جین زی کے دور میں بڑی عمر کے ملازمین کی مانگ کیوں بڑھ رہی ہے؟

فرانسسکا ہکس کی عمر 60 برس سے زیادہ تھی جب انہوں نے فلائٹ اٹینڈنٹ بننے کے لیے درخواست دی۔

64 سالہ سابق کاروباری خاتون کا کیریئر طویل اور مختلف تجربات سے بھرپور رہا۔ انہوں نے سیکریٹری کی ملازمت سے لے کر چھٹیوں کے لیے کرائے پر دی جانے والی جائیدادوں کے انتظام کرنے اور ڈیمنشیا کے مریضوں کی دیکھ بھال تک مختلف شعبوں میں کام کیا۔

لیکن کارن وال سے لندن واپسی کے بعد وہ اپنی عمر کی خواتین کے لیے ملازمت کے مواقع کی کمی پر مایوس تھیں۔

وہ کہتی ہیں: ’میں صرف ایک نیا کیریئر چاہتی تھی، لیکن مجھے عمر کی بنیاد پر امتیاز کا سامنا تھا۔ میں اپنی سی وی بھیجتی اور تاریخ پیدائش کی وجہ سے مجھے مسترد کر دیا جاتا، لیکن میں کوئی بوڑھی خاتون نہیں ہوں، میں اب بھی دل سے جوان ہوں۔‘

پھر ایک دن ان کی نظر ایزی جیٹ سے متعلق ایک خبر پر پڑی۔ کم لاگت والی ایئر لائن نئی کیبن کریو بھرتی کر رہی تھی اور خاص طور پر 50 برس سے زیادہ عمر کے افراد کو ملازمت دینے کی خواہش مند تھی۔ فرانسسکا فوراً اس میں دلچسپی لینے لگیں۔

وہ یاد کرتے ہوئے کہتی ہیں: ’ایک صبح تیار ہوتے ہوئے میں نے بی بی سی ٹی وی پر اس کے بارے میں سنا اور میں نے تہیہ کر لیا کہ معلوم کروں گی کہ درخواست کیسے دینی ہے۔‘

تعارفی پروگرام میں شرکت کے بعد وہ اس خیال سے پوری طرح متاثر ہوئیں اور تربیت مکمل کرکے باقاعدہ عملے کا حصہ بننے کے 19 ماہ کے دوران انہیں ’وہ اس سے زیادہ خوش کبھی نہیں ہوئیں۔‘

وہ کہتی ہیں: ’مجھے یہ کام بہت پسند ہے۔ مجھے ہر روز نئے لوگوں سے ملنا اچھا لگتا ہے، حتیٰ کہ مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے نئے عملے کے ارکان سے بھی۔ میرے خیال میں ہوا بازی انسانیت کی بہترین پیش رفت میں سے ایک ہے، جو لوگوں، مقامات، ثقافتوں اور سفر کو ایک دوسرے سے جوڑتی ہے۔‘

فرانسسکا اب تک 23 ممالک کا سفر کر چکی ہیں اور آخری گنتی کے مطابق تقریباً 270 پروازوں میں کام کر چکی ہیں۔ ان کی عمر، اگر کچھ ہے تو، ان کے لیے فائدہ مند ثابت ہوئی ہے کیونکہ وہ زندگی بھر کے تجربے سے فائدہ اٹھا سکتی ہیں۔

یہ کیریئر ان لوگوں کے لیے بھی موزوں ہے جو بچوں کے یونیورسٹی جانے یا اپنا کیریئر شروع کرنے کے بعد ’خالی گھونسلے‘ کی زندگی اختیار کر رہے ہیں اور بالآخر خاندانی ذمہ داریوں سے آزاد ہو رہے ہیں۔

وہ 50 سال سے زائد عمر کے افراد کو اس شعبے میں آنے کی ترغیب دیتی ہیں۔

ان کا کہنا ہے: ’اگر آپ خدمت کرنے، لوگوں کے لیے اچھے تجربات پیدا کرنے اور کام و سفر کے شوقین ہیں تو یہ ایک بہت اچھا کیریئر ہے۔ جب تک آپ نئی مہارتیں سیکھنے کے لیے تیار ہیں اور لوگوں سے گھلنے ملنے والے انسان ہیں، آپ یہ کام کر سکتے ہیں۔‘

ایزی جیٹ نے واضح طور پر یہ بات سمجھ لی ہے کہ درمیانی عمر کے کارکن کتنے قیمتی ہو سکتے ہیں، جبکہ دوسری کمپنیوں نے اس حقیقت کو نظر انداز کیے رکھا ہے۔

ایئرلائن نے حال ہی میں ایک بار پھر کیبن کریو کی بھرتی مہم شروع کی ہے، جس میں خاص طور پر نسبتاً زیادہ عمر کے امیدواروں کو ترجیح دی گئی ہے۔ یہ 2022 میں چلائی گئی کامیاب مہم کے بعد کی جانے والی نئی کوشش ہے۔

ایئرلائن کے مطابق، 50 سال سے زیادہ عمر کے ملازمین کی تعداد دوگنی سے بھی زیادہ ہو چکی ہے جبکہ 60 سال سے زائد عمر کے فلائٹ اٹینڈنٹس کی تعداد تقریباً چار گنا ہو چکی ہے۔ نئی مہم سے بھی اسی طرح کے نتائج کی امید ہے۔

ایزی جیٹ کی سربراہِ کیبن کریو لیزا بیلی کہتی ہیں: ’50 سال سے زائد عمر کے افراد زندگی کا تجربہ، مختلف کیریئر اور ایک مختلف نقطۂ نظر ساتھ لاتے ہیں، جو طیارے کے اندر مجموعی ماحول کے لیے بہت مددگار ثابت ہوتا ہے۔ کیبن کریو کی دنیا میں کوئی دو دن ایک جیسے نہیں ہوتے، اس لیے اپنے ذاتی تجربات سے فائدہ اٹھانا مختلف حالات سے نمٹنے میں واقعی مدد دیتا ہے۔‘

مختلف عمروں پر مشتمل عملے کے نتیجے میں ساتھیوں کے درمیان تعلقات بھی مضبوط ہوئے ہیں۔ بیلی کے مطابق: ’قدرتی طور پر، کیبن کریو کا کوئی عمر رسیدہ رکن اپنے سے کم عمر ساتھیوں کے لیے سرپرست کا کردار ادا کر سکتا ہے۔‘

طیاروں میں بڑی عمر کے عملے کی جانب سے حالات کو سنبھالنے پر مسافروں کی جانب سے ملنے والے مثبت ردعمل نے بھی ظاہر کیا ہے کہ زیادہ عمر کے فلائٹ اٹینڈنٹس کو ملازمت دینا ایک دانشمندانہ فیصلہ ثابت ہوا ہے۔

جب تک آپ نئی مہارتیں سیکھنے کے لیے تیار ہیں اور لوگوں سے گھلنے ملنے والے انسان ہیں، آپ یہ کام کر سکتے ہیں: فرانسسکا ہکس، فلائٹ اٹینڈنٹ

ایزی جیٹ کے مطابق بہت سے لوگ غلطی سے سمجھتے ہیں کہ کیبن کریو کا کام صرف نوجوانوں کے لیے ہے۔ کمپنی نے بتایا کہ 50 اور 60 کی دہائی میں موجود امیدوار اکثر اس خوف کا اظہار کرتے ہیں کہ وہ ٹیم کے سب سے زیادہ عمررسیدہ فرد ہوں گے۔

بیلی کہتی ہیں: ’ہم سب کو ایک ہی معیار کے مطابق تربیت دی جاتی ہے۔ ہمارے ساتھ شامل ہونے والے کسی شخص کی عمر واقعی اہمیت نہیں رکھتی۔‘

کئی دہائیوں کے کیریئر کے دوران حاصل کیے گئے وسیع تجربے اور سوفٹ سکلز سے مالا مال ملازمین کو بھرتی کرنا خاص طور پر ایسے کام کے لیے منطقی ہے جس میں مشکل ماحول کے دوران اہم حفاظتی ضوابط پر عمل درآمد اور بہترین صارف خدمات، دونوں کی ذمہ داری ہوتی ہے۔

مڈ لائف خواتین کو اگلے مرحلے میں زندگی اختیار کرنے میں مدد دینے والی کمیونٹی نون کی ادارتی ڈائریکٹر جینیفر ہوز کہتی ہیں: ’کمپنی کے نقطہ نظر سے یہ فیصلہ بالکل واضح ہے۔ رابطے کی مہارت، مسائل حل کرنے کی قابلیت اور دباؤ کی صورت حال میں پُرسکون رہنے جیسی بہت سی ایسی صلاحیتیں ہیں جو کیبن کریو کے لیے انتہائی اہم ہوتی ہیں، ہے نا؟‘

وہ کہتی ہیں: ’ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ درمیانی عمر کے بہت سے افراد، خاص طور پر خواتین، وہ سوفٹ سکلز رکھتی ہیں جو ٹیم کے درمیان ہم آہنگی پیدا کرنے کے لیے ضروری ہیں۔ یہ ایئرلائن اور مسافروں، دونوں کے نقطہ نظر سے اہم ہے۔‘

یہ ایک ایسے معاشرتی ماحول میں خوش آئند مثال ہے جہاں ایک خاص عمر کو پہنچنے والے افراد، خصوصاً خواتین کو ملازمت حاصل کرنے میں مسلسل مشکلات کا سامنا ہے۔

یہاں تک کہ لوگوں کی جانب سے عمر چھپانے کے لیے اپنی سی وی کو ’بوٹوکس‘ کرنے کی بات بھی سامنے آئی، یعنی امیدوار اپنی ملازمت کے تجربے کو جان بوجھ کر کم ظاہر کرنے یا سابقہ عہدوں کو سی وی سے ہٹانے پر مجبور ہوتے ہیں تاکہ انہیں ملازمت کے انٹرویو کا موقع مل سکے۔

یہ مسئلہ جون کے آخر میں اس وقت نمایاں ہوا جب 52 سالہ سابق فیشن ایڈیٹر اور میگزین کالم نگار اسٹیسی ڈگوئڈ نے انسٹاگرام پر بے روزگاری اور مالی مشکلات کے اپنے تجربے کے بارے میں پوسٹ کی۔

انہوں نے بتایا کہ وہ 16 ماہ سے ملازمتیں تلاش کر رہی تھیں۔ اس دوران انہوں نے 150 سی وی بھیجیں اور چھ ہندسوں کی تنخواہ والی برانڈ ڈائریکٹر کی ملازمت سے لے کر ایک گودام میں تصاویر بنانے والی جز وقتی ملازمت تک کے لیے درخواستیں دیں، لیکن انہیں تقریباً کوئی جواب یا انٹرویو نہیں ملا۔

اس بے تکلف اعتراف پر ملنے والا ردعمل، ان کے مطابق، ’ناقابل یقین‘ تھا۔ 40 سے 65 سال کی ہزاروں خواتین نے انہیں پیغامات بھیجے اور بتایا کہ وہ بھی اسی صورت حال سے گزر رہی ہیں۔ ملازمت دینے والے ممکنہ ادارے انہیں جواب نہیں دے رہے اور وسیع تجربے اور دوبارہ کام کرنے کی خواہش کے باوجود انہیں ملازمت کی دنیا سے باہر کر دیا گیا ہے۔

یہ صورت حال خواتین کے ساتھ صنفی امتیاز کی واضح مثال ہے۔

خواتین اب بھی مردوں کے مقابلے میں بچوں کی دیکھ بھال کے لیے کیریئر میں وقفہ لینے کا زیادہ امکان رکھتی ہیں، جس کے باعث ان کے لیے دوبارہ ملازمت کی دنیا میں جگہ بنانا مشکل ہو جاتا ہے۔

برطانیہ کے قومی شماریاتی دفتر کے اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ بچوں کی پیدائش کے بعد ماؤں کو زیادہ غیر یقینی اور کم اجرت والی ملازمتوں کا سامنا ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ نگہداشت کی ذمہ داریوں کے باعث مکمل وقت کی ملازمت کے بجائے جز وقتی کام اختیار کرنے سے ان کی پینشن بھی نمایاں طور پر کم ہو جاتی ہے۔

میں نیویارک میں ٹیکنالوجی کے شعبے میں کام کرتی تھی اور وہاں یہ سوچ عام تھی کہ نئی سوچ اور نئے خیالات صرف نوجوان ہی پیش کرتے ہیں۔ یہ سوچ اب صنعت کے تقریباً ہر شعبے تک پھیل چکی ہے: جینیفر ہاؤز، نون

سکاٹش وِڈوز کی تحقیق کے مطابق اپنی عمر کی 20 کی دہائی والی خواتین ریٹائرمنٹ تک پہنچنے پر مردوں کے مقابلے میں تقریباً ایک لاکھ پاؤنڈ کم پینشن حاصل کر سکتی ہیں۔

مڈ لائف خواتین کو ملازمتوں سے باہر رکھنے کی سب سے حیران کن بات یہ ہے کہ یہ طبقہ انتہائی بااثر اور معاشی طور پر قیمتی ہے۔

فوربز کے مطابق برطانوی صحافی اور ’نون‘ کی بانی ایلینور ملز کی وضع کردہ اصطلاح ’کوئین ایجرز‘ یا مڈ لائف خواتین ملینیئلز کے مقابلے میں 250 فیصد زیادہ خرچ کرنے والی صارفین ہیں۔

امریکہ میں اے اے آر پی کے مطابق 45 سے 65 سال کی خواتین گھر کے تمام صارفانہ اخراجات سے متعلق 90 فیصد فیصلوں میں کردار ادا کرتی ہیں۔

شاید سب سے اہم بات یہ ہے کہ نون کی تحقیق کے مطابق برطانیہ میں یونیورسٹی سے تعلیم یافتہ 45 سے 60 سال کی 54 فیصد خواتین ایسے برانڈ سے خریداری کرنے کا زیادہ امکان رکھتی ہیں جس میں انہیں اپنی نمائندگی نظر آئے۔

لیکن کوئی برانڈ ان خواتین کی نمائندگی کیسے کر سکتا ہے اگر وہ ان میں سے کسی کو ملازمت ہی نہ دے؟

سوال یہ ہے کہ اتنی قیمتی صلاحیت رکھنے والا طبقہ اس وقت ملازمت کی دنیا سے کیسے باہر ہو گیا، جب ان خواتین کے پاس اب بھی ممکنہ طور پر 20 سال کا کیریئر باقی ہے؟

ہاؤز کہتی ہیں: ’ماضی میں 50 سال کی عمر آج کے مقابلے میں بہت زیادہ سمجھی جاتی تھی۔‘  وہ نون نیٹ ورک سے وابستہ ایسی خواتین کی مثال دیتی ہیں جنہوں نے 50 اور 60 کی دہائی میں پائلٹ بننے کے لیے دوبارہ تربیت حاصل کی یا مارشل آرٹس سیکھا، لیکن لوگوں کے عمومی تصورات اب بھی اس تبدیلی کے ساتھ ہم آہنگ نہیں ہو سکے۔

وہ کہتی ہیں: ’میں نیویارک میں ٹیکنالوجی کے شعبے میں کام کرتی تھی اور وہاں یہ تصور تھا کہ تمام نئے خیالات نوجوانوں کی طرف سے آتے ہیں۔ ہر طرف 20 سال کی عمر کے لوگوں کی بات ہوتی تھی اور یہ خیال پایا جاتا تھا کہ زیادہ عمر کا کوئی شخص ٹیکنالوجی یا بدلتی صورتِ حال کو سمجھ نہیں سکتا۔ یہ سوچ صنعت کے ہر شعبے تک پھیل گئی کہ کسی کا زیادہ عمر کا ہونا اس کے زمانے سے پیچھے ہونے کی علامت ہے۔‘

ان کے مطابق ایک اور مسئلہ یہ ہے کہ کم عمر مینیجرز بڑی عمر کے ملازمین کو بھرتی کرنے سے متعلق ممکنہ طاقت کے توازن پر فکرمند ہوتے ہیں۔

وہ کہتی ہیں: ’کبھی کبھی اداروں کے اندر یہ تناؤ یا خوف ہوتا ہے کہ اگر میں اپنے سے زیادہ عمر کے کسی شخص کو ملازمت دوں تو کیا وہ میری ہدایات پر عمل کرے گا؟ کیا وہ احکامات مانے گا؟ یا مجھے نظر انداز کرکے اپنے طریقے سے کام کرے گا؟‘

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

تاہم اب بالآخر ملازمت دینے والے ادارے بڑی عمر کے کارکنوں کو ملازمت دینے کے فوائد سمجھنے لگے ہیں۔

مثال کے طور پر ایم آئی 6 اور GCHQ  نے’مڈ کیریئر‘ خواتین کے لیے بھرتی مہم چلائی اور اس مقصد کے لیے Mumsnet پر اشتہارات دیے۔ ان کی بھرتی کی تشہیری مہم میں لچکدار کام اور ’اعلیٰ جذباتی ذہانت‘ کی اہمیت پر زور دیا گیا۔

بی ٹی گروپ نے بھی بڑی عمر کے افراد کو ملازمت دینے کی مہم شروع کی، کیونکہ اسے اپنے نوجوان کال سینٹر ملازمین اور ایسے صارفین کے درمیان واضح فرق محسوس ہوا، جن کی اکثریت 50 سال سے زیادہ عمر کی تھی۔

Just Group plc نے پینشن فروخت کرنے کے لیے بڑی عمر کے عملے کو راغب کرنے کی غرض سے مزید جز وقتی ملازمتیں پیدا کی ہیں، جبکہ John Lewis Partnership  درمیانی عمر کے ملازمین کو اپنی مہارتیں بڑھانے کے لیے اپرنٹس شپ اختیار کرنے کی ترغیب دے رہی ہے۔

دوسری جانب Rest Less  نے ایسے اداروں کی فہرست مرتب کی ہے جو ’عمر سے ہم آہنگ‘ ملازمت دینے والے اداروں کے طور پر جانے جاتے ہیں اور اس بات کو تسلیم کرتے ہیں کہ افرادی قوت میں تنوع کارکردگی اور نتائج کو بہتر بنا سکتا ہے۔

اور جو کاروبار باصلاحیت، محنتی اور اب تک پوری طرح استعمال نہ ہونے والے مڈ لائف کارکنوں کی صلاحیت کو بروئے کار لائیں گے، ممکن ہے انہیں ہی کامیابی کا اصل راز مل جائے۔


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *