جماعت اسلامی کی کال پر جزوی ہڑتال، حکومت نے پیٹرولیم لیوی پر کمیٹی بنا دی

جماعت اسلامی کی جمعرات کو ملک گیر جزوی ہڑتال کے بعد حکومت نے مذاکرات کے بعد پیٹرولیم لیوی میں کمی کے لیے کمیٹی بنا دی۔

جماعت اسلامی نے گذشتہ 15 دنوں سے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے خلاف ملک کے مختلف شہروں میں دھرنا بھی دیا تھا جبکہ آج شٹر ڈاؤن ہڑتال کی کال دی تھی۔

لاہور سے انڈپینڈنٹ اردو کے نمائندے ارشد چوہدری اور پشاور سے اظہار اللہ کے مطابق جماعت اسلامی پاکستان کی جانب سے پیٹرولیم مصنوعات پر لیوی ٹیکس کے خلاف ملک گیر شٹر ڈاؤن ہڑتال کی کال پر جمعرات کو لاہور سمیت پنجاب اور خیبر پختونخوا کے مختلف شہروں میں جزوی ہڑتال کی گئی، تاہم بیشتر بڑی تاجر تنظیموں نے ہڑتال کی حمایت نہیں کی اور کئی بڑے بازار معمول کے مطابق کھلے رہے۔

جماعت اسلامی نے ملک بھر میں احتجاجی دھرنوں کے بعد تین ستمبر کو شٹر ڈاؤن ہڑتال کی کال دی تھی۔

جماعت اسلامی اور حکومت کے درمیان مذاکرات

حکومتی ٹیم رانا ثنا اللہ اور احسن اقبال کی سربراہی میں جماعت اسلامی کی قیادت سے ملاقات میں یقین دہانی کرائی کہ  پیٹرولیم لیوی کم کرنے کے حوالے سے کمیٹی تشکیل دی جائے گی۔

احسن اقبال نے کہا کہ پیٹرولیم لیوی ختم کرنے کے لیے جماعت اسلامی تجاویز دے تو اس پر غور کریں گے۔

ںعیم الرحمٰن نے پریس کانفرنس میں کہا کہ حکومت نے ان سے دھرنے اور ہڑتال ختم کرنے کو کہا ہے تاہم ’ہم  نے کہا کہ دھرنے چلیں گے تو بات چیت میں بھی مزہ آئے گا۔‘

پنجاب میں جزوی ہڑتال

ہڑتال کو کامیاب بنانے کے لیے جماعت اسلامی کے کارکنوں نے لاہور میں مال روڑ پر ریلی نکالی، تاہم بیشتر دکانیں کھلی رہیں اور صرف جماعت اسلامی کے حامی تاجروں نے کاروبار بند رکھا۔

جماعت اسلامی کے امیر حافظ نعیم الرحمن نے دھرنے کے شرکا سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پیٹرولیم مصنوعات پر لیوی ٹیکس کی وصولی کے خلاف دھرنے جاری ہیں اور آج ملک گیر ہڑتال بھی کی گئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگر حکومت نے لیوی ٹیکس ختم نہ کیا تو جماعت اسلامی اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ کا اعلان کرے گی۔

جماعت اسلامی کے ترجمان نے دعویٰ کیا کہ ہڑتال ناکام بنانے کے لیے کراچی، لاہور، لاڑکانہ اور دیگر شہروں سے جماعت اسلامی کے متعدد کارکنوں کو حراست میں لیا گیا ہے۔

تاہم پولیس کے مطابق صرف ان کارکنوں کو حراست میں لیا گیا جو مبینہ طور پر زبردستی دکانیں بند کرانے کی کوشش کر رہے تھے۔

صدر انجمن تاجران لاہور مجاہد مقصود بٹ نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ تاجر کسی سیاسی جماعت کے آلہ کار نہیں بن سکتے۔ ان کا کہنا تھا کہ جب تاجروں کے خلاف ’پیرا فورس‘ کارروائی کر رہی تھی تو جماعت اسلامی کہاں تھی۔

انہوں نے کہا کہ تاجر اپنے مسائل خود حل کرانے کی کوشش کر رہے ہیں، اس لیے انجمن تاجران لاہور نے ہڑتال کا بائیکاٹ کیا اور کاروبار معمول کے مطابق جاری رکھا۔

خیبر پختونخوا میں بھی جزوی ہڑتال

دوسری جانب خیبر پختونخوا کے مختلف اضلاع میں بھی جماعت اسلامی کی کال پر جزوی شٹر ڈاؤن ہڑتال کی گئی اور بعض مارکیٹیں بند رہیں۔

پشاور کے مرکزی بازار صدر اور خیبر بازار میں چند دکانوں کے علاوہ بیشتر دکانیں کھلی رہیں، جبکہ بازاروں میں معمول کے مطابق رش بھی دیکھا گیا۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

دیر، باجوڑ، سوات اور مردان سمیت صوبے کے بعض اضلاع میں کچھ مارکیٹیں مکمل طور پر بند رہیں، جبکہ بعض مقامات پر کاروباری سرگرمیاں جزوی طور پر جاری رہیں۔

جن اضلاع میں ہڑتال کی گئی وہاں جماعت اسلامی کے مقامی قائدین کی جانب سے احتجاجی مظاہرے بھی کیے گئے۔

جماعت اسلامی کا کہنا ہے کہ اگر مذاکرات میں اس کے مطالبات تسلیم نہ کیے گئے تو دھرنے اور احتجاج کا سلسلہ جاری رکھا جائے گا، جبکہ آئندہ کے لائحہ عمل میں اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ بھی شامل ہو سکتا ہے۔

کراچی میں مارکیٹس کھل گئیں

کراچی اور سندھ کے دیگر شہروں میں بھی جزوی ہڑتال کی گئی جہاں مرکزی مارکیٹس کھلی رہیں۔

نامہ نگار ممتاز جمالی کے مطابق پیٹرولیم لیوی ٹیکس کے خلاف جماعت اسلامی کی ہڑتال کے باعث شہر کی مختلف مارکیٹیں دوپہر 12 بجے تک بند رہیں۔

صدر اور زینب مارکیٹ بھی دوپہر تک بند رہیں، جبکہ موبائل مارکیٹ اور الیکٹرانکس مارکیٹ میں بھی کاروباری سرگرمیاں دوپہر تک معطل رہیں۔

دوپہر کے بعد شہر کی مختلف مارکیٹیں بتدریج کھلنا شروع ہوگئیں اور کاروباری سرگرمیاں بحال ہونے لگیں۔

بلوچستان میں ہڑتال مسترد، صرف گوادر میں شٹر ڈاؤن

بلوچستان میں جماعت اسلامی کی اپیل پر کوئٹہ سمیت صوبے کے بیشتر علاقوں میں شٹر ڈاؤن ہڑتال مسترد کردی گئی اور اکثر شہروں میں تجارتی مراکز کھلے رہے۔

انڈپینڈنٹ اردو کے نامہ نگار محمد عیسیٰ کےمطابق انجمن تاجران بلوچستان کے صدر نے تاجروں کو اعتماد میں نہ لیے جانے پر ہڑتال کی مخالفت کی۔

صوبے میں صرف گوادر میں شٹر ڈاؤن ہڑتال کی گئی، جبکہ دیگر بیشتر علاقوں میں کاروباری سرگرمیاں معمول کے مطابق جاری رہیں۔


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *