حوثی حملے: سعودی عرب، پاکستان اور ترکی کا فوجی تعاون مزید مضبوط بنانے کا فیصلہ

سعودی عرب، پاکستان اور ترکی کے چیف آف سٹاف نے جمعے کو ریاض میں ہونے والے اجلاس میں حوثیوں کی جانب سے بڑھتے ہوئے حملوں کے تناظر میں مملکت کی حمایت اور مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے تحت کیے گئے وعدوں کو فوری طور پر مؤثر فوجی تعاون میں تبدیل کرنے کے مشترکہ عزم کا اظہار کیا۔

پاکستان، سعودی عرب اور ترکی نے سات اگست 2026 کو ایک مشترکہ دفاعی معاہدے پر دستخط کیے تھے، جس کے تحت تینوں میں سے کسی ایک ملک پر مسلح حملے کو سب پر حملہ تصور کیا جاتا ہے۔

حوثیوں نے حالیہ دنوں میں سعودی عرب کی جانب متعدد حملے کیے ہیں، جس کے نتیجے میں دنیا کے سب سے بڑے توانائی برآمد کنندہ ملک سے تیل کی ترسیل متاثر ہوئی ہے۔

 یہ سب وسیع تر مشرق وسطیٰ کی جنگ کا حصہ ہے، جو فروری میں امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملوں کے ساتھ شروع ہوئی تھی اور جس کے ردعمل میں تہران نے اسرائیل سمیت مشرق وسطیٰ میں امریکی فوجی مفادات پر حملے کیے تھے۔

انڈپینڈنٹ اردو کا واٹس ایپ گروپ یہاں جوائن کریں۔

پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کی جانب سے جمعے اور ہفتے کی درمیانی شب جاری بیان میں کہا گیا کہ تینوں ملکوں کی مسلح افواج کے سربراہان اور چیفس آف جنرل سٹاف نے سکیورٹی کی صورت حال اور مملکت سعودی عرب کو درپیش خطرات کا جائزہ لیا اور ’مقدس شہر مکہ اور سعودی شہری و معاشی بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے والے حملوں پر شدید تشویش کا اظہار کیا۔‘

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

آئی ایس پی آر کے مطابق: ’اجلاس کے شرکا نے تینوں ممالک کی مسلح افواج کے درمیان تعاون کو مزید فروغ دینے اور خفیہ معلومات کے تبادلے، فوجی ہم آہنگی اور صلاحیتوں کو یکجا کرنے کے طریقوں پر بھی تبادلہ خیال کیا، تاکہ ڈیٹرنس اور اجتماعی دفاع کو مضبوط بنایا جا سکے۔‘

مزید کہا گیا کہ ’ریاض میں ہونے والا یہ اجلاس دفاعی شراکت داری کی مضبوطی اور مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے تحت کیے گئے وعدوں کو فوری طور پر مؤثر فوجی تعاون میں تبدیل کرنے کے مشترکہ عزم کی عکاسی کرتا ہے۔‘

بقول آئی ایس پی آر: ’شرکا نے اجتماعی دفاع کے اپنے عزم کا بھرپور اعادہ کیا، جس سے مملکت سعودی عرب کی سکیورٹی، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے دفاع کے لیے تینوں ممالک کے ارادے کا اظہار ہوتا ہے۔‘

اجلاس کے دوران فوجی سربراہان نے شہریوں، رہائشیوں اور مملکت کی سلامتی کے تحفظ کے لیے سعودی مسلح افواج کی جانب سے انجام دیے جانے والے اقدامات کو بھی سراہا۔

سعودی وزیر دفاع شہزادہ خالد بن سلمان نے جمعے کو پاکستان کے آرمی چیف عاصم منیر سے بھی ملاقات کی۔

شہزادہ خالد نے سوشل میڈیا پر لکھا، ’ہم نے مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے تحت چیفس آف سٹاف کے اجلاس کے نتائج کا خیرمقدم کیا اور مقدس شہر مکہ مکرمہ اور مملکت کے شہری و اقتصادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے والے سنگین حملوں پر تبادلہ خیال کیا۔‘

انہوں نے مزید کہا، ’ہم نے مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے مطابق ان حملوں کا مقابلہ کرنے کے لیے اپنی مشترکہ کوششیں جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا۔‘

اس سے قبل سعودی، پاکستانی اور ترک وزرائے خارجہ نے مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے فریم ورک کے تحت جمعرات کو نیویارک میں ملاقات کی تھی، جس میں انہوں نے مکہ مکرمہ اور دیگر شہری مقامات کو نشانہ بنانے والے حملوں کی مذمت کی، جبکہ سعودی عرب کے اپنے دفاع کے حق کی توثیق کی۔


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *