چین کی ایک فٹنس انفلوئنسر نے 2026 کی برلن میراتھن میں دھوکا دہی کا اعتراف کرتے ہوئے معذرت کر لی۔ ان کی تصاویر سامنے آئی تھیں جن میں انہیں دوڑ کے دوران سائیکل چلاتے ہوئے دیکھا جاسکتا ہے۔
سوشل میڈیا پر مجموعی طور پر 5 لاکھ 30 ہزار فالوورز رکھنے والی انفلوئنسر کو، جسے ابیر کے نام سے جانا جاتا ہے، میراتھن کے 38 کلومیٹر کے مقام کے قریب سائیکل پر سوار دیکھا گیا۔
آفیشل میراتھن ٹائم انٹیگریٹی یونٹ کے مطابق انسٹاگرام پر ایک ایسا پیج ہے جو انفلوئنسرز کی جانب سے دوڑ کے اوقات سے متعلق غلط یا گمراہ کن دعوؤں کی نشاندہی کرتا ہے۔
یہ تصاویر آن لائن بڑے پیمانے پر گردش کرتی رہیں اور چین کے بعض نیوز اداروں نے بھی ان پر خبریں نشر کیں۔
آفیشل میراتھن ٹائم انٹیگریٹی یونٹ کے مطابق، جسے گذشتہ سال آسٹریلیا کے دو رنرز نے شروع کیا تھا، ابیر کی میراتھن کا تیز ترین مرحلہ 35 سے 40 کلومیٹر کے درمیان تھا، یعنی وہ حصہ جس میں انہیں سائیکل پر سوار ہو کر اختتامی لائن کی جانب جاتے دیکھا گیا۔
انفلوئنسر نے دعویٰ کیا تھا کہ انہوں نے برلن میراتھن میں اپنی ذاتی بہترین کارکردگی (پرسنل بیسٹ) کا ریکارڈ قائم کیا ہے۔
تاہم، تین اکتوبر کو ابیر نے سوشل میڈیا پر اعتراف کیا کہ انہوں نے دوڑ کے قواعد کی خلاف ورزی کی اور اس پر معذرت کی۔
چینی سوشل میڈیا ٹرینڈز پر نظر رکھنے والے پلیٹ فارم ’واٹس آن ویبو‘ کے مطابق، انفلوئنسر نے کہا کہ طبیعت خراب ہونا ان کے اقدام کا جواز نہیں بن سکتا۔
بعد ازاں ابیر نے چینی پلیٹ فارم ’ریڈ نوٹ‘، جسے مقامی طور پر ’شیاؤہونگ شو‘ کہا جاتا ہے، سے میراتھن سے متعلق پوسٹس بھی حذف کر دیں۔
اتوار کو آفیشل میراتھن ٹائم انٹیگریٹی یونٹ نے کھیلوں کے برانڈ بروکس چائنا کی جانب سے معذرت نامہ شائع کیا۔ کمپنی نے کہا کہ اسے اپنی پارٹنر انفلوئنسر کی تربیت کے منصوبوں اور میراتھن کے اہداف کا علم تھا اور اس نے دوڑ کے لیے اسے سامان بھی فراہم کیا تھا۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
کمپنی نے اعتراف کیا کہ اس کی جانچ پڑتال ناکافی رہی۔ بیان میں کہا گیا، ’دوڑ کے بعد ہم نے اختتامی نتائج اور فراہم کردہ متعلقہ تحریری مواد، تصاویر اور ویڈیوز کی تصدیق تو کی، لیکن شرکت کے پورے عمل کا جامع اور تفصیلی جائزہ نہیں لیا، خصوصاً مختلف حصوں کے اعداد و شمار جیسی معلومات کی جانچ نہیں کی۔ یہ ہماری جانب سے کوتاہی تھی۔‘
بروکس نے کہا کہ اس نے فوری طور پر انفلوئنسر کے ساتھ اپنا معاہدہ ختم کر دیا ہے اور ’آئندہ کبھی ان کے ساتھ کام نہیں کرے گا۔‘
ریڈٹ پر بھی ابیر کی تصاویر موضوعِ بحث بن گئیں۔ ایک صارف نے لکھا، ’اگر دھوکا ہی دینا ہے تو پھر اس کا فائدہ کیا؟ یہ ایک عجیب انتخاب ہے۔‘
دیگر صارفین نے سوال اٹھایا کہ انہیں میراتھن میں ابتدائی رنرز کے لیے مخصوص حصے میں جگہ کیسے ملی، جبکہ بعض نے ان برانڈز کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا جنہوں نے انہیں سپانسر کیا تھا۔
ایک صارف نے سپانسرشپ کے اس تعلق کو ’شرمناک‘ قرار دیا۔
آفیشل میراتھن ٹائم انٹیگریٹی یونٹ معمول کے مطابق ان رننگ انفلوئنسرز کے دعوؤں کی نشاندہی کرتا ہے جن پر دوڑ کی کارکردگی کے بارے میں گمراہ کن معلومات دینے کا الزام ہو۔
بالخصوص ایسے معاملات میں جہاں انفلوئنسرز میراتھن کے سرکاری چِپ ٹائم کے بجائے اسٹروا یا جی پی ایس سے حاصل کردہ فاصلوں اور اوقات کو اپنی کارکردگی کے طور پر پیش کرتے ہیں۔
