بچوں میں آن لائن انتہا پسندی کا شکار ہونے کی علامات دیکھ کر والدین کیا کریں؟

جولائی 2024 میں ساؤتھ پورٹ میں تین کم سن لڑکیوں کو قتل کرتے وقت ایکسل روڈاکوبانا کی عمر 17 سال تھی۔ یہ خوفناک حملہ روڈاکوبانا کی جانب سے بغیر کسی نگرانی کے برسوں تک آن لائن انتہائی اور پرتشدد مواد دیکھنے کے بعد پیش آیا۔

ساؤتھ پورٹ واقعے کی نئی انکوائری رپورٹ اب یہ بتاتی ہے کہ اگر ایکسل روڈاکوبانا کے والدین اپنے تمام خدشات حکام کو بتاتے تو اس سانحے کو روکا جا سکتا تھا۔ رپورٹ میں اداروں کی جانب سے مداخلت کے ضائع ہونے والے کئی مواقع کی بھی نشاندہی کی گئی ہے، جن میں اسے انسداد دہشت گردی اور انتہا پسندی کے خاتمے کے پروگرام ’پریونٹ‘ سے مسترد کیے جانے کا فیصلہ بھی شامل ہے۔

ایکسل روڈاکوبانا کی والدہ نے سماعت کے دوران بتایا: ’ایسے بہت سے کام ہیں جن کے بارے میں الفونس (ایکسل روڈاکوبانا کے والد) اور میں سوچتے ہیں کہ کاش ہم نے انہیں مختلف انداز میں کیا ہوتا، کوئی بھی ایسا قدم جو 29 جولائی 2024 کے اس خوفناک واقعے کو روک پاتا۔ ہم اپنی اس ناکامی پر انتہائی معذرت خواہ ہیں۔‘

اس رپورٹ نے اس حوالے سے بحث چھیڑ دی ہے کہ اگر والدین اپنے بچوں میں آن لائن انتہا پسندی کا شکار ہونے کی علامات دیکھیں تو انہیں کیا کرنا چاہیے۔ ذیل میں سارہ نامی ایک ماں، اپنی کہانی بیان کر رہی ہیں کہ انہیں کیسے معلوم ہوا کہ ان کا بیٹا جان 14 سال کی عمر سے آن لائن انتہا پسندانہ مواد دیکھ رہا تھا اور یہ فیصلہ کرنے میں انہیں کس تکلیف دہ جدوجہد کا سامنا کرنا پڑا کہ اب انہیں کیا کرنا چاہیے؟

میرا بیٹا اپنی 15 ویں سالگرہ سے کچھ عرصہ قبل ہی آن لائن انتہا پسندی کا شکار ہو گیا تھا لیکن مجھے اس کا بالکل اندازہ نہیں تھا۔ اس کے دوست نے اسے اپنے فون پر ایک میم دکھائی جس میں دکھایا گیا تھا کہ فوجی سڑکوں پر رہ رہے ہیں کیوں کہ تارکین وطن نے ان کے تمام گھروں پر قبضہ کر لیا ہے۔

میرے بیٹے نے آنکھیں بند کر کے اس پر یقین کر لیا اور چونکہ ہمارے خاندان کے ایک شخص فوج میں رہنے کے بعد ذہنی صحت کے مسائل سے دوچار تھے، اس لیے اس بات نے اسے بہت غصہ دلایا۔ اسے یہ سب ذاتی سا محسوس ہوا۔

ایک دوست نے اسے ایک انتہائی دائیں بازو کے فورم میں شامل ہونے کی دعوت دی اور وہاں سے یہ سلسلہ تیزی سے پھیلتا گیا۔ وہ مزید پلیٹ فارمز میں شامل ہوتا گیا اور پروپیگنڈہ مواد دیکھنے میں اس کا وقت بڑھتا گیا۔ مجھے نہیں معلوم تھا کہ وہ کیا دیکھ رہا ہے، لیکن میں اس کے رویے میں تبدیلیاں دیکھ سکتی تھی۔

جان (فرضی نام) ہمیشہ سے ایک بہت پیارا لڑکا تھا۔ خوش مزاج، ہنس مکھ، محبت کرنے والا اور شفیق لیکن وہ تیزی سے ایک ایسے شخص میں بدل گیا جسے پہچاننا مشکل تھا۔ وہ جھگڑالو، بدتمیز ہو گیا اور مجھے ’بیوقوف‘، ’احمق‘ اور ’واپس کچن میں جاؤ‘ جیسی باتیں کہنا شروع کر دیا۔ اب سوچتی ہوں تو مجھے اسے اس مواد کی وارننگ سمجھنی چاہیے تھی، جو وہ دیکھ رہا تھا، لیکن میں نے ایسا نہیں سوچا۔ میں بس بہت الجھن کا شکار تھی۔

میں نے اس سے پہلے سکول کے ساتھ کبھی رابطہ نہیں کیا تھا، سوائے والدین کی ضروری ملاقاتوں کے، لیکن اب ایسا لگ رہا تھا جیسے میرا نمبر ان کے سپیڈ ڈائل پر ہو۔ اس کے تعلیمی گریڈ گر رہے تھے، وہ اساتذہ کو جواب دیتا تھا اور خلل ڈالنے والا بن گیا تھا۔

ہم سب جانتے تھے کہ کچھ غلط ہے، لیکن ہمیں اندازہ نہیں تھا کہ وہ کیا ہے۔ لوگوں نے مجھ سے کہا، دیکھو سارہ، وہ ایک نوجوان ہے، یہ صرف ایک عارضی دور ہے۔ لیکن وہ دور نہیں گزرا۔ اس کے بجائے اگلے 18 ماہ میں یہ مزید خراب ہو گیا۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ہمارا رشتہ ٹوٹ کر رہ گیا۔ مجھ سے بات کرنے کا اس کا انداز انتہائی خوفناک تھا۔ مجھے کچھ سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ کیا کروں؟ خاندان اور دوست میری خاطر اس سے بات کرنے کی کوشش کرتے لیکن وہ ان پر بھی اسی طرح زبانی بدتمیزی سے حملہ آور ہوتا۔

لوگوں نے اسے ایک ناکام انسان، ایک مسئلہ اور ایک برا لڑکا سمجھنا شروع کر دیا تھا۔ مجھے سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ کیا خرابی ہے کیوں کہ وہ باہر جا کر شراب نہیں پیتا تھا یا لڑائی جھگڑا نہیں کرتا تھا۔ وہ ہمیشہ گھر پر اکیلا اپنے کمرے میں کمپیوٹر پر بیٹھا رہتا تھا۔

مجھے لگا کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ محفوظ ہے، لیکن میں غلط تھی۔ وہ آن لائن انتہائی دائیں بازو کا انتہا پسندانہ مواد دیکھ رہا تھا اور مجھے اس کا بالکل علم نہیں تھا۔ مجھے نہیں معلوم تھا کہ مجھے کن باتوں پر نظر رکھنی چاہیے۔ سکول میں، ہمیں جنسی استحصال، غنڈہ گردی، گینگز، شراب نوشی اور چاقو سے ہونے والے جرائم کی علامات کے بارے میں خبردار کیا گیا تھا۔

 یہ خطرے کی گھنٹیاں تھیں۔ کسی نے انتہا پسندی کے بارے میں بات نہیں کی تھی۔ مجھے اس کے بارے میں بس اتنا ہی معلوم تھا جو میں نے خبروں میں دیکھا تھا۔ میں نے ایک بار بھی نہیں سوچا تھا کہ ایسا کبھی میرے اپنے گھر میں ہو سکتا ہے۔

جب مجھے اس کی حرکتوں کا علم ہوا تو جان 17 سال کا تھا۔ وہ ایک سپورٹس ایونٹ میں جانے کے بعد گھر آیا اور اس نے اعتراف کیا کہ وہ دراصل ایک مظاہرے میں گیا تھا اور پولیس نے اسے پکڑ لیا تھا۔ وہ اس سے زیادہ کچھ بتانے کو تیار نہیں تھا اور اس نے صرف اس لیے یہ بات بتائی تھی کیونکہ وہ کم عمر تھا اور پولیس نے اس کی تفصیلات لے لی تھیں، اس لیے اسے لگا کہ وہ ہمارے گھر آ جائیں گے۔

چند ہفتے بعد، وہ ایک اور مظاہرے میں جانا چاہتا تھا۔ میں نے اپنے پارٹنر سے بات کی اور ہم نے فیصلہ کیا کہ یہ جاننے کا واحد طریقہ کہ کیا چل رہا ہے، یہ ہے کہ ہم اسے اگلے مظاہرے تک چھوڑنے کی پیشکش کریں۔ وہ جگہ اتنی دور تھی کہ وہ راضی ہو گیا۔ جب ہم وہاں پہنچے، تو میں نے اسے باعزت لباس پہنے لوگوں کے ایک گروپ کی طرف جاتے دیکھا اور میں نے سوچا، شاید میں زیادہ ہی سوچ رہی ہوں۔ پانچ منٹ بعد، میری یہ خوش فہمی بھی دور ہو گئی۔

میں نے اپنے بیٹے کو، جو ہمیشہ سے سب کو ساتھ لے کر چلنے والا اور خیال رکھنے والا تھا، وہ کام کرتے دیکھا جس کے وہ ہمیشہ سے سخت خلاف رہا تھا، یعنی مارچ کرنا اور نسل پرستانہ نعرے لگانا۔ یہ دیکھنا میرے لیے ایک بہت بڑا صدمہ اور انتہائی تکلیف دہ تھا، لیکن تب مجھے ساری بات سمجھ آ گئی۔

واپسی پر راستے میں، اسے اپنے کیے پر فخر تھا۔ میں نے اسے سمجھانے کی کوشش کی کہ مجھے معلوم ہے وہ گرومنگ کے خلاف ہے اور ہر کوئی ہوتا ہے، لیکن اس کا نسل یا مذہب سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ اس نے مجھ سے بحث کی اور اس کے بعد سے حالات بہت زیادہ خراب ہو گئے۔

جان نے اپنے خیالات کو چھپانا چھوڑ دیا اور انہیں کھلے عام سب کے سامنے بیان کرنا شروع کر دیا۔ سوشل میڈیا پر وہ جو کچھ لکھتا تھا وہ انتہائی خوفناک تھا۔ مجھے سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ میں کیا کروں۔ میں نے پولیس کے پاس جانے کا سوچا، لیکن مجھے ڈر تھا کہ اس سے حالات مزید خراب ہو جائیں گے۔ اگر وہ اس سے بات کرتے اور ناکام ہو جاتے، تو ہو سکتا ہے وہ مزید بگڑ جاتا اور اسے معلوم ہو جاتا کہ پولیس کو میں نے بتایا ہے۔ کیا ہوتا اگر وہ گھر چھوڑ کر چلا جاتا اور میں اسے ہمیشہ کے لیے کھو دیتی؟

میں نے اس کے اساتذہ کے پاس جانے کا بھی سوچا، لیکن وہ پہلے ہی سکول سے نکالے جانے کے قریب تھا اور مجھے ڈر تھا کہ وہ اسے نکال دیں گے۔ تب اس کی تعلیم ختم ہو جاتی اور اس کے پاس کوئی موقع نہ بچتا۔ میں کوئی بھی غلط قدم اٹھانے اور حالات کو مزید خراب کرنے سے اتنی خوفزدہ تھی کہ آخر کار، میں نے کچھ بھی نہیں کیا۔

میں خوش قسمت تھی کیونکہ جان کی ایک ٹیچر نے مجھ سے رابطہ کیا، انہوں نے اسے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے دیکھا تھا اور اس سے بات کرنے کے بعد، انہوں نے مجھے کال کی۔ میں خوفزدہ تھی لیکن میں جانتی تھی کہ مجھے ان کے خدشات کی تصدیق کرنی ہوگی۔ میں نے انہیں سچ بتا دیا، حالاں کہ یہ شدید شرمندگی کا باعث تھا اور مجھے بالکل اندازہ نہیں تھا کہ آگے کیا ہو گا؟ مجھے بس اتنا معلوم تھا کہ کچھ نہ کچھ تو کرنا ہی پڑے گا۔

یہ سب سے اچھی بات تھی جو ہو سکتی تھی، کیوں کہ جان کو مدد مل گئی۔ اسے ’پریونٹ‘ کے حوالے کر دیا گیا، جو حکومت کی زیر نگرانی چلنے والا برطانیہ کا ایک ملٹی ایجنسی پروگرام ہے جسے لوگوں کو دہشت گرد بننے یا دہشت گردی کی حمایت کرنے سے روکنے کے لیے ترتیب دیا گیا ہے۔

یہ پروگرام ایسے کمزور لوگوں کی مدد کے لیے ابتدائی مداخلت پر توجہ مرکوز کرتا ہے، جن کے انتہا پسندی کا شکار ہونے کا خطرہ ہوتا ہے اور جان کو ایک انٹروینشن پرووائیڈر دیا گیا، جو ایک سپیشلسٹ سپورٹ ورکر تھا اور جو انتہا پسندی کے خاتمے کے عمل میں اس کی مدد کے لیے آیا تھا۔

شروع میں، جان صرف اس لیے اس سے ملنے پر راضی ہوا تاکہ وہ انتہائی دائیں بازو کے اپنے گروپس کو معلومات فراہم کر سکے، لیکن اس کی انٹروینشن پرووائیڈر سے واقعی بہت اچھی بن گئی اور اس نے فیصلہ کیا کہ وہ اس کی باتوں کو واقعی سنے گا۔ اہم موڑ تب آیا جب جان نے اسے قرآن کی آیات کی اپنی تشریح بتائی۔ سپورٹ ورکر نے میری طرح اس کی بات کی مخالفت نہیں کی۔ اس نے بس جان سے کہا کہ وہ ایک ٹرانسلیٹر ڈاؤن لوڈ کرے، اس میں وہ آیات ڈالے اور پھر اسے بتائے۔ تب جان کو احساس ہوا کہ اسے اسلامی مذہبی متن کے مطلب کے بارے میں غلط معلومات دی گئی تھیں۔

اس بات نے اس کے دل میں یہ شک پیدا کر دیا کہ اس سے جھوٹ بولا گیا تھا۔ اس نے اپنے سپورٹ ورکر کے ساتھ مل کر مزید تحقیق کی اور پانچ ہفتوں کے اندر، جان نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز ڈیلیٹ کر دیے اور آن لائن گروپس سے الگ ہو گیا۔ یہ سب بہت جلدی ہو گیا، لیکن اسے ٹھیک ہونے اور اپنی زندگی کو واپس پٹری پر لانے میں کافی وقت لگا۔

اسے ان دوستوں کے ساتھ دوبارہ تعلقات استوار کرنے پڑے، جنہیں اس نے اپنی انتہا پسندی کے دوران کھو دیا تھا اور پرانے جان کو دوبارہ واپس آتے دیکھنے میں مہینوں لگ گئے۔ اسے ہر موڑ پر مدد ملتی رہی۔ جب اس کی روبرو ملاقاتیں ختم ہوئیں، تو اس کی ہفتہ وار جانچ پڑتال ہوتی تھی، پھر ماہانہ اور پھر ہر چند ماہ بعد ایک بار۔ انہوں نے کبھی اس کا ساتھ نہیں چھوڑا۔

ہمیں اپنا رشتہ بحال کرنے میں کئی سال لگ گئے، لیکن اب جب کہ وہ اپنی 20 کی دہائی کے آخر میں ہے، ہم بہت خوش ہیں۔ جان اب اپنی پرانی حالت میں نہیں ہے، بلکہ ایک بہتر انسان بن چکا ہے۔ اس نے ایسی چیزیں دیکھی ہیں جو کسی بچے یا نوعمر کو کبھی نہیں دیکھنی چاہییں اور سب سے بڑھ کر اسے خود کو معاف کرنا پڑا ہے۔ وہ آج بھی مجھے آن لائن دیکھے گئے اس مواد کے بارے میں نہیں بتاتا کیوں کہ وہ بہت ہی خوفناک تھا، لیکن وہ اپنے تجربات کو دوسروں کو تعلیم دینے کے لیے استعمال کر رہا ہے۔

اب وہ سمال سٹیپس کے لیے کام کرتا ہے، جو ایک رفاہی ادارہ ہے اور انتہا پسندی کے خطرات کے بارے میں تعلیم اور تربیت فراہم کرتا ہے۔ مجھے اس پر بہت فخر ہے، اسے اس طرح واپس آتے اور اپنی غلطیوں کو تسلیم کرتے دیکھ کر جیسا اس نے کیا ہے۔ 

وہ میرے لیے مشعل راہ ہے اور میں اب فلاحی ادارے ایگزٹ ہیٹ کے لیے کام کرتی ہوں۔ یہ ادارہ انتہا پسندی چھوڑنے والے افراد کے ساتھ ساتھ ان کے خاندانوں کو مدد فراہم کرتا ہے۔ میں یہ یقینی بنانا چاہتی ہوں کہ کوئی بھی خاندان کبھی اتنا تنہا اور اکیلا محسوس نہ کرے، جتنا میں نے اس وقت کیا تھا اور انہیں یہ معلوم ہو کہ کبھی دیر نہیں ہوتی۔ آپ ہمیشہ مدد حاصل کر سکتے ہیں۔

یہ کہانی رادھیکا سنگھانی کو بتائی گئی۔


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *