سعودی عرب نے سری لنکن شہری کی سزائے موت ختم کر دی

سری لنکا کی حکومت نے بدھ کو بتایا کہ سعودی عرب کی اعلیٰ ترین عدالت نے ایک سری لنکن شہری کو سنائی گئی سزائے موت کالعدم قرار دے دی۔

27 سالہ انوجن سیواراسا کو گذشتہ ماہ سعودی عرب کی ایک عدالت نے توہین آمیز فیس بک پر سزائے موت سنائی تھی۔

انوجن نے متنازع پوسٹ حذف کر کے معافی مانگ لی تھی، تاہم ان کے خلاف شکایات کے نتیجے میں جولائی میں انہیں گرفتار کر لیا گیا تھا۔

انڈپینڈنٹ اردو کا واٹس ایپ گروپ یہاں جوائن کریں

ابتدائی طور پر انہیں پانچ سال قید کی سزا سنائی گئی، جس کے خلاف انہوں نے اپیل دائر کی۔ تاہم اپیل کی سماعت کرنے والی عدالت نے ان کی سزا بڑھا کر سزائے موت کر دی۔

سری لنکن حکومت نے سعودی سپریم کورٹ کے فیصلے کا خیرمقدم کیا ہے۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

سری لنکا کے صدر انورا کمارا ڈسانائیکے نے ایکس پر لکھا ’میں اس انسانی ہمدردی پر مبنی اور منصفانہ فیصلے پر سعودی عرب کی حکومت کا تہہ دل سے شکریہ ادا کرتا ہوں۔

’میں سعودی عرب اور سری لنکا کے ان متعدد سفارت کاروں، سرکاری اہلکاروں اور قانونی ٹیموں کا بھی شکریہ ادا کرتا ہوں جنہوں نے اس سلسلے میں بھرپور کوششیں کیں۔‘

سری لنکا سے تعلق رکھنے والی گھریلو ملازمہ رضانہ نفیق کو 2013  میں اپنے آجر کے شیرخوار بچے کے قتل کا مجرم قرار دیے جانے کے بعد سزائے موت دی گئی تھی۔

وہ 2005 میں سعودی عرب پہنچی تھیں اور بتایا گیا تھا کہ اس وقت ان کی عمر 17 سال تھی۔

ان کے مقدمے کی سماعت کے طریقہ کار پر تحفظات اور سری لنکا سمیت عالمی برادری کی جانب سے ان کی جان بخشی کی متعدد اپیلوں کے باوجود سزائے موت پر عمل کیا گیا تھا۔


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *