میں نے اپنا بچپن مختلف ممالک میں رہتے ہوئے گزارا اور بار بار جگہیں بدلتی رہی۔ مجھے لگتا تھا کہ کثیر اللسانی اور براؤن (دیسی) ہونا بہت خوبصورت اور منفرد بات ہے، پھر ہمارا خاندان کیمبرج کے باہر ایک چھوٹے سے گاؤں میں منتقل ہو گیا اور یکایک میں ’گہرے رنگ والی شخصیت‘ بن گئی۔
مجھے سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ کیا ہو رہا ہے، کیونکہ مجھ میں تو کچھ بھی تبدیل نہیں ہوا تھا، مگر اچانک میں خود کو مختلف محسوس کرنے لگی۔
جب میں گاؤں میں چلتے ہوئے اپنے گھر والوں سے فون پر ہندی میں بات کرتی، تو لوگ عجیب نظروں سے دیکھتے۔
میرے لہجے کا مذاق اڑایا جاتا، میرے انڈین کپڑوں اور کھانوں پر تنقید ہوتی۔ میں سمجھ نہیں پاتی تھی کہ وہ چیزیں جن سے میں اتنی محبت کرتی تھی، اچانک میرے مذاق کا سبب کیوں بن گئیں۔
اس سب نے مجھے یہ محسوس کروایا کہ محفوظ رہنے کا واحد طریقہ یہ ہے کہ میں اپنے براؤن ہونے کے تمام پہلوؤں کو مسترد کر دوں۔
میں نے اپنے ڈراما سکول کے مشورے پر اپنا نام ماہیکا کے بجائے ’مایا‘ رکھ لیا کیونکہ ان کا کہنا تھا کہ لوگ آڈیشن میں میرا اصل نام غلط بولیں گے۔
اس کے بعد کے دس سال میں نے ’مایا‘ کے طور پر گزاری۔ میں اپنی اصل شخصیت، پسند اور شناخت کو چھوڑ کر دوسروں جیسا بننے کی کوشش کرتی رہی، میرے کوئی براؤن دوست نہیں تھے اور میں وہ بننے کی کوشش کرتی رہی جو مجھے لگا کہ لوگوں کو پسند آئے گا۔
لیکن سب کچھ اس وقت بدلا جب میں یو سی ایل میں جغرافیہ کی تعلیم حاصل کرنے یونیورسٹی گئی۔ میں اپنا تعارف اس طرح کرواتی تھی: ’میں ماہیکا ہوں، لیکن آپ مجھے مایا کہہ سکتے ہیں‘ یہاں تک کہ ایک دوست نے مجھ سے کہا: ’اگر تم لندن میں اپنا نام لینے میں بھی پُراعتماد نہیں ہو، تو دنیا میں کہیں بھی نہیں ہو پاؤ گی۔‘
آہستہ آہستہ مجھے احساس ہوا کہ سب کو خوش رکھنے کی قیمت کیا ہے، اور میں نے فیصلہ کیا کہ میں اب ایسا نہیں کرنا چاہتی۔ میں اپنی اصل پہچان کے ساتھ جینا چاہتی تھی۔
میں نے اپنے نام کی خوبصورتی کو اپنانا شروع کیا، ’ماہیکا‘، جس کا مطلب سنسکرت میں مطلب ’زمین‘ ہے اور ہسپانوی میں ’جادو‘ جیسا لگتا ہے۔ مجھے احساس ہوا کہ جن باتوں پر مجھے سب سے زیادہ شرمندگی ہوتی تھی، وہی دراصل میری بہترین خصوصیات ہیں۔ جیسے کہ ’باسی‘ (حکم چلانے والی) ہونا۔
بچپن میں مجھے لگتا تھا کہ مجھے مضبوط، پُراعتماد یا حکم چلانے والی نہیں ہونا چاہیے۔ حالانکہ میری ماں بہت مضبوط اور پُراعتماد خاتون ہیں اور میں ایک طاقتور خواتین کے خاندان سے تعلق رکھتی ہوں، لیکن مجھے ہر جگہ یہی پیغام ملا کہ براؤن لڑکیاں ’باسی‘ نہیں ہوتیں۔
میڈیا میں ساؤتھ ایشین خواتین کو خاموش اور شرمیلی دکھایا جاتا ہے، جو میری زندگی کے تجربے سے بالکل مختلف ہے۔ میرے خیال میں یہ نوآبادیاتی سوچ اور سطحی دقیانوسی تصورات کا نتیجہ ہے لیکن اس کے ساتھ ساتھ جنوبی ایشیائی معاشروں میں مضبوط خاندانی ڈھانچے اور روایتی صنفی اصول بھی اس کی وجہ ہیں، جہاں خواتین کی مالی خودمختاری کم ہوتی ہے، جس سے ان کے لیے آواز اٹھانا مشکل ہو جاتا ہے۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
لیکن حقیقت یہ ہے کہ آج بہت سی خواتین ان تمام روایات کو توڑ رہی ہیں، جیسے کہ میں۔ میں ایک مکمل ساؤتھ ایشین عورت کے تصور پر پورا اترنے کی کوشش نہیں کر رہی۔
میں نے 21 سال کی عمر میں اپنا کاروبار شروع کیا اور 22 تک ایک ٹیم کی قیادت کر رہی تھی اور برطانیہ کی نمایاں خواتین بانیوں میں شمار کی جا چکی تھی۔ ’باسی‘ ہونا میرے لیے فائدہ مند ثابت ہوا۔
ہاں، میں باسی ہوں۔ ہاں، میں مختلف ہوں۔ لیکن اب مجھے اس پر شرمندگی نہیں ہے، چاہے وہ میرا کاروبار ہو یا میری آن لائن موجودگی۔
تقریباً تین سال سے میں ’ریکلیمِنگ باسی‘ کے نام سے ایک پوڈکاسٹ چلا رہی ہوں، جہاں جرات مند خواتین اپنی کہانیاں شیئر کرتی ہیں۔
میری کمیونٹی دنیا کے 65 ممالک تک پھیل چکی ہے اور حال ہی میں میں نے اسے مزید آگے بڑھاتے ہوئے ’باسی اینڈ براؤن‘ نامی میگزین شروع کیا ہے۔
یہ خیال مجھے اس وقت آیا جب میں نے سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو پوسٹ کی جس میں پوچھا: ’باسی اور براؤن خواتین کہاں ہیں؟‘ مجھے سینکڑوں جوابات ملے اور میں نے فیصلہ کیا کہ ان کی کہانیاں دنیا تک پہنچاؤں۔
میرا ماننا ہے کہ یہ سال ’براؤن لڑکی‘ کا سال ہے۔ اب وقت ہے کہ ہم اپنی شناخت واپس حاصل کریں اور ایک ’باسی اور براؤن‘ موسم گرما کا جشن منائیں۔ میرے لیے اس کا مطلب ہے اپنی شخصیت کے ان پہلوؤں کو اپنانا اور منانا۔
اس کا یہ مطلب نہیں کہ میں اب صرف انڈین کپڑے پہنوں گی، انڈین موسیقی سنوں گی یا انڈین کھانا ہی کھاؤں گی لیکن جب بھی میں اپنی ثقافت کے ان پہلوؤں سے لطف اندوز ہوں گی، تو میں اسے پورے فخر اور اعتماد کے ساتھ کروں گی۔
میں چاہتی ہوں کہ تمام براؤن لڑکیاں دوسری براؤن لڑکیوں کو کامیاب ہوتے دیکھیں اور اسے اپنی کامیابی کی علامت سمجھیں۔ ہم میں سے بہت سی لڑکیاں یہ سوچ کر بڑی ہوئیں کہ کمرے میں صرف ایک ’علامتی‘ براؤن لڑکی کے لیے جگہ ہے۔
لیکن اب جب وہ دیکھیں گی کہ ایسی ایک نہیں بلکہ کئی ہیں، تو وہ سمجھیں گی کہ وہ ایک دوسرے کے ساتھ دوستی کر سکتی ہیں اور ایک کمیونٹی بنا سکتی ہیں۔
چیزیں اب واقعی بدل رہی ہیں۔ بڑے ہوتے ہوئے میرے لیے براؤن ہونا ’کول‘ نہیں تھا لیکن اب آن لائن انڈین ہونا ایک رجحان بن چکا ہے۔ میں زیادہ دیکھ رہی ہوں کہ براؤن ہونا اب قابل فخر اور مقبول سمجھا جا رہا ہے۔ انڈیا کی بڑھتی ہوئی معیشت کی وجہ سے ہم نئی نسل (جنریشن زی) کے بانیوں اور تخلیق کاروں کو ابھرتے دیکھ رہے ہیں۔
یہاں تک کہ برطانیہ میں بھی اس سال کرشمہ نے ’دی اپرنٹس‘ جیتا، اور’ لوو آئی لینڈ‘ رئیلٹی شو میں پہلی بار تین براؤن افراد شامل ہیں، جو صرف شو میں شامل ہی نہیں بلکہ مرکزی کردار بھی ہیں اور انہیں سپورٹ بھی مل رہی ہے۔
یہ تبدیلی کافی عرصے سے آ رہی تھی۔ وہ چیزیں جو ہمیشہ سے براؤن شناخت کا حصہ رہی ہیں، جیسے میڈیٹیشن، یوگا اور چکرز، کچھ عرصے سے فیشن میں تو تھیں، لیکن اب فرق یہ ہے کہ لوگ جانتے ہیں کہ یہ براؤن ثقافت سے جڑی ہیں اور اس پر شرمندگی محسوس نہیں کرتے۔
مجھے یہ بہت اچھا لگتا ہے کیونکہ اس سے جنوبی ایشیائی لوگوں کو اپنے علم اور تجربات، خاص طور پر کاروبار اور کام کے حوالے سے، شیئر کرنے کی جگہ ملتی ہے۔
اب میں صرف یہ امید کرتی ہوں کہ تمام براؤن لڑکیاں جو میڈیا اور اپنے دیکھے جانے والے مواد میں اس بڑھتی ہوئی نمائندگی کو دیکھ رہی ہیں، وہ اس سے فائدہ اٹھائیں اور یہ سوچنا چھوڑ دیں کہ ’اگر میں گوری ہوتی تو زیادہ خوبصورت ہوتی‘ یا ’اگر میں گوری ہوتی تو مجھے زیادہ پسند کیا جاتا۔‘
میں نے اپنی زندگی میں بارہا یہ سنا: ’کیا تم واقعی انڈین ہو؟ کیونکہ انڈینز اتنے خوبصورت نہیں ہوتے‘، یا ’کیا تم مکسڈ نہیں ہو؟ کیونکہ تمہاری شکل و صورت اچھی ہے۔‘ لوگ اسے واقعی تعریف سمجھ کر کہتے تھے، کیونکہ وہ براؤن ہونے کو خوبصورتی کے ساتھ جوڑ ہی نہیں پاتے تھے۔
میرا خیال ہے کہ بطور براؤن افراد ہمیں خود کو ان لوگوں کی نظر سے دیکھنا چھوڑ دینا چاہیے جو ہمیں کمتر سمجھتے ہیں۔ اسی لیے کمیونٹی بنانا بہت اہم ہے، کیونکہ لوگ آخرکار اپنے ماحول سے متاثر ہوتے ہیں۔
اور جب آپ انہیں ایسے ماحول میں رکھتے ہیں جہاں وہ خوداعتماد، خوش، بے جھجھک اور قبول کیے گئے محسوس کریں، تو وہ اپنی بہترین شکل میں سامنے آ سکتے ہیں۔
