بینکرز کے دل نہیں ہوتے؟

کینیڈین مزاح نگار اور مصنف سٹیفن لی کاک نے اپنے مضمون ’مائی فنانشل کیرئیر‘ میں بینک جانے اور اکاونٹ کھلوانے کے چند لمحے بعد ہی سب پیسے نکلوانے اور واپس جرابوں میں رکھنے کی جو داستان لکھی ہے گو بظاہر وہ طنز ومزاح کے زمرے میں آتی ہے لیکن میں جب بھی بینک جاتی ہوں مجھے وہ تحریر یاد آجاتی ہے۔

بینک کا سرد ماحول، بینکرز کے ربوٹیک چہرے، مشین سے ٹوکن لے کے اپنی باری آنے کا انتظار کرنا اور اس انتظار کے بعد ایک شیشے کے پار بیٹھے بے تاثر چہرے کا منہ ہی منہ میں کچھ گنگنانا، جس سے اپنی سماعت پہ شک ہوتا ہے۔

اکثر و بیشتر کاونٹر کے پیچھے بیٹھے یہ لوگ آپس میں ہنسی ٹھٹھول میں مصروف ہوتے ہیں اور کاونٹر کے اس طرف کھڑے شخص کو اپنا کام اور اپنا آپ بےحد بےمقصد اور فالتو محسوس ہوتا ہے۔

یہ میں عام بینکنگ کی بات کر رہی ہوں، بڑے اکاونٹ ہولڈرز کی کہانی کچھ اور ہوتی ہے۔ چھوٹے اکاونٹ ہولڈرز اور خاص کر پنشنرز، بیوہ اور گھریلو خواتین، عام طور پہ بینکوں میں ان کی کوئی خاص مدد نہیں کی جاتی اور انہیں کافی پریشانی اٹھانا پڑتی ہے۔

بینکرز عام طور پہ اردو بولتے ہیں، پنجابی سندھی ،پشتو، سرائیکی، بلوچی یا کوئی اور علاقائی زبان بولنے والا سادہ شخص بینک جا کے عملے کو اپنی بات مشکل سے ہی سمجھا سکتا ہے۔

پیسے جمع کرانا، چیک کاٹنا، اپنے بچت کا حساب رکھنا، یہ سب ہر شخص کے بس کا روگ نہیں۔ بینک کی کاغذی کارروائی سمجھنا اور ان فائلوں کے پیٹ بھرنے کے لیے بے شمار کاغذات، رنگ رنگ کے اداروں سے جمع کر کے لانا بھی ہر کس و نا کس کا کام نہیں۔

جو شخص یہ کام کرا لیتا ہے، اس کی موت کی صورت میں ضروری نہیں کہ ورثا کو بھی اس ساری کارروائی کی سمجھ بوجھ ہو۔ جیسا کہ اڑیسہ میں پچھلے ماہ پیش آنے والے ایک واقعہ میں ہم نے دیکھا۔

کسی رشتے دار کے مر جانے کا ثبوت اس سے بڑا کیا ہو گا کہ وہ مر گیا؟ یہ بات صدیوں کی لوک دانش کے حامل مقامی افراد تو جانتے ہیں مگر بینک کو یہ ثبوت کاغذ پہ چاہیے ہوتا ہے۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

بینکر کی کرسی پہ بیٹھا شخص بھی کہیں اور سے نہیں آیا ہوتا وہ سامنے کھڑے شخص کی عمر، چہرے اور گفتگو سے اچھی طرح جان سکتا ہے کہ وہ شخص مطلوبہ کاغذات مہیا کر سکتا ہے کہ نہیں؟

اس کے باوجود عملہ متاثرہ شخص کی مدد کرنے کی بجائے اس سے یہ ہی کہتا ہے کہ آپ کاغذات لے آئیں ہم آپ کا کام کر دیں گے۔

ہمارے ہاں دھوکہ دہی بھی ایک بڑا مسئلہ ہے لیکن بینکنگ کے نظام کی اسی کمزوری اتنے برس پہلے سٹیفن لی کاک نے مزاحیہ انداز میں بیان کی تھی اور آج 2026 میں ہم نے اس کی بدترین شکل دیکھی، جب اڑیسہ کا ایک شخص اپنی بہن کی قبر سے اس کی باقیات کھود کے لے آیا کہ لو، میرے پاس یہ ہی ثبوت ہے۔

کئی ذاتی واقعات میں بھی میں یہ دیکھ چکی ہوں کہ بینکرز، جو کام کر رہے ہوتے ہیں اس میں پیشہ ورانہ طور پہ تو کوئی کمی نہیں ہوتی لیکن چھوٹے اکاونٹ ہولڈرز کے لیے ایک سرد رویہ پایا جاتا ہے۔

یہ بینکنگ کے نظام کی خامی ہے، سرمایہ دارانہ نظام کی بدصورتی ہے یا استعماری آقاوں کی چھوڑی ہوئی رعونت ہے کہ کرسی پہ بیٹھ کے، انگریزی کوٹ پتلون ڈال کے، سامنے کھڑے اپنے ہی چاچا، کاکا ، تایا کی وضع کے شخص کو ’براون مین‘ سمجھنے لگتے ہیں، واللہ اعلم۔

گو یہ واقعہ انڈیا میں پیش آیا لیکن ہمارے ملک میں بھی حالات کچھ زیادہ فرق نہیں۔ اب تو کئی مقامی بینک بھی موجود ہیں اور بدیسی بینکوں کے سربراہ بھی مقامی ہی ہوتے ہیں۔ سو اس واقعے سے عبرت پکڑیں اور بینکوں کے عملے کی تربیت پہ دوبارہ غور کریں۔

بوڑھے، پنشنرز، بیوائیں، کمسن بچے، یا وہ لوگ جو کسی وجہ سے بینکنگ کا پیچیدہ نظام نہیں سمجھ سکتے ان کی مدد کرنے، کاغذات کے حصول میں ان کا ساتھ دینے اور پھنسے ہوئے پیسے، رکے ہوئے لاکر، کھوئی ہوئی چابی کے مسائل وغیرہ یہ سب حل کرانے کے لیے عملے کی نئے سرے سے تربیت کی جائے۔

یہ کوئی ایسا مشکل کام نہیں، جب آپ سوتے ہوئے لوگوں کو فون کر کے جگا کے کریڈٹ کارڈ لینے، بینک سے قرضہ لینے، قرض کی گاڑی، قرض کا مکان لینے کی ترغیب دینے کی تربیت دے سکتے ہیں تو یہ تربیت تو ہماری تہذیب کا حصہ ہے۔

تربیت نہیں، شاید ہمیں صرف اپنی روایات سیکھنے اور یاد رکھنے کی ضرورت ہے جس سے کتنے ہی مسائل حل ہو جائیں گے۔

نوٹ: یہ تحریر مصنفہ کی رائے پر مبنی ہے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *