بالی وڈ: ٹیلنٹ نہیں تعلقات کامیابی کی ضمانت؟

انڈین جواں سال ٹی وی اداکارہ سنچیتا اوگلے کی خودکشی نے ایک بار پھر بالی وڈ میں ہلچل مچا دی ہے۔

گو کہ اداکارہ کے قریبی حلقے یہ دعویٰ کر رہے ہیں کہ ساتھی فنکار نے انہیں اس حد تک ہراساں کیا کہ وہ اپنی زندگی کے خاتمے کا فیصلہ کر بیٹھیں، لیکن اس کے باوجود یہ سوال شدومد سے گونج رہا ہے کہ آخر چمکتی دمکتی دنیا اس قدر غیر محفوظ کیوں ہو رہی ہے؟ کیوں ہر تھوڑے عرصے بعد کوئی نہ کوئی فنکار موت کو گلے لگانے پر مجبور ہوجاتا ہے۔

ایک عام روایت مشہور ہے کہ بالی وڈ میں کوئی کسی کا پرخلوص دوست نہیں۔ سب تعلق یا دوستیاں مفاد یا غرض کے گرد گھوم رہی ہیں۔ کہا تو یہ بھی جاتا ہے کہ ہر اداکار، صرف ٹیلنٹ کے باعث چمکتا دمکتا ستارہ نہیں بنتا بلکہ طاقت ور لابنگ کے بغیر کوئی بھی بلند مقام کو ترستا ہی رہتا ہے۔ اسے ہر روز ایک سخت امتحان اور آزمائش سے خود کو گزارنا پڑتا ہے۔ بالخصوص انہیں جو کسی بڑے اداکار یا ہدایت کار کی اولاد نہیں یا ان کا کوئی فلمی رشتے دار نہیں۔

اس حقیقت سے انکار نہیں۔ ہر گزرتے دن میں ممبئی کی فلم نگری میں قسمت آزمانے کے لیے انڈیا بھر سے کئی نوجوان اس شہر کا رخ کرتے ہیں۔ یہ قصے پرانے ہوئے کہ جب کوئی عام انسان کسی سے چھوٹے سے گاؤں یا دیہات سے آئے اور اپنی غیر معمولی اداکاری کی بنا پر راتوں رات سپر سٹار بن جائے۔

اس وقت جو فلم نگری سے جڑے ہیں، ان میں مقابلے کی ایک ایسی دوڑ لگی ہے جو ذرا سی بھی سستی دکھاتا ہے، اس کی منزل پھر گھر ہی ہوتی ہے۔

ماضی میں بھی اداکاروں کے درمیان مقابلے کی فضا تھی لیکن اب صورت حال مختلف ہے۔ سوشل میڈیا کی موجودگی میں ہر اداکار کا ایک ایک لمحہ سب کے علم میں رہتا ہے۔ ایسے میں کوئی بات، کوئی بیان یا کوئی حرکت اداکاروں کو مختلف مسائل کا بھی شکار کر دیتی ہے۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

رپورٹس تو یہ بھی بتاتی ہیں کہ خود کو چاق و چوبند اور خوبصورت و پرکشش رکھنے کے لیے اداکار مختلف ادویات کا استعمال بھی کرتے ہیں اور پھر کثرت سے استعمال کرنے کی وجہ سے یہ ان کو دل کی مختلف بیماریوں کا ایسا مہمان بناتی ہیں کہ انتہائی کم عمری میں وہ زندگی کی بازی ہار جاتے ہیں۔ سدھارتھ شکلا اور شفالی جری والا اس کی واضح مثالیں ہیں۔ 

کہنے والے تو یہ بھی کہتے ہیں کہ بالی وڈ میں پراثر تعلقات، طاقتور لابنگ اور اقربا پروری، ٹیلنٹ سے زیادہ اہمیت رکھتی ہے۔ اس کا اندازہ یوں لگائیں کہ رنویر سنگھ نے اپنی پہلی فلم ’بینڈ باجا بارات‘ کی کامیابی کے بعد لگ بھگ پانچ سال تک ناکام فلموں کی قطار لگا دی لیکن اس کے باوجود انہیں کسی نے ماضی کا حصہ نہیں بننے دیا کیونکہ ان کے عقب میں طاقتور لابی سرگرم تھی۔

دوسری جانب سوشانت سنگھ راجپوت ایک کے بعد ایک کامیاب فلمیں پیش کرتے رہے لیکن انہیں سال بھر میں صرف ایک ہی فلم میں کام کرنے کا موقع ملا۔ یہی وجہ ہے کہ اپنے سات سالہ کیریئر میں انہوں نے لگ بھگ 12 فلموں میں قسمت آزمائی۔

فلم سازوں کی بے رخی اور عدم دلچسپی کے باعث ہی وہ ذہنی بیماریوں کے ساتھ احساس کمتری اور تنہائی کا ایسا شکار ہوئے کہ صرف 34 سال میں 14 جون 2020 کو موت کی نیند جا سوئے۔

اسی بنا پر کہا جاتا ہے کہ کچھ اداکاروں کو تواتر کے ساتھ مواقع ملتے ہیں اور کچھ بے چارے بہترین کارکردگی کے باوجود نظر انداز کر دیے جاتے ہیں۔ پھر دھیرے دھیرے ان کے اعتماد کو ٹھیس پہنچنے لگتی ہے اور یقین کمزور سے کمزور ہونے لگتا ہے۔

یہ تو اٹل حقیقت ہے کہ سٹار کڈز کے لیے نرم گوشہ ان کی منزلوں کو آسان بناتا ہے۔ شاہ رخ خان کے بیٹے آریان خان جب اپنی پہلی ویب سیریز بنانے کے لیے میدان میں اترے تو اس تخلیق میں ان کی معاونت کرنے کے لیے ہر کوئی قدم سے قدم ملاکر کھڑا رہا۔

یہی نہیں اس ویب سیریز میں بالی وڈ کے ہر چھوٹے بڑے اداکار نے اپنی جھلک بھی دکھائی۔ ممکن ہے کہ اگر وہ شاہ رخ خان کے بیٹے نہ ہوتے تو انہیں ایک ایک اداکار کو راضی کرنے کے لیے پاپڑ بیلنے پڑ جاتے۔

کرن جوہر پر مسلسل  یہ الزام لگتا ہے کہ وہ سٹار کڈز کے ساتھ ساتھ من پسند مخصوص اداکاروں کی غیرمعمولی حمایت اور ان سے تعاون کرتے ہیں۔ یہ بھی ستم ظریفی ہے کہ کوئی اس موضوع پر کھل کر اظہار خیال نہیں کرتا، اس کی ایک وجہ اپنے کیریئر کو خطرے میں نہ ڈالنا بتایا جاتا ہے۔ کچھ نے اس اقربا پروری پر لب کشائی کی تو انہیں کئی مشکلات سے دوچار ہونا پڑا۔

بالی وڈ میں ایک المیہ بھی ہے کہ یہاں چڑھتے سورج کی پوجا کی جاتی ہے۔ ذرا سی ناکامی یا زوال آئے تو کئی اپنے تک نگاہیں موڑ لیتے ہیں۔ بھلا کون بھول سکتا ہے پروین بوبی کو جب وہ عروج پر تھیں تو ہر اداکار بھنورے کی طرح ان کے آس پاس منڈلاتا لیکن بڑھاپا اور پھر ناکامی کی دہلیز پر پہنچیں تو اپنوں نے ساتھ ہی چھوڑ دیا۔ عالم یہ ہوا کہ ان کی لاش تین دن تک ان کے فلیٹ پر پڑی رہی اور کسی کو کانوں کان خبر نہ ہوئی ۔

یقینی طور پر اب وہ دور آگیا ہے جب اس پہلو پر بھی غور کیا جائے کہ اداکاروں کی مقبولیت اور شہرت کے ساتھ ساتھ ان کی ذہنی صحت بھی کس قدر ضروری اور اہمیت رکھتی ہے۔

بدقستمی سے بالی وڈ ہر تھوڑے عرصے بعد سٹارز تو متعارف کروائے جا رہا ہے لیکن شہرت کے درمیان تنہائی، پسند اور ناپسند اور ٹیلنٹ کی ناقدری کی دیوار کو اس قدر بلند کرچکا ہے کہ اس کو پار کرنا ’بے سہارہ‘ اداکاروں کے لیے ممکن نہیں رہا۔

نوٹ: یہ تحریر بلاگر کی ذاتی آرا پر مبنی ہے، جس سے انڈپینڈنٹ اردو کا متفق ہونا ضروری نہیں۔


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *