کیا جا سکتا۔

’لہٰذا میں سمجھتا ہوں کہ اب میرے لیے عدالتی منصب چھوڑ کر دوبارہ وکالت کے پیشے سے وابستہ ہونے کا وقت آ گیا ہے تاکہ میں عوام کی خدمت، ان کے حقوق کے تحفظ اور قانونی شعور کو فروغ دینے کا سلسلہ جاری رکھ سکوں۔‘

سابق صدر ہائی کورٹ بار میاں مقصود بٹر نے انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو میں کہا کہ ’جب سے حکومت نے 26 ویں ترمیم کے زریعے عدالیہ کو زیر اثر کرنے کی حکمت عملی اپنائی ہے۔

 ’میرٹ پر کام کرنے والے ججز اس نظام میں کام کرنے کی بجائے علیحدہ ہورہے ہیں۔ نئی قانون سازی کے بعد عدالتوں کو بے اختیار کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔

’جس سے نہ صرف عدالتی نظام متاثر ہورہا ہے بلکہ قانون کے مطابق غیر جانبداری سے فیصلے کرنے والے ججوں کی بھی کمی ہورہی ہے۔

ان حالات میں عوام کو انصاف ملنا یا طاقتور کو قانون کے تابع کرنا ایک خواب بنتا جارہا ہے۔ جس کے آنے والے دنوں میں نتائج مزید خراب ہوتے دکھائی دے رہے ہیں۔‘

جسٹس محسن کے فیصلے اور تعارف:

اسلام آباد ہائی کورٹ ریکارڈ کے مطابق جسٹس محسن اختر کیانی11 فروری 1970 کو اسلام آباد میں ایک ممتاز اور تعلیم یافتہ خاندان میں پیدا ہوئے۔  1994میں پنجاب یونیورسٹی سے ایل ایل بی کی ڈگری حاصل کی، 1996 میں  سیاسیات  میں  ایم اے، 2001 سے 2003  کے دوران کراچی یونیورسٹی سے ایل ایل ایم اور2005 میں پاکستان سٹڈیز میں ایم ایس سی کی ڈگری حاصل کی۔

 انہوں نے اپنی تعلیمی قابلیت میں مزید اضافہ کرتے ہوئے یونیورسٹی آف پشاور اور ناروے کے شہر اوسلو میں واقع یونیورسٹی کے نارویجین انسٹی ٹیوٹ آف ہیومن رائٹس کے اشتراک سے انسانی حقوق میں پوسٹ گریجویٹ ڈپلومہ بھی حاصل کیا۔

 جسٹس محسن اخترکیانی نے 1995 میں ضلعی عدالتوں میں وکالت کا آغاز کیا جبکہ 1997 میں ہائی کورٹ اور2009 میں سپریم کورٹ کے وکیل کی حیثیت سے انرول ہوئے۔

 اپنے قانونی کیریئر کے دوران وہ 1998 سے 1999 تک اسلام آباد ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن کے جوائنٹ سیکرٹری 2002سے 2003 تک جنرل سیکرٹری اور 2013 سے 2014 تک اسلام آباد ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر رہے۔

 انہیں 23 دسمبر 2015 کو اسلام آباد ہائی کورٹ کے جج کے طور پر تعینات کیا گیا جبکہ 2032 تک ان کی مدت ملازمت تھی۔

جسٹس محسن اختر کیانی عدالتی نظام کی مؤثر کارکردگی ادارہ جاتی احتساب اور شفافیت کے لیے اعلیٰ سرکاری حکام کو عدالت میں طلب کرنے کے حوالے سے جانے جاتے ہیں۔ 

انہوں نے بالخصوص جبری گمشدگیوں سے متعلق اہم مقدمات کی سماعت کی۔ وہ جبری گمشدگیوں کے واقعات کی روک تھام اور انصاف کی فراہمی کے لیے قانون سازی میں اصلاحات کے حامی رہے ہیں۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

 اس سلسلے میں انہوں نے جبری گمشدگیوں میں ملوث عناصر کے لیے سخت سزاؤں کی تجویز بھی دی، جو قانون کی حکمرانی اور انصاف کے تقاضوں سےمتعلق ان کے مؤقف کی عکاسی کرتی ہے۔

 ان کی پیشہ ورانہ زندگی قانون، عدلیہ، انسانی حقوق، ادارہ جاتی احتساب اور تعلیم کے مختلف شعبوں پر محیط ہے۔

محسن اختر کیانی کی عدالتی اور تعلیمی سرگرمیاں انصاف تک رسائی، قانونی اصلاحات اور عدالتی نظام کی بہتری سے متعلق ان کی دلچسپی کو نمایاں کرتی ہیں۔

جسٹس کیانی اسلام آباد ہائی کورٹ کے ان ججز میں بھی شامل تھے جنہوں نے سپریم جوڈیشل کونسل کو خط لکھا تھا کہ عدالتی امور میں خفیہ ادارے مرضی کے فیصلوں کے لیے رابطے کر کے دباو ڈالتے ہیں۔

اسلام آباد ہائی کورٹ میں مئی 2024 میں جسٹس محسن اختر کیانی کے خلاف گمنام شکایت دائر کی گئی تھی۔ جس پر سماعت کے دوران معلوم ہوا کہا  اس پر کسی کے دستخط ہی موجود نہیں۔ تاہم درخواست میں الزام عائد کیا  گیا کہ جسٹس محسن اختر کیانی اپنے وکالت کے دور میں پیشہ ورانہ تعلقات رکھنے والے وکلا کو فائدہ پہنچاتے ہیں۔

 شکایت میں جن افراد کے نام لیے گئے ان میں اسلام آباد بار کونسل کے اس وقت وائس چیئرمین قاضی عادل عزیز بھی شامل تھے۔

 تاہم الزامات ثابت نہ ہونے ہر یہ درخواست نمٹا دی گئی تھی۔

البتہ چھے ججوں کے خط پر سپریم کورٹ کے ججوں نے بھی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اس وقت کے چیف جسٹس قاضی فائز عیسی نے قرار دیا تھا کہ عدالتی امور میں کسی کی مداخلت نا قابل قبول ہے۔


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *