ہمارے ہاں بجٹ کو دیکھنے کے دو روایتی زاویے ہیں۔ ایک یہ کہ حکومت کا حامی بن کر دیکھا جائے اور دوسرا یہ کہ حکومت مخالف کی نظر سے دیکھا جائے۔
پہلی صورت میں ہر بجٹ شاندار قرار پاتا ہے اور دوسری صورت میں ہر بجٹ ظالمانہ قرار دیا جاتا ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ بجٹ کو ہر طرح کی سیاسی عصبیت سے بالاتر ہو کر صرف ایک پاکستانی کے طور پر دیکھا جائے۔
جب ہم اسے ایک پاکستانی کے طور پر دیکھتے ہیں تو چند اہم اور بنیادی سوالات پیدا ہوتے ہیں۔ جب تک ان سوالات پر بات نہیں کی جاتی، تب تک بجٹ پر ہونے والی ہر گفتگو ادھوری ہے۔
پہلا سوال یہ ہے کہ ہم ایک زرعی ملک ہیں، تو کیا یہ ممکن ہے کہ ہم زراعت کو اپنی ترجیح بنائے بغیر اپنی معیشت کو بہتر کر سکیں اور اچھا بجٹ دے سکیں؟
زراعت ایک پورا نظامِ معیشت ہے۔ اس کے ساتھ فوڈ باسکٹ ہی نہیں، مکمل ایگرو انڈسٹری کھڑی ہے۔ اب اگر ہم اس پر توجہ ہی نہ دیں، ہم اپنے زرعی پوٹینشل کو انڈسٹریلائز ہی نہ کر سکیں اور ہم گندم اور چینی بھی بیرونِ ملک سے منگوائیں اور اس پر اربوں ڈالر کا قیمتی زرِ مبادلہ خرچ کر بیٹھیں تو پھر اچھا بجٹ کیسے بن سکتا ہے؟
دوسرا سوال یہ ہے کہ ہم انڈسٹریلائزیشن نہیں کر پا رہے۔ انڈسٹری سکڑ رہی ہے۔ بجلی مہنگی ہو چکی ہے اور ہم کچھ بھی ایسا تیار نہیں کر رہے جو ہم دنیا کو فروخت کر کے کچھ ڈالر کما سکیں۔
ہم عملاً صرف ایک کنزیومر مارکیٹ بن کر رہ گئے ہیں جو بیرونِ ملک سے چیزیں خریدتی ہے اور ڈالر سے ہاتھ دھو بیٹھتی ہے۔ تو کیا ایک کنزیومر ملک ایک اچھا بجٹ دے سکتا ہے؟ جہاں انڈسٹریلائزیشن ہی نہ ہو سکے، وہاں ایک اچھے بجٹ کی توقع کیسے رکھی جائے؟
ہماری برآمدات کیا ہیں؟ ہماری پالیسی کیا ہے؟ ہمارے اہداف کیا ہیں؟ برآمدات کے بغیر ڈالر نہیں کمائے جا سکتے۔
کیا ہم نے صرف اوورسیز پاکستانیوں کی ترسیلاتِ زر اور بیرونی قرض ہی کو معاشی سرچشمہ سمجھتے رہنا ہے یا ہم نے برآمدات کے ذریعے ڈالر کمانے بھی سیکھنے ہیں؟
اگر برآمدات کی کوئی جامع پالیسی نہیں ہے تو اچھا بجٹ کیسے بنے گا؟ کیونکہ ڈالر کی کمی کا مسئلہ ہو تو اچھا بجٹ نہیں بن سکتا۔ ڈالر کیسے کمانے ہیں؟
تیسرے سوال کا تعلق ہمارے پری بجٹ تیاری ڈائیلاگ سے ہے۔ بجٹ صرف اعداد و شمار مرتب کر کے ایک سال گزار لینے کا نام نہیں ہوتا۔ یہ ایک پوری پالیسی ہوتی ہے جو خدشات، امکانات اور توقعات کے میزانیے سے منسلک ہوتی ہے۔ تو کیا ہمارے ہاں بجٹ سے پہلے کسی بھی سطح پر سٹیک ہولڈرز اور معاشی ماہرین کے ساتھ کوئی بامعنی مکالمہ ہوتا ہے؟
کیا اس وقت بھی کہیں یہ چیز زیرِ بحث آ رہی ہے کہ ایران۔امریکہ جنگ کی وجہ سے ہمارے لیے کن کن شعبوں میں کیا کیا چیلنج آ رہے ہیں اور ہم نے ان سے کیسے نبٹنا ہے، اپنے نقصانات کو کیسے کم کرنا ہے اور قابلِ قبول متبادل کیسے اور کہاں سے تلاش کرنا ہے؟
چیمبر آف کامرس سے لے کر میڈیا اور میڈیا سے پارلیمان تک، کیا کہیں کوئی بامعنی فکری مباحث سامنے آ سکے ہیں کہ ایران۔امریکہ جنگ میں ہمارے لیے مسائل کیا ہیں اور اگر امن قائم ہو جاتا ہے تو ہمارے لیے امکانات کیا کیا ہیں؟ اور ہم ان امکانات سے فائدہ اٹھانے کے لیے کس حد تک تیار ہیں؟
یاد رہے کہ معیشت صرف حکومتی پالیسی کا نام نہیں ہوتی، اس میں پرائیویٹ شعبے کی اہمیت بہت زیادہ ہوتی ہے، تو ہمارا نجی شعبہ یعنی ہمارا سرمایہ کار اور تاجر کس حد تک تیار ہے کہ ان امکانات سے فائدہ اٹھا سکے؟ کیا کسی سطح پر انہیں رہنمائی مہیا کرنے والا کوئی ہے جو انہیں بتا سکے کہ بدلتے وقت میں کن کن شعبوں میں کیا کیا امکانات پیدا ہونے جا رہے ہیں؟ اگر ایک مربوط پالیسی نہیں ہے تو معیشت کی کمر کیسے سیدھی ہو سکتی ہے اور اچھا بجٹ کیسے آ سکتا ہے؟
چوتھا سوال یہ ہے کہ 18 ویں ترمیم کے بعد صوبوں اور وفاق میں جو مالیاتی عدم توازن پیدا ہو چکا ہے، کیا اسے ختم کیے بغیر اور اس میں اصلاح لائے بغیر اچھے بجٹ کی کوئی امید رکھی جا سکتی ہے؟
پانچواں سوال یہ ہے کہ کیا ٹیکس وصولی کا موجودہ نظام درست ہے اور کیا اس نظام کے ساتھ اچھا بجٹ دیا جا سکتا ہے؟ ہر سال ہر وزیرِ خزانہ ایک ہی بات کرتا ہے کہ ٹیکس وصولی کا ہدف بڑھایا جا رہا ہے۔
اب مسئلہ یہ ہے کہ ٹیکس وصولی کا دائرۂ کار تو بڑھ نہیں پاتا اور بجلی صرف اسی تنخواہ دار طبقے پر گرتی ہے جو ٹیکس کے دائرے میں ہونے کی وجہ سے آسان ہدف ہے۔ معیشت کیسے بہتر ہو سکتی ہے اور اچھا بجٹ کیسے آ سکتا ہے؟
چھٹا سوال ہم سب کے سوچنے کا یہ ہے کہ کیا ملک کی معیشت افسر شاہی کی مراعات کے موجودہ بندوبست کو برداشت کر سکتی ہے؟
ہمارے 22 ہزار بیوروکریٹس کے پاس غیر ملکی شہریت ہے، یعنی ہزاروں فیصلہ ساز غیر ملکی شہری ہیں اور غریب قوم ان پر بے پناہ خرچ کر رہی ہے۔
یہ فیصلہ سازی اور یہ حیران کن مراعات، معیشت ان دونوں کی متحمل نہیں ہو سکتی۔ بیوروکریسی کا موجودہ ڈھانچہ سرمایہ کاری کے لیے سازگار ہی نہیں ہے۔ یہ رکاوٹ تو ڈال سکتا ہے، سہولت کاری نہیں کر سکتا۔ اس میں اصلاح کیے بغیر کوئی بجٹ عوام دوست اور معیشت دوست نہیں ہو سکتا۔
بیوروکریسی کے شاہانہ اخراجات ہی اتنے ہیں کہ قومی خزانے کو کھا جاتے ہیں۔ وصولیوں سے زیادہ ہمارے اخراجات ہمارا مسئلہ بن چکے ہیں۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
ساتویں سوال کا تعلق قرض اور آئی ایم ایف سے ہے۔ قرض اور اس پر سود کی ادائیگی کا حجم دفاعی بجٹ سے بھی بڑھ چکا ہے، یعنی ہم جتنی رقم اپنے دفاع پر لگاتے ہیں اس سے زیادہ رقم قرض اور اس پر سود کی قسطوں کی ادائیگی میں چلی جاتی ہے۔
حجاب اٹھ چکے ہیں، اب وزیرِ خزانہ صاف کہہ دیتے ہیں کہ وزیرِ اعظم تو ریلیف دینا چاہتے ہیں لیکن آئی ایم ایف نہیں مان رہا۔ ایسے میں ایک اچھے بجٹ کی خواہش کس حد تک کی جا سکتی ہے؟
آٹھواں سوال یہ ہے کہ بجٹ ہماری حکومت کے لیے صرف اکانومی ہے یا یہ پولیٹیکل اکانومی بھی ہے؟ اس سوال کی تھوڑی وضاحت ضروری ہے۔
اکانومی کا معاملہ یہ ہے کہ وہ صرف اعداد و شمار اور اہداف دیکھتی ہے۔ اتنے پیسے اکٹھے کرنے ہیں، ٹیکس بڑھا دو، اکٹھے کر لو، یہ اکانومی ہے۔ پولیٹیکل اکانومی یہ ہوتی ہے کہ اعداد و شمار اور اہداف اپنی جگہ، لیکن عوام کا بھی خیال رکھنا ہے۔ مالیاتی اہداف پورے کرنے کے لیے عوام پر غیر ضروری بوجھ نہیں ڈالنا۔
صورت حال یہ ہے کہ سولر سے عوام کو ریلیف ملتا ہے تو سولر کی حوصلہ شکنی شروع ہو جاتی ہے کیونکہ لوگ آف گرڈ ہوں گے تو آئی پی پیز کو پیسے کہاں سے دیے جائیں گے۔
بجلی مہنگی ہے لیکن متبادل کی طرف لوگ جائیں تو حکومت کے لیے نیا مسئلہ کھڑا ہو جاتا ہے۔ اب معلوم نہیں اس بجٹ میں سولر مزید زیرِ عتاب آتا ہے یا اسے کچھ ریلیف دیا جاتا ہے۔ بجٹ ہی بتائے گا کہ اکانومی اور پولیٹیکل اکانومی میں سے ترجیح کیا ہے؟
سوالات بہت سارے ہیں، لیکن کالم کی تنگنائے میں مزید سوالات اٹھانا ممکن نہیں۔ حقیقت مگر یہ ہے کہ بجٹ کے اعداد و شمار سے ہٹ کر جب تک ان بنیادی امور کو زیرِ بحث نہیں لایا جائے گا، ہر بجٹ ایک جیسا ہی ہو گا۔
نوٹ: یہ تحریر مصنف کی رائے پر مبنی ہے اور ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

