سعودی وزارت خارجہ نے اتوار کو ایک بیان میں کہا ہے کہ وہ خطے کے امن و استحکام کو نقصان پہنچانے والے ایران کے مسلسل اقدامات کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کرتا ہے۔
بیان کے مطابق، ایران کا طرزِ عمل بین الاقوامی قانون، اقوام متحدہ کے چارٹر، اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) کے چارٹر اور اچھے ہمسائیگی کے اصولوں کی خلاف ورزی ہے۔
سعودی وزارتِ خارجہ نے کہا کہ تجارتی جہازوں پر ایران کے بار بار حملے اس رویے کا واضح ثبوت ہیں، جو سمندری سلامتی اور جہاز رانی کی آزادی کے لیے سنگین خطرہ بن رہے ہیں۔
امریکہ اور ایران کے درمیان ایک بار پھر حالات کشیدہ ہو گئے ہیں جہاں امریکی فوج کے مطابق اس نے ایک ہفتے میں تیسری مرتبہ ایران کے مختلف مقامات کو نشانہ بنایا ہے۔
#بيان | تعرب وزارة الخارجية عن إدانة واستنكار المملكة العربية السعودية بأشدّ العبارات استمرار إيران في سلوكها المزعزع لأمن المنطقة واستقرارها، وانتهاكها لمبادئ القانون الدولي وميثاق الأمم المتحدة وميثاق منظمة التعاون الإسلامي وقواعد حسن الجوار، وذلك بتكرار الاعتداءات الإيرانية… pic.twitter.com/PlXIfEyKjR
— وزارة الخارجية (@KSAMOFA) July 12, 2026
سینٹ کام کے مطابق امریکی فوج نے تازہ حملوں میں ایران کے 140 کے قریب مقامات کو نشانہ بنایا۔
امریکی فوج کے مطابق ایران میں جن مقامات کو نشانہ بنایا گیا ان میں میزائل اور ڈرون سائٹس، نیوی تنصیبات، باردوی مواد کے ڈپو، کمیونیکیشن شامل ہیں۔
ایران نے ان حملوں کے جواب میں امریکہ سے ’ڈیل ختم‘ کرتے ہوئے آبنائے ہرمز کو بھی ایک بار پھر بند کر دیا ہے۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
اس دوران ایرانی اہداف پر امریکی حملوں کے بعد ایران نے خلیجی ہمسایہ ممالک پر میزائلوں اور ڈرونز سے حملے کیے ہیں۔
اے ایف پی کے صحافیوں اور مقامی حکام کے مطابق قطر، متحدہ عرب امارات اور بحرین میں خطرے کے سائرن بجنے اور دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔
ایران کے سرکاری خبر رساں ادارے ارنا کے مطابق ایران کے پاسداران انقلاب نے اتوار جاری ایک بیان میں کہا کہ اس نے ایک ایسے جہاز کو نشانہ بنا کر روکا جو منظور شدہ بحری راستہ استعمال کرنے کی بار بار ہدایات کو نظر انداز کر رہا تھا۔
پاسداران انقلاب نے کہا، ’اس واقعے کے بعد آبنائے ہرمز اگلے حکم تک اور اس خطے میں امریکی مداخلت ختم ہونے تک بند رہے گی اور کسی جہاز کو یہاں سے گزرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔‘
دوسری جانب پاکستان کے وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور ایرانی ہم منصب عباس عراقچی کے درمیان بھی اتوار کو ٹیلیفونک رابطہ ہوا ہے جس میں دونوں رہنماؤں نے خطے کی حالیہ صورت حال پر تبادلہ خیال کیا۔
پاکستانی دفتر خارجہ کی جانب سے جاری بیان کے مطابق اسحاق ڈار نے فریقین پر حالیہ کشیدگی میں کمی پر زور دیتے ہوئے تحمل کا مظاہرہ کرنے کا کہا ہے۔
