بدھ کی صبح بھوپن تھاپا نیپال کے علاقے رسووا میں پیدل اپنے گھر جا رہے تھے کہ انہوں نے ایک زوردار گرج سنائی دی۔ پھر انہوں نے مٹیالے پانی، ریت اور ملبے کا ایک تیز ریلا دیکھا جو راستے میں آنے والی ہر چیز کو بہاتا ہوا آگے بڑھ رہا تھا۔
56 سالہ تھاپا یہ بتاتے ہوئے رو پڑے کہ چند ہی سیکنڈ میں ان کا گھر، اہل خانہ اور پڑوسی ان کی آنکھوں کے سامنے بہہ گئے۔
انہوں نے تبت کی سرحد کے قریب واقع تباہ شدہ گاؤں سے فوجی اڈے پر منتقل کیے جانے کے بعد دھونچے سے فون پر دی انڈپینڈنٹ کو بتایا: ’آپ یقین نہیں کریں گے کہ میں نے کیا دیکھا۔ مجھے نہیں معلوم کہ میں کیسے زندہ بچ گیا۔‘
درجنوں زندہ بچ جانے والوں کو ہیلی کاپٹروں کے ذریعے وہاں پہنچایا گیا تھا۔
بھوپن تھاپا نے بتایا: ’میرے والد اور بیوی گھر پر تھے اور میں چند میٹر کے فاصلے پر تھا، جب میں نے کیچڑ کو ریکارڈ رفتار سے آتے دیکھا۔ میں دوسری سمت بھاگا۔
’سب مر چکے ہیں۔ کوئی بھی ایسی آفت میں زندہ نہیں بچ سکتا۔ میں نے اپنا سب کچھ کھو دیا ہے اور مجھے بہت ندامت ہے کہ میں کسی کو نہیں بچا سکا۔‘
زندہ بچ جانے والوں کے ملنے کی امیدیں دم توڑنے پر فوج، پولیس اور سویلین ریسکیو ٹیموں نے جمعے کو سیلابی ریلے سے تباہ ہونے والے سرحدی قصبوں میں کیچڑ اور ملبہ ہٹانے کے لیے بھاری مشینری لگا دی۔
اے ایف پی کے مطابق حکام کا کہنا ہے کہ نیپال میں جمعے کی صبح تک 616 افراد کی موت کی تصدیق ہو چکی تھی، جبکہ اس جنوبی ایشیائی ملک اور پڑوسی ملک چین کے علاقے تبت میں لگ بھگ 1000 افراد لاپتہ تھے، جہاں قریب ہی ایک گلیشیئر ٹوٹنے سے چٹانوں، برف، کیچڑ اور ملبے کا ریلا ہمالیائی پہاڑی دریاؤں کے نظام میں بہہ نکلا تھا۔ ان لاپتہ افراد میں کم از کم 540 غیر ملکی ہیں، جن میں 33 برطانوی شہری شامل ہیں۔
زندہ بچ جانے والے سینکڑوں افراد فوج کی مدد سے فضائی راستے سے محفوظ مقامات پر منتقلی کا انتظار کرتے رہے۔ وہ اس تباہ کن سیلاب میں اپنے پیاروں، گھروں اور روزگار کے چھن جانے پر سوگوار تھے، جس نے ملک کے ایک وسیع رقبے پر سڑکوں، مکانات اور عوامی بنیادی ڈھانچے کا نام و نشان مٹا دیا۔
ضلع نوواکوٹ کے ایک چھوٹے قصبے بیدر میں رہائشیوں کا دعویٰ ہے کہ تقریباً 90 فیصد آبادی جان سے جا چکی ہے۔
کارکی نامی شخص نے کہا: ’ایسا لگ رہا تھا جیسے کوئی سونامی ہماری طرف آ رہا ہو۔ پہلی منزل تک سب کچھ کیچڑ سے ڈھکا ہوا ہے۔ ہم اس نقصان سے کبھی نہیں ابھر سکیں گے۔‘
بیدر کے ایک اور 45 سالہ رہائشی داوا لاما نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ وہ جس قصبے سے جان بچا کر بھاگے تھے، وہ پانی، کیچڑ اور ملبے کے ریلے تلے غائب ہو چکا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ وہاں کے 90 فیصد لوگ کیچڑ میں دھنس کر جان گنوا چکے ہیں۔
دارالحکومت کھٹمنڈو کے ہسپتالوں میں، لوگ بے چینی سے اپنے لاپتہ رشتہ داروں کو تلاش کرتے رہے۔ آیوش تمنگ کا کہنا ہے کہ یہ معلوم ہونے کے بعد کہ زندہ بچ جانے والوں کو وہاں لایا جائے گا، وہ جمعرات کی صبح سے تری بھون یونیورسٹی ٹیچنگ ہسپتال میں موجود رہے۔
’میرا بھائی تبت کی سرحد کے قریب ایک منصوبے پر کام کر رہا تھا۔ بدھ کی صبح سے میرا اس سے کوئی رابطہ نہیں ہوا۔ ہم بہت خوفزدہ ہیں۔ وہ صرف 19 سال کا ہے جس نے ابھی اپنی زندگی کی شروعات ہی کی۔ یہ ناانصافی ہے کہ اسے اس طرح مرنا پڑے۔‘
تمنگ کا کہنا ہے کہ ان کے بھائی کا فون بند تھا اور ان کا آجر بھی رابطے سے باہر تھا۔
نیپال کی ڈیزاسٹر مینیجمنٹ اتھارٹی نے خبردار کیا ہے کہ دریائے بھوٹے کوشی کا راستہ ملبے سے بند ہونے کے باعث بننے والی جھیل میں پانی کی سطح بلند ہو رہی ہے اور اس کے پھٹنے کا خطرہ ہے۔
سرحد کے دوسری جانب، چین نے کہا ہے کہ اگلے تین دنوں میں تقریباً 30 لاکھ مکعب میٹر پانی، جو لگ بھگ 1200 اولمپک سائز کے سوئمنگ پولز کے برابر ہے، کے ایک ایسی جھیل میں داخل ہونے کا امکان ہے جو پہلے ہی بند کی شکل اختیار کر چکی ہے۔
چینی سرکاری میڈیا نے آبی وسائل کی وزارت کے حوالے سے بتایا کہ جھیل کے ٹوٹنے کا خطرہ موجود ہے، اور یکم ستمبر کے آس پاس پانی کا بہاؤ عروج پر پہنچنے کی توقع ہے۔
سرکاری میڈیا نے بتایا کہ جمعرات کی شام تک چینی امدادی کارکن گیرونگ بارڈر کراسنگ کی اپنی جانب کے سب سے زیادہ متاثرہ علاقے تک نہیں پہنچ پائے تھے۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
خوفناک فوٹیج میں دیکھا جا سکتا ہے کہ گدلے پانی اور ملبے کا ایک بہت بڑا ریلا چند سیکنڈز میں سرحدی گزرگاہ پر موجود عمارتوں کو تباہ کرتا ہوا گزر گیا اور جان بچا کر بھاگنے کی کوشش کرنے والے لوگوں کو نگل گیا۔
سی سی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق، تبت کی گیرونگ کاؤنٹی میں 260 غیر ملکیوں سمیت کم از کم 558 افراد لاپتہ تھے۔ تاہم اب تک صرف تین افراد کی موت کی تصدیق ہو سکی ہے۔
امدادی اداروں اور فلاحی تنظیموں کا کہنا ہے کہ انہیں جغرافیائی رکاوٹوں کی وجہ سے سب سے زیادہ متاثرہ علاقوں تک پہنچنے میں مشکلات کا سامنا ہے۔
مرسی کور کے سورج سگڈیل کا کہنا ہے کہ بعض مقامات پر پوری کی پوری بستیاں غائب ہو چکی ہیں جب کہ سڑکیں نہ ہونے اور پل گرنے کی وجہ سے زندہ بچ جانے والی کئی آبادیوں کا کئی کلومیٹر تک رابطہ کٹ کر رہ گیا ہے۔
نیپال کے محکمہ شاہرات نے کہا کہ گاڑیوں کے گزرنے کے قابل 19 پل اور تقریباً 40 کلومیٹر طویل سڑکیں تباہ ہو چکی ہیں یا پانی میں بہہ گئی ہیں۔
سگڈیل نے وضاحت کی کہ ’نیپال کا تقریباً 45 فیصد حصہ پہاڑی اضلاع پر مشتمل ہے اور 30 فیصد سے کم علاقہ بلند پہاڑوں پر مبنی ہے، اس لیے یہاں ہر طرح کا راستہ اتنا آسان نہیں ہے۔‘
ان کا کہنا ہے کہ بنیادی ڈھانچے کی تباہی کی وجہ سے ’مرکز یا اصل مقام تک پہنچنا کافی مشکل ہے، درحقیقت اس وقت یہ ناممکن ہے کیوں کہ وہاں کوئی سڑک نہیں ہے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ فوری ترجیح زندہ بچ جانے والوں کو ہنگامی طبی امداد، محفوظ پناہ گاہ، خوراک اور صاف پانی فراہم کرنا ہے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ ’کچھ بچ جانے والوں کا سب کچھ چھن گیا ہے، کچھ نہیں جانتے کہ ان کے اہل خانہ زندہ بھی ہیں یا نہیں اس لیے وہ شدید صدمے میں ہیں۔‘ انہوں نے مزید کہا کہ بجلی نہ ہونے کی وجہ سے آبادیوں کا رابطہ کٹ گیا ہے۔
سگڈیل کا کہنا ہے کہ لاپتہ افراد کی اصل تعداد کہیں زیادہ ہو سکتی ہے کیوں کہ کئی مقامی باشندوں اور زائرین کا کہیں بھی اندراج نہیں ہوا تھا۔
مشکل جغرافیائی حالات کی وجہ سے عام حالات میں بھی شمالی نیپال کی دور دراز آبادیوں تک پہنچنا پہلے ہی مشکل تھا۔ ڈائریکٹ ریلیف میں ہنگامی رسپانس کے نائب صدر ڈین ہووی کا کہنا ہے کہ سیلاب نے سڑکوں اور پلوں کو بہا کر اور بجلی اور مواصلاتی نظام کو درہم برہم کر کے ان علاقوں تک رسائی کو مزید مشکل بنا دیا ہے۔
اس تباہی نے امدادی کارروائیوں کے تقریباً ہر پہلو کو پیچیدہ بنا دیا ہے، جن میں ہنگامی ضروریات کا جائزہ لینا، طبی سامان کی فراہمی اور زخمیوں کو فعال طبی مراکز تک منتقل کرنا شامل ہے۔
ڈین ہووی کہتے ہیں کہ ’اس جیسی آفت کے فوراً بعد، وقت اور رسائی انتہائی اہم ہوتے ہیں۔ لوگوں کو شدید زخموں، ضروری ادویات اور صحت کی خدمات تک رسائی میں رکاوٹ، غیر محفوظ پانی اور نقل مکانی کا سامنا ہو سکتا ہے، جبکہ کچھ آبادیوں تک پہنچنا اب بھی مشکل ہے۔
’ڈائریکٹ ریلیف ہنگامی طبی سامان اور دیگر ضروری اشیا کو ضرورت کی جگہوں پر پہنچانے کے لیے نیپال میں شراکت داروں کے ساتھ مل کر کام کر رہا ہے، لیکن بنیادی ڈھانچے کو پہنچنے والے نقصان کے پیمانے کا مطلب یہ ہے کہ امدادی کارروائیوں میں بہتری کی ضرورت ہوگی، جس میں ہوائی نقل و حمل کا استعمال اور متاثرہ آبادیوں کے جتنا ممکن ہو سکے سامان ذخیرہ کرنا شامل ہے۔‘
نیپال کے وزیراعظم بالیندر شاہ، جنہوں نے جمعرات کو سیلاب سے متاثرہ نوواکوٹ کا دورہ کیا، کہتے ہیں کہ صورت حال اب بھی مشکل ہے۔
انہوں نے کہا: ’تمام ریاستی ادارے اپنی پوری صلاحیت سے کام کر رہے ہیں۔ ہماری پہلی ترجیح اب جانیں بچانا، لاپتہ افراد کو تلاش کرنا اور بچانا، زخمیوں کا علاج کرنا اور متاثرہ خاندانوں کو فوری امداد فراہم کرنا ہے۔‘
یہ آفت بالیندر شاہ کی پانچ ماہ قبل بننے والی حکومت کے لیے بڑا چیلنج بن چکی ہے لیکن حکام کا کہنا ہے کہ ملک میں ایسے نظام اور اہلکار موجود ہیں جنہیں اس طرح کے سانحات سے نمٹنے کا تجربہ ہے، جن میں 2015 کا زلزلہ بھی شامل ہے، جس میں تقریباً 9000 افراد کی جان گئی تھی۔
