بلوچستان میں پہاڑوں کے دامن میں قائم منگی ڈیم کی پولیس چیک پوسٹ پر رواں ماہ کے آغاز میں ہونے والے حملے میں کم از کم 27 اہلکار جان سے گئے تھے۔ صوبائی حکومت نے حملے کی تفصیلات جاری کرتے ہوئے بتایا ہے کہ عسکریت پسندوں نے کیا حکمت عملی اختیار کی اور کس طرح سکیورٹی اہلکاروں نے ان کا مقابلہ کیا۔
بلوچستان حکومت کی جانب سے جاری رپورٹ میں کہا گیا کہ پوسٹ پر تعینات اہلکار جانتے تھے کہ خطرہ موجود ہے۔ انٹیلی جنس اداروں نے پہلے ہی ممکنہ حملے سے آگاہ کر دیا تھا، اسی لیے چند روز قبل نفری میں اضافہ کیا گیا تھا۔
رپورٹ کے مطابق 6 جولائی کی صبح ایک ڈی ایس پی کی قیادت میں تقریباً 35 پولیس اہلکار اپنی ذمہ داریاں انجام دے رہے تھے، جبکہ قریب ترین ایف سی پوسٹ تقریباً 20 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع تھی۔
صوبائی حکومت کے بیان میں کہا گیا کہ صبح تقریباً 11 بجے دور دراز علاقے سے وقفے وقفے سے فائرنگ کی آوازیں سنائی دیں۔ اطلاع فوری طور پر پولیس ہیڈکوارٹرز اور ایف سی تک پہنچا دی گئی۔ چونکہ پوسٹ کو حال ہی میں اضافی نفری اور بہتر اسلحہ فراہم کیا گیا تھا، اس لیے کمانڈنگ افسر کا مؤقف تھا کہ موجودہ نفری صورت حال کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔
’اہلکار اپنی اپنی پوزیشنوں پر ڈٹے رہے، جبکہ ہیڈکوارٹرز مسلسل ان سے رابطے میں رہا۔‘
رپورٹ کے مطابق: ’حملے کے بعد احتیاطی تدبیر کے طور پر پولیس ہیڈکوارٹرز نے تقریباً 35 اہلکاروں پر مشتمل ایک خصوصی دستہ مزید کمک کے لیے روانہ کیا۔ اسی دوران فرنٹیئر کور نے فضائی نگرانی اور معاونت کے لیے ایک مسلح ہیلی کاپٹر بھی علاقے میں بھیجا، جو تقریباً ڈیڑھ گھنٹے تک فضائی نگرانی کرتا رہا۔
’دہشت گردوں نے براہِ راست حملے کے بجائے وقفے وقفے سے فائرنگ جاری رکھی۔ مقصد یہ تھا کہ پولیس اپنا زیادہ سے زیادہ گولہ بارود استعمال کر لے۔ شام ہوتے ہوتے یہی ہوا، پوسٹ پر موجود بیشتر گولہ بارود استعمال ہو چکا تھا، مگر اہلکار اپنی جگہوں پر ثابت قدم رہے۔‘
صوبائی حکومت کے مطابق: ’جب پولیس کی کمک پوسٹ کے قریب پہنچی تو دہشت گردوں نے اس پر بھی شدید فائرنگ شروع کر دی، جس کے باعث کمک کو کچھ فاصلے پر رکنا پڑا۔ اس دوران ایف سی نے وی ٹی او ایل (VTOL) ڈرونز استعمال کیے اور مارٹر فائر کے ذریعے دہشت گردوں کو نشانہ بنایا۔ اسی کارروائی کی آڑ میں پولیس اور ایف سی کی نفری نے آگے بڑھنا شروع کیا۔
’اندھیرا پھیلتے ہی دہشت گردوں نے پوسٹ پر براہِ راست حملہ کر دیا اور انتہائی قریب آ گئے۔ اس موقعے پر پوسٹ پر موجود پولیس اہلکاروں نے اور آگے بڑھتی ہوئی پولیس و ایف سی کی کمک نے بھرپور مزاحمت کی۔‘
رپورٹ میں بتایا گیا کہ شدید جھڑپ میں 15 ’دہشت گرد‘ مارے گئے، 9 پولیس اہلکار جان سے گئے جبکہ 3 زخمی ہوئے۔ کمک کے پہنچنے کے بعد زخمی اہلکاروں کو محفوظ مقام پر منتقل کر دیا گیا۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
مزید کہا گیا کہ ’مگر اس وقت تک پولیس پوسٹ کا گولہ بارود تقریباً ختم ہو چکا تھا۔ چنانچہ باقی ماندہ اہلکار، جن میں ڈی ایس پی سمیت 28 پولیس اہلکار شامل تھے، اندھیرے کا فائدہ اٹھاتے ہوئے دو گروپوں میں نکلنے لگے۔‘
حکام کے مطابق ڈی ایس پی کی قیادت میں ایک گروپ بحفاظت نکلنے میں کامیاب ہو گیا، لیکن دوسرا گروپ، جس میں 18 اہلکار شامل تھے، رات کے اندھیرے میں ’دہشت گردوں‘ سے جا ٹکرایا اور انہیں یرغمال بنا لیا گیا۔
حکومت کا کہنا ہے کہ اس علاقے کا جغرافیہ انتہائی دشوار گزار ہے۔ بلند پہاڑ، گہری دراڑیں، پتھریلے راستے اور کھائیاں نہ صرف نقل و حرکت کو مشکل بناتی ہیں بلکہ لڑائی بھی زیادہ تر قریب فاصلے پر ہوتی ہے جبکہ مشاہدہ انتہائی محدود رہتا ہے۔
انہی حالات کے باعث ایف سی اور پولیس کی پیش قدمی انتہائی احتیاط کے ساتھ جاری رہی کیونکہ متعدد مقامات پر گھات لگائے جانے کا خدشہ موجود تھا۔
واقعے کے بعد ایف سی اور پاکستان فوج نے پورے علاقے میں جامع کومبنگ آپریشن شروع کر دیا اور 300 مربع کلومیٹر سے زائد دشوار گزار پہاڑی سلسلے پر محیط اس علاقے میں آپریشن اس وقت تک جاری رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے جب تک تمام عسکریت پسندوں کا خاتمہ نہیں ہو جاتا۔
صوبائی حکومت نے کہا کہ اس افسوس ناک واقعے کے بعد مختلف حلقوں کی جانب سے متعدد گمراہ کن بیانیے بھی سامنے آئے، تاہم دستیاب معلومات کے مطابق منگی ڈیم پولیس پوسٹ پر تعینات اہلکاروں نے اپنی پوری صلاحیت کے ساتھ آخری دم تک مزاحمت کی۔
بلوچستان میں رواں ہفتے سکیورٹی فورسز پر ہونے والے حملوں کے بعد وزیراعظم شہباز شریف اور فلیڈ مارشل عاصم نے جمعرات کو کوئٹہ کا دورہ کیا۔ اس موقعے پر وزیراعظم نے ملک سے ’دہشت گردی‘ کے مکمل خاتمے کے غیر متزلزل عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ ’آخری فسادی دہشت گرد کے خاتمے تک جنگ جاری رہے گی۔‘
