پاکستان آئیڈل کا سیزن 2 اتوار کو روشنیوں، رنگوں اور موسیقی سے بھرپور ایک نجی چینل پر اپنے اختتام کو پہنچا، جہاں فیصل آباد کی حرا قیصر فاتح قرار پائیں۔
ان کی جیت کا اعلان اتوار کی شب پاکستان آئیڈل کے ’سپر فینالے‘ کے دوران کیا گیا۔
متوسط طبقے سے تعلق رکھنے والی حرا قیصر نے پورے مقابلے کے دوران شان دار پرفارمنسز پیش کیں اور ناظرین کے ساتھ ساتھ ججز کے دل بھی جیت لیے۔
ان کا کہنا ہے کہ ان کی ’کامیابی اللہ کے فضل اور والدین و اہل خانہ کی دعاؤں‘ کا نتیجہ ہے۔ ’میری کامیابی میں میرے خاندان کی دعاؤں نے بہت اہم کردار ادا کیا۔ اب میں اپنے تمام خواب پورے کروں گی۔‘
فینالے کی سب سے بڑی کشش معروف گلوکار عاطف اسلم کی خصوصی شرکت تھی۔ عاطف اسلم نے پرفارم بھی کیا اور پروگرام کا جوش مزید بڑھا دیا۔
پاکستان آئیڈل کے ججوں راحت فتح علی خان، بلال مقصود اور زیب بنگش نے بھی پرفارم کیا اور حاضرین کی جانب سے پذیرائی حاصل کی۔ مقابلے کے اس اہم مرحلے پر ججز فواد خان، زیب بنگش، بلال مقصود اور راحت فتح علی خان بھی فائنلسٹس کی پرفارمنس کے بارے میں اپنی آرا دیتے نظر آئے۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
حرا قیصر کو پاکستان آئیڈل کی شیلڈ کے ساتھ 15 لاکھ روپے نقد انعام بھی دیا گیا۔ باقی سات فائنلسٹس کو بھی شیلڈز اور پانچ، پانچ لاکھ روپے کے نقد انعامات سے نوازا گیا۔
اس میوزک شو کے پروڈیوسر بدر اکرام نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی آواز کی تلاش کے لیے ٹیم نے انتہائی محنت کی۔ انہوں نے اعلان کیا کہ شو کا سیزن 3 جلد آرہا ہے اور وعدہ کیا کہ ناظرین اس سے پہلے سے بھی زیادہ لطف اندوز ہوں گے۔
تاہم حرا کی جیت پر سوشل میڈیا پر ملا جلا ردعمل سامنے آیا۔ بعض صارفین نے حرا قیصر کی گلوکاری کو سراہا، جبکہ کچھ کا کہنا تھا کہ مقابلے میں دیگر گلوکار زیادہ ورسٹائل تھے اور ان کے خیال میں وہ فتح کے زیادہ حق دار تھے۔
پاکستان کے سیاست دان اور سابق وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے بھی اس شو کے بارے میں سوشل میڈیا پر اپنے خیالات کا اظہار کیا اور کہا کہ ’حرا قیصر آپ کو پاکستان آئیڈل 2026 بننے پر مبارک ہو۔‘
No hate to Hira Qaiser and she is a good singer but I feel she was mostly limited to one style. There were other singers who were more versatile and deserved to win Pakistan Idol.
ایک صارف عبداللہ نے لکھا کہ حرا اچھی گلوکارہ ہیں لیکن ان کا یایک سٹائل ہے۔
Tarab Nafees should have been the winner what were the judges on? Hira can only sing folk and punjabi high pitched she is good but not versatile #pakistanidol
— Caffeine baji / (@sueme_idontcare) August 23, 2026
لیکن بعض صارفین ترب نفیس کے بھی حق میں نہیں تھے۔
Unpopular opinion but Tarab doesn’t even stand as the runners up if we look at the singing talent. She is good but there are better , Rohan being one of them. #PakistanIdol
— Sherry (@CherieDamour_) August 24, 2026
کیفین باجی نے کہا کہ دوسری گلوکارہ ترب زیادہ مستحق تھیں۔
اسی طرح شعیب نامی ایک ایکس صارف نے لکھا کہ ’ایک گلوکار کے بارے میں یہ بات بہت خوبصورت ہے کہ اسے کسی گانے کو محسوس کروانے کے لیے اسے حد سے زیادہ گانے یا اپنی آواز پر ضرورت سے زیادہ زور دینے کی ضرورت نہیں ہوتی۔ حرا قیصر کی ’زندگی تماشا بنی‘ کی پرفارمنس نہایت بے ساختہ، پُرسوز اور خوبصورت باریکیوں سے بھرپور تھی۔ ایک موسیقی کے شوقین کی حیثیت سے، میں اس پرفارمنس کو بار بار سن سکتا ہوں۔ رونگٹے کھڑے ہوگئے!‘
پاکستان آئیڈل کا پہلا سیزن 6 دسمبر 2014 کو جیو نیٹ ورک پر نشر ہوا تھا۔ اس پروگرام کی میزبانی محب مرزا اور انوشے اشرف نے کی تھی جبکہ ضماد بیگ پاکستان آئیڈل کے پہلے فاتح تھے۔
