امریکی ناکہ بندی: کیا ایران کے پاس متبادل راستہ موجود ہے؟

خلیج عرب میں امریکی فوجی کارروائیوں کے ذمہ دار ادارے یونائیٹڈ سٹیٹس سینٹرل کمانڈ نے اعلان کیا ہے کہ امریکی صدر کی منظوری سے سوموار کی شام سے ایرانی بندرگاہوں میں داخل اور نکلنے والے تمام بحری جہازوں کی ناکہ بندی شروع کی جائے گی۔

سینٹرل کمانڈ کے بیان کے مطابق اس میں تمام ممالک کے بحری جہاز شامل ہوں گے جو ایرانی بندرگاہوں میں داخل یا خارج ہوں گے، تاہم ایرانی بندرگاہوں کے علاوہ دیگر ممالک کی بندرگاہوں کے جہازوں کو کچھ نہیں کہا جائے گا۔

اس کا واضح مطلب یہ ہے کہ ایرانی بندرگاہوں سے نکلنے والے تیل کے جہازوں کو روکا جائے گا اور ان جہازوں کو دوسرے ممالک کو سپلائی کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

یہ ناکہ بندی ایران کی تیل کی دیگر ممالک کو سپلائی کو متاثر کرے گی کیونکہ آبنائے ہرمز کی ایران کی جانب سے جزوی بندش کے باوجود ایرانی جہازوں کو گزرنے کی اجازت تھی، لیکن اب امریکہ کی جانب سے مکمل ناکہ بندی کا اعلان کیا گیا ہے۔

ایران کے متبادل راستے؟

اب سوال یہ ہے کہ کیا ایران کے پاس آبنائے ہرمز کو بائی پاس کرتے ہوئے کوئی متبادل راستہ موجود ہے؟ اس حوالے سے انٹرنیشنل انرجی ایجنسی کی ایک رپورٹ کے مطابق ایران نے 2021 میں جسک ٹرمینل کی بنیاد رکھی تھی۔

یہ پائپ لائن ایران کے بوشہر علاقے کو خلیج عمان کے ایران کی جسک ٹرمینل سے ملاتی ہے جو تقریباً ایک ہزار کلومیٹر طویل پائپ لائن ہے۔ تاہم اس پائپ لائن کی روزانہ کی صلاحیت 10 لاکھ بیرل ہے، یعنی اگر یہ مکمل گنجائش پر چلائی جائے تو روزانہ 10 لاکھ بیرل تیل آبنائے ہرمز کو بائی پاس کرتے ہوئے برآمد کیا جا سکتا ہے۔

اس کا مطلب یہ ہے کہ ایران آبنائے ہرمز کے راستے تقریباً 20 لاکھ بیرل یومیہ اور اس پائپ لائن کے ذریعے تقریباً 10 لاکھ بیرل یومیہ برآمد کر سکتا ہے، یعنی مجموعی طور پر تقریباً 50 فیصد تیل متبادل راستے سے منتقل ہو سکتا ہے۔

آخری بار اس پائپ لائن سے 2024 میں تجرباتی بنیاد پر خام تیل کی ترسیل کی گئی تھی، لیکن اس کے بعد یہ مکمل طور پر آپریشنل نہیں ہے۔

انٹرنیشنل انرجی ایجنسی کے مطابق ایران کی تقریباً 80 فیصد تیل کی برآمدات چین خریدتا ہے، جبکہ ایران کی روزانہ تیل کی سپلائی تقریباً 20 لاکھ بیرل کے لگ بھگ ہے جو آبنائے ہرمز کے راستے برآمد کی جاتی ہے۔

ایسی اطلاعات ہیں کہ امریکہ نے ایک چینی بحری جہاز کو منگل کی صبح روک بھی لیا ہے۔

تقریباً 54 کلومیٹر طویل اس تنگ سمندری راستے آبنائے ہرمز کے ذریعے خلیجی ممالک کا تقریباً 20 ملین بیرل تیل روزانہ کی بنیاد پر منتقل ہوتا ہے، جو دنیا کے تیل کے استعمال کا تقریباً 25 فیصد ہے۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اسی طرح اسی راستے سے دنیا کے تقریباً 19 فیصد ایل این جی کی سپلائی کی جاتی ہے، جس میں قطر کا 93 فیصد اور متحدہ عرب امارات کا 96 فیصد ایل این جی شامل ہے۔

ماہرین کے مطابق تیل کے علاوہ دیگر تجارت کے لیے ایران کے پاس ایران – ترکی سرحد اور روس کے ساتھ بحیرہ کیسپین کے ذریعے متبادل راستے موجود ہیں، لیکن یہ راستے آبنائے ہرمز سے ہونے والی تجارت کے حجم کا مکمل متبادل نہیں بن سکتے۔

محمد فیصل فارن پالیسی کے ماہر اور آسٹریلیا کے شہر سڈنی کی یونیورسٹی آف ٹیکنالوجی میں بحر ہند اور جنوبی ایشیا میں مختلف ممالک کی جانب سے طاقت کے مقابلے کے حوالے سے تحقیق کر رہے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ ایران کے پاس آبنائے ہرمز کے علاوہ دو تجارتی راستے ہیں جس میں ایک ترکی کا اور دوسرا وسطی ایشیا میں بحیرہ کیسپیئن ہے جس سے روس کے ذریعے زیادہ تجارت کی جاتی ہے۔

تاہم فیصل نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا امریکہ کی ناکہ بندی سے چین زیادہ متاثر ہوگا جبکہ زمینی راستے کے ذریعے برآمدات کسیپئن اور بذریعہ ترکی راستے ممکن ہے۔ 

انہوں نے بتایا،’ایران کے لیے کیسپئن اور ترکی کے زمینی راستے کے ذریعے تیل کی برآمدات ممکن نہیں ہے کیونکہ ایران کے تیل کی بڑی بندرگاہ خارگ جزیرے میں واقع ہے۔‘

فیصل کے مطابق ناکہ بندی سے پوری دنیا میں تیل کی قیمتیں بڑھ جائیں گی جس سے پاکستان بھی متاثر ہوسکتا ہے۔ 

ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایرانی بندرگاہوں سے نکلنے اور داخل ہونے والے جہازوں کی ناکہ بندی کے بعد پیر کو مارکیٹ کھولنے پر تیل کی قیمتیں ایک مرتبہ پھر فی بیرل تقریباً 94 ڈالر سے بڑھ کر 101 ڈالر تک پہنچ گئی ہیں جو تقریباً سات فیصد اضافہ ہے۔

ناکہ بندی کتنی آسان؟

نیٹو کے سابق الائڈ کمانڈر ایڈمرل سٹیورڈس نے گذشتہ روز سی این این کے فرید ذکریا کو بتایا کہ ٹرمپ کی جانب سے آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی کا فیصلہ کوئی آسان کام نہیں ہے۔

انہوں نے بتایا کہ ناکہ بندی کے لیے امریکہ کو بہت بڑی نیوی طاقت درکار ہوگی جس کے لیے ایئرکرافٹ کیریئر سٹرائیک گروپس، درجنوں ڈسٹرائرز و فریگیٹس خلیج کے باہر درکار ہوں گی۔ 

انہوں نے بتایا، ’خلیج کے اندر سعودی اور متحدہ عرب امارات کی نیوی کی مدد کی بھی ضرورت ہوں گی۔‘

انہوں نے بتایا کہ ایران یہ دراصل ایران پر اقتصادی دباؤ ڈالنے کے لیے جنگ کے مترادف اقدام ہوگا۔ 

سٹیورڈس نے بتایا،’ایران سمگلنگ، چھوٹی کشتیوں سے بارودی سرنگیں بچھا کر، اور روس و چین کی مدد سے سائبر حملوں کے ذریعے (مصنوعی ذہانت کا استعمال کرتے ہوئے) جواب دے سکتا ہے۔‘

لیکن ایک اور امریکی فوج ماہر کا کہنا ہے کہ امریکہ چند جہازوں کو روک کر خلل ڈال کر بھی اپنے اہداف حاصل کرسکتا ہے اس کے لیے اسے مکمل ناکہ بندی کی شاید ضرورت نہ پڑے۔


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *