خیبر پختونخوا: میٹرک نتائج میں 50 فیصد تک طلبہ کے فیل ہونے کی وجوہات کیا ہیں؟

خیبر پختونخوا میں مختلف ڈویژنز کے میٹرک و انٹر تعلیمی بورڈز کے امتحانات کے نتائج میں ایک بڑی تعداد میں میٹرک کے طلبہ فیل ہوگئے ہیں، جس پر مختلف حلقوں کی جانب سے بحث ہو رہی ہے کہ طلبہ کی ناقص کارکردگی کی وجوہات کیا ہیں۔

مختلف تعلیمی بورڈز کی جانب سے میٹرک کے نتائج کا اعلان گذشتہ  ہفتے کیا گیا تھا، جس میں نویں اور 10ویں جماعت کے امتحانات کے نتائج شامل تھے۔

سب سے پہلے پشاور بورڈ کے نتائج پر نظر دوڑائی جائے تو 10ویں جماعت کے امتحان میں 95 ہزار سے زائد طلبہ شامل تھے، جس میں 30 فیصد طلبہ فیل ہوگئے ہیں۔

اسی طرح پشاور بورڈ کے زیر اہتمام نویں جماعت کے امتحان میں 97 ہزار سے زائد طلبہ نے حصہ لیا تھا، لیکن اس میں 60 فیصد طلبہ فیل ہوگئے ہیں، یعنی 97 ہزار سے زائد طلبہ میں صرف 39 ہزار 103 کامیاب قرار پائے ہیں۔

ملاکنڈ تعلیمی بورڈ کے نتائج کا جائزہ لیا جائے تو نویں جماعت کے امتحان میں 60 ہزار سے زائد طلبہ میں 77 فیصد پاس ہوئے ہیں، جبکہ 23 فیصد امتحان میں ناکام ہوگئے ہیں۔

اسی طرح 10ویں جماعت کے امتحان میں مجموعی طور پر 56 ہزار سے زائد طلبہ بیٹھے تھے، جس میں کامیابی کا تناسب 92 فیصد سے زائد تھا۔

سوات تعلیمی بورڈ کا نتیجہ بھی مایوس کن رہا ہے اور نتائج کے مطابق نویں جماعت کے سائنس گروپ میں مجموعی طور پر 10ویں جماعت کے 45 ہزار سے زائد طلبہ بیٹھے تھے، لیکن صرف 23 ہزار سے زائد طلبہ کامیاب، جبکہ باقی 49 فیصد طلبہ فیل ہوگئے ہیں۔

آرٹس گروپ کے نتائج سائنس گروپ سے بھی خراب ہیں اور نتائج کے مطابق آرٹس گروپ میں صرف 24 فیصد طلبہ کامیاب ہوئے ہیں، جبکہ باقی 76 فیصد ناکام فیل ہوگئے ہیں۔

سوات بورڈ کے 10ویں جماعت میں سائنس گروپ کے طلبہ میں 81 فیصد کامیاب ہوئے ہیں، جبکہ آرٹس گروپ میں 51 فیصد کامیاب اور 49 فیصد فیل ہوگئے ہیں۔

کوہاٹ تعلیمی بورڈ کے نتائج بھی ایسے ہی ہیں، یعنی مجموعی طور پر نویں اور 10ویں جماعت میں 97 ہزار سے زائد طلبہ بیٹھے تھے، جس میں 39 فیصد کامیاب اور 60 فیصد طلبہ فیل ہوگئے ہیں۔ نویں جماعت میں 70 فیصد سے زائد طلبہ فیل ہوگئے ہیں۔

طلبہ کی ناقص کارکردگی کی وجوہات کیا ہیں؟

وجیح اللہ ضلع لوئر دیر کے محکمہ تعلیم میں بطور ڈپٹی ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر کام کرتے ہیں اور ان کے مطابق ملاکنڈ بورڈ کے نتائج تو حوصلہ افزا ہیں، لیکن بعض سکولوں میں مسائل موجود ہیں، جن میں ایک والدین کی بچوں پر کم توجہ بھی شامل ہے۔

انہوں نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ بعض بچے جن کے نتائج حوصلہ افزا نہیں ہیں، وہ غریب گھرانوں سے تعلق رکھتے ہیں اور صبح سکول اور سکول کے بعد کسی دکان یا ورکشاپ میں کام کرتے ہیں۔

وجیح اللہ کے مطابق: ’غربت کی وجہ سے وہ گھر میں والدین کا ہاتھ بٹاتے ہیں اور اسی وجہ سے تعلیم پر کم توجہ دی جاتی ہے تو نتائج حوصلہ افزا نہیں ہوتے۔‘

اسی طرح دوسری وجہ وجیح اللہ کے مطابق بعض دور دراز سکولوں میں اساتذہ کی کمی بھی ہے، جس کی وجہ سے سپیشلسٹ مضامین جیسے سائنسی مضامین میں طلبہ کے نتائج اچھے نہیں ہوتے۔

وجیح اللہ نے بتایا، ’شہری علاقوں کے سکولوں میں اساتذہ پورے ہوتے ہیں تو ان کے نتائج بھی بہتر آتے ہیں، لیکن دور دراز میں یہ مسائل موجود ہیں، تاہم ان مسائل کے حل کے لیے کوششیں کی جاتی ہیں۔‘

ضیااللہ لوئر دیر میں سرکاری سکول میں بطور سبجیکٹ سپیشلسٹ خدمات انجام دے رہے ہیں اور وہ بھی اس سے اتفاق رکھتے ہیں کہ زیادہ تر ان بچوں کے نتائج حوصلہ افزا نہیں ہیں جو سیکنڈ ٹائم میں باہر کسی جگہ پر مزدوری کرتے ہیں، تو ان کے پاس گھر میں مطالعے کے لیے وقت نہیں ملتا۔

انہوں نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ زیادہ تر بچے اسلامیات کے پیپر میں فیل ہوتے ہیں اور اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ پہلا پیپر ہوتا ہے اور طلبہ وقت کو درست طریقے سے مینج نہیں کر پاتے۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ضیااللہ نے بتایا: ’پہلا پیپر اسلامیات کا ہوتا ہے اور طلبہ کا وقت زیادہ تر پہلے سوالات میں ضائع ہوتا ہے اور لانگ سوالات کے لیے وقت کم بچ جاتا ہے۔‘

تیسری وجہ ضیااللہ کے مطابق دور دراز علاقوں اور خصوصی طور پر لڑکیوں کے سکولوں میں سٹاف کی کمی کی وجہ سے کورس مکمل نہیں ہوتا، تو نتائج بھی حوصلہ افزا نہیں آتے۔

میٹرک امتحانات میں حوصلہ افزا نتائج نہ آنے پر کوہاٹ کے سرکاری و نجی سکولوں کے نمائندگان نے اس سلسلے میں بورڈ کے حکام سے گذشتہ  دنوں ملاقات بھی کی ہے اور اس ملاقات کے حوالے سے بورڈ نے بیان بھی جاری کیا ہے۔

بورڈ کی جانب سے جاری بیان میں بتایا گیا ہے کہ میٹرک کے کمزور نتائج پر تعلیمی حلقوں اور سٹیک ہولڈرز میں پائی جانے والی بے چینی قابلِ قدر ہے، اپنی نئی نسلوں کے مستقبل کے لیے فکرمندی بیدار قوموں کی نشانی ہے۔

انتظامیہ نے اس سلسلے میں سوال اٹھانے والوں کے لیے اپنے دروازے کھول دیے ہیں۔ آج پرائیویٹ ایجوکیشن نیٹ ورک کے نمائندوں اور سرکاری اداروں کے سربراہان نے کسی مثبت تجویز کی بجائے کمزور نتائج کے لیے کوہاٹ بورڈ کو ذمہ دار قرار دے کر ایسے غیر تکنیکی اور ناقابلِ عمل مطالبات پیش کیے جن پر عمل درآمد ناممکن ہے۔

’ہم سمجھتے ہیں کہ پرائیویٹ اور پبلک تعلیمی اداروں کے بعض سربراہان کمزور نتائج کے سلسلے میں خرابی کی اصل جڑ تک پہنچنے کے لیے تیار نہیں۔‘

کوہاٹ بورڈ کے بیان کے مطابق غیر جانب دارانہ طور پر صاف و شفاف امتحان لے کر مارکنگ، سپرمارکنگ اور تقابلی جائزے کا عمل مکمل کیا گیا، ممکنہ انسانی کوتاہیوں اور سٹیک ہولڈرز کے اطمینان کے لیے ری ٹوٹلنگ، حتیٰ کہ شوآف پیپر کے نام پر ری چیکنگ تک کا آپشن دیا اور اس سلسلے میں بورڈ کی غلطی ثابت ہونے پر فیس کی واپسی کی پالیسی بھی نافذ العمل ہے۔

بیان کے مطابق، ’افسوس ناک امر یہ ہے کہ اس کے باوجود کمزور نتائج کے ذمہ داروں کے درست تعین کا راستہ روکنے کے لیے کوہاٹ بورڈ کو موردِ الزام ٹھہرایا جا رہا ہے۔ کوہاٹ بورڈ سمجھتا ہے کہ پرائیویٹ اور پبلک اداروں کے بعض سربراہان اپنے اداروں میں تعلیمی اصلاحات سے راہِ فرار اختیار کرنے کے ساتھ ساتھ طلبہ کو بھی گمراہ کر رہے ہیں۔‘


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *