سعودی عرب کی حوثیوں کے بحری ناکہ بندی کے دعوے کی مذمت، اقوام متحدہ کو تشویش

سعودی عرب نے یمنی حوثیوں کی جانب سے بحری ناکہ بندی کے دعوے کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔

حوثیوں نے پیر کو کہا تھا کہ وہ سعودی عرب پر بحری ناکہ بندی عائد کریں گے، جس سے ایران کے ساتھ جاری جنگ کے تناظر میں امریکہ کے خلاف ایک نیا محاذ کھلنے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے، جبکہ خلیجی خطے سے آگے عالمی توانائی کی سپلائی اور تجارتی سرگرمیوں کو بھی خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔

خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق حوثیوں کی مسلح افواج نے ایک بیان میں کہا ہے کہ وہ ’سعودی عرب کے خلاف ’آنکھ کے بدلے آنکھ‘ کی پالیسی کے تحت فوری طور پر بحری ناکہ بندی نافذ کر رہے ہیں۔‘

ان کا کہنا تھا کہ یہ اقدام سعودی عرب کی جانب سے یمن پر عائد ’ناجائز محاصرے‘ کے جواب میں کیا جا رہا ہے۔

سعودی عرب نے حوثیوں کے ان الزامات کی سخت مذمت کی کہ مملکت یمن کا محاصرہ کر رہی ہے اور اس پر بحری ناکہ بندی مسلط کیے ہوئے ہے۔

وزارت خارجہ نے ایکس پر اپنے بیان میں کہا کہ سعودی عرب اپنے بحری جہازوں کے تحفظ کے لیے ’تمام ضروری اقدامات‘ کرے گا۔

سعودی وزارتِ خارجہ نے واضح کیا کہ گذشتہ برسوں کے دوران اس نے یمن کی قانونی حکومت کے ساتھ مل کر برادر یمنی عوام کی مشکلات کم کرنے کے لیے مسلسل کام کیا ہے۔ اس سلسلے میں ترقیاتی منصوبے جاری رکھے، یمنی حکومت کے بجٹ کی معاونت کی اور بجلی گھروں کو چلانے کے لیے پیٹرولیم مصنوعات فراہم کی گئیں۔

حوثیوں کی جانب سے محاصرے کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے سعودی عرب نے کہا کہ ’شمالی یمن کی بندرگاہوں الحدیدہ، الصلیف اور رأس عیسیٰ پر 2026 کے پہلی ششماہی میں خوراک، ایندھن اور تعمیراتی سامان لے کر آنے والے 300 سے زائد جہاز پہنچے، جبکہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد 2216 پر عمل درآمد بھی جاری رکھا گیا، جس کے تحت حوثی ملیشیا کو ہتھیار اور گولہ بارود سمگل کرنے سے روکنے کے لیے تمام ضروری اقدامات کیے گئے، کیونکہ وہ یمنی عوام کے وسائل پر اپنا قبضہ برقرار رکھنا چاہتی ہے۔‘

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

بیان میں یاد دلایا گیا کہ ’حوثی ملیشیا ماضی میں یمنی عوام اور بنیادی ڈھانچے پر متعدد حملے کر چکی ہے، جن میں 30 دسمبر 2020 کو عدن ایئرپورٹ پر حملہ بھی شامل ہے، جس میں درجنوں افراد جان سے گئے اور زخمی ہوئے تھے۔‘

وزارتِ خارجہ نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ سعودی عرب یمن میں امن کے قیام اور برادر یمنی عوام کی مشکلات کے خاتمے کا خواہاں ہے۔

’مملکت نے گذشتہ برسوں میں اقوام متحدہ کی امن کوششوں کی بھرپور حمایت کی، جن میں یمنی حکومت کی جانب سے منظور کردہ روڈ میپ بھی شامل ہے، تاہم حوثی ملیشیا نے اسے قبول کرنے کے بجائے اپنے مقاصد کے لیے علاقائی تنازع میں شمولیت اختیار کی، جس سے اس کے زیرِ قبضہ علاقوں کے یمنی شہریوں کی مشکلات مزید بڑھ گئیں۔‘

دوسری جانب اقوام متحدہ نے پیر کو کہا کہ سعودی عرب اور بحری جہاز رانی کی آزادی کے خلاف تازہ دھمکیاں انتہائی تشویشناک ہیں، اور تمام فریقوں پر زور دیا کہ فوری طور پر کشیدگی میں کمی لائی جائے۔

عرب نیوز کے مطابق اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس کے ترجمان سٹیفن دوجارک نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’ہم ایک بار پھر اس بات پر زور دیتے ہیں کہ سلامتی کونسل کی قرارداد 2722 (2024) اور اس کے بعد حوثیوں کے تجارتی اور مال بردار جہازوں پر حملوں سے متعلق منظور کی جانے والی تمام قراردادوں پر مکمل طور پر عمل درآمد کیا جانا چاہیے۔‘


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *