تہران میں جو ہوا وہ وزارت دفاع کا مینڈیٹ نہیں تھا: خواجہ آصف کا فضل الرحمن کو جواب

پاکستان کے وزیر دفاع خواجہ آصف نے جمعرات کو قومی اسمبلی میں مولانا فضل الرحمن کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ ’تہران میں کوئی دفاعی معاہدہ نہیں ہو رہا تھا نہ ہی وہاں پاکستان کی دفاع یا کسی اور متعلقہ موضوع پر بات چیت ہو رہی تھی۔‘

وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف نے قومی اسمبلی کے اجلاس کے دوران بدھ کو مولانا فضل الرحمن کی جانب سے کی گئی تقریر کا جواب دیا۔

مولانا فضل الرحمن نے بدھ کو قومی اسمبلی میں ہی بات کرتے ہوئے حکومت اور خاص طور پر خواجہ آصف کو تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ ’دفاعی معاہدہ ایران میں ہو رہا ہے، میٹنگ ہو رہی ہے، دفاعی وزیر اور خارجہ وزیر یہاں بیٹھے ہیں۔

انہوں نے سوال کیا تھا کہ ’وہاں بھی وزارت داخلہ کی ڈیوٹی ہوتی ہے؟ اپنی عزت و مقام، کوئی شرم ہوتی ہے، کوئی حیا ہوتی ہے۔‘

ان کی اس تقریر کے جواب میں جمعرات کو خواجہ آصف نے کہا کہ ’تہران میں جو کچھ ہو رہا تھا وہ وزارت دفاع کا مینڈیٹ نہیں تھا۔‘

خواجہ آصف نے مولانا فضل الرحمن کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ ’میں نے سمجھا کہ میں ریکارڈّ پر واضح کر دوں کہ میری وہاں (تہران) ضرورت نہیں تھی۔‘

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

انہوں نے کہا کہ وہ حالیہ دو دفاعی معاہدوں کے موقع پر موجود تھے۔

’فیلڈ مارشل وہاں پر ایک صلح کے پیامبر بن کر پہنچے، اس کے لیے زمین ہموار کی اور وہاں سعودی اور ترکی کے انٹیلی جنس چیف آئے۔ ترکی سے بھی وزیر دفاع نہیں آئے۔‘

خواجہ آصف نے مزید کہا کہ ’یمن اور سعودی عرب کی صورت حال بگڑ سکتی تھی مگر اسے کچھ سنبھالہ دیا گیا ہے اور بات چیت اس طرف چلی ہے کہ آنے والے دنوں یا ہفتوں میں یمن اور سعودی عرب سے متعلق صورت حال امن کی کی طرف بڑھے۔

’اس لیے میں سمجھتا ہوں کہ یہ نکتہ چینی صحیح نہیں تھی۔‘

انہوں نے مولانا فضل الرحمن کے الفاظ پر کہا کہ ’مجھے طعنہ دیتے ہیں کہ کچھ شرم کرو کچھ حیا کرو۔ آپ بھی تو کچھ شرم اور کچھ حیا کر لیں۔

’کن کن چیزوں اور مرعات کو آپ نے پچھلے 40 سال کی سیاست میں انجوائے کیا ہے۔ دس سال تک کشمیر کمیٹی کے چیئرمین کی حیثیت سے کیا کارنامہ انجام دیا ہے؟‘

انہوں نے کہا کہ ’مولانا کی ساری سیاست کی بنیاد مذہب پر ہے۔ میرے لیے یہ ٹھیک ہے ہونا بھی چاہیے، جن کے پاس مذہب کی فرنچائز ہو وہ سیاست کے لیے استعمال کر سکتے ہیں۔‘

قومی اسمبلی میں خواجہ آصف کی تقریر کے دوران اپوزیشن نشستوں سے ایک خاتون رکن نے بات کرنا چاہیے تو خواجہ آصف نے کہا کہ ’اب مولانا کو خواتین کی حمایت کی ضرورت پڑ گئی ہے۔ کوئی مرد نہیں مل رہا جو دفاع کر سکے۔‘


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *