شہری کو قتل کرنے والے سندھو دیش ریوولوشنری آرمی کے 3 عسکریت پسند گرفتار

کراچی پولیس نے بدھ کو بتایا کہ یوم آزادی کے سٹال پر فائرنگ کر کے ایک شہری کو قتل کرنے کے الزام میں کالعدم تنظیم سندھو دیش ریوولوشنری آرمی (ایس آر اے) کے تین عسکریت پسندوں کو گرفتار کر لیا گیا۔

محکمہ انسداد دہشت گردی (سی ٹی ڈی) کے ڈی آئی جی غلام اظفر مہیسر نے آج ایک پریس کانفرنس میں بتایا کہ 12 اگست کی شب ڈیفنس فیز ٹو میں قومی پرچم اور بیجز کی فروخت کے ایک سٹال پر فائرنگ کر کے کورنگی کے رہائشی امن ولد جاوید کو ان کی اہلیہ اور بچوں کے سامنے قتل کر دیا گیا تھا۔

ڈی آئی جی کے مطابق واقعے کے بعد سی ٹی ڈی اور حساس ادارے نے تکنیکی بنیادوں پر تحقیقات شروع کیں اور 18 اگست کو کورنگی انڈسٹریل ایریا میں کازوے ندی کے قریب کارروائی کرتے ہوئے تینوں ملزمان کو گرفتار کرلیا۔

گرفتار ملزمان کی شناخت ظفر علی ولد عبدالرؤف، فراز ولد محمد اسماعیل اور سجاد احمد ولد بشیر احمد کے نام سے کی گئی۔

غلام اظفر کے مطابق ملزمان کے قبضے سے تین ہینڈ گرنیڈ اور ایک پستول برآمد کیا گیا۔

ملزمان کے خلاف تھانہ سی ٹی ڈی میں انسداد دہشت گردی ایکٹ کی دفعہ سات اور ایکسپلوسو سبسٹنس ایکٹ کے تحت مقدمات درج کر لیے گئے۔

ڈی آئی جی سی ٹی ڈی نے مزید بتایا کہ تحقیقات کے دوران معلوم ہوا کہ ملزمان کا تعلق ایس آر اے سے ہے، جسے بیرون ملک مقیم ارسلان شاہ عرف ارسلان کے ذریعے چلایا جا رہا ہے۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ان کے مطابق ارسلان نے اگست کے پہلے ہفتے میں بیرون ملک سے ملزمان کو فنڈز بھیجے تھے۔

ڈی آئی جی سی ٹی ڈی نے دعویٰ کیا کہ ایس آر اے کے پیچھے انڈین پراکسی کام کر رہی ہے، جس کا بنیادی مقصد پاکستان قومی ایام اور تہواروں پر دہشت گردی کر کے ملک میں افراتفری اور خوف کی فضا پیدا کرنا ہے۔

غلام اظفر مہیسر نے پریس کانفرنس کے بعد انڈیپنڈنٹ اردو سے خصوصی گفتگو میں کہا ’کالعدم تنظیم سندھو دیش ریوولوشنری آرمی (ایس آر اے) ملک مخالف کارروائیوں اور ریاست کے خلاف دہشت گردی پھیلا کر بدامنی پیدا کرنے میں فعال کردار ادا کررہی ہے۔‘

ان کے مطابق ’یہ کالعدم گروہ انڈین انٹیلیجنس ایجنسی (را) کی ایک پراکسی کے طور پر کام کر رہا ہے، جسے بیرون ملک بیٹھے ہینڈلرز کے ذریعے باقاعدہ فنڈنگ اور ہدایات فراہم کی جاتی ہیں۔‘

انہوں نے کہا ’تنظیم کا بنیادی مقصد اور ہدف قومی تنصیبات، جیسے ریلوے ٹریکس، سوئی گیس کی لائنز اور ہائی پاور الیکٹرک ٹرانسمیشن لائنز کے ساتھ ساتھ پولیس، رینجرز، پاکستان فوج اور انٹیلیجنس ایجنسیوں کے اہلکاروں کو نشانہ بنانا ہوتا ہے۔‘

اظفر مہیسر کے مطابق ’یہ تنظیم انتہائی چالاکی اور باقاعدہ منصوبہ بندی کے ساتھ یونیورسٹیوں اور کالجوں کے نوجوانوں کی ذہن سازی کر کے انہیں رکن بناتی ہے اور معمولی رقم کے عوض انہیں دہشت گردی کی راہ پر لے آتی ہے۔‘

انہوں نے کہا سی ٹی ڈی اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جاری مربوط کارروائیوں اور مؤثر حکمتِ عملی کے باعث ایسی ملک دشمن سرگرمیوں میں نمایاں کمی آئی ہے۔


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *