اے آئی سے خطرات، یونیورسٹیاں امتحان کے پرانے طریقوں کی طرف لوٹنے لگیں

جب امریکہ میں براؤن یونیورسٹی کے ایک پروفیسر نے مارچ کے مڈٹرم امتحانات طلبہ کو اپنے گھر سے دینے کی اجازت دی تو وہ اس وقت حیران رہ گئے جب 40 طلبہ کے نتائج سو فیصد نمبروں کے ساتھ سامنے آئے۔

امریکہ کی ممتاز جامعات کے گروپ ’آئیوی لیگ‘ کی اس یونیورسٹی میں تین دہائیوں سے زیادہ تدریس کے دوران یہ پہلا موقع تھا کہ پروفیسر روبرٹو سیرانو نے کلاس روم میں امتحان لینے کے بجائے گھر سے امتحان دینے کی اجازت دی تھی۔

13 دسمبر کے حالیہ فائرنگ کے واقعے، جس میں دو طلبہ جان سے گئے اور نو زخمی ہوئے تھے، کے پیش نظر انہوں نے یہ رعایت دی تھی۔

تاہم جب نتائج آئے اور اوسط نمبر 96 فیصد رہا، جو معمول سے تقریباً 25 فیصد زیادہ تھا، تو پروفیسر سیرانو کو شک ہوا کہ زیادہ تر طلبہ نے نقل کے لیے اے آئی کا سہارا لیا ہے۔

طلبہ کو شک کا فائدہ دینے کے لیے انہوں نے فائنل امتحان کلاس میں لینے کا فیصلہ کیا۔ اس بار اوسط نمبر صرف 48.6 فیصد رہا اور صرف ایک طالب علم ایسا تھا جس کے نمبر مڈٹرم سے زیادہ آئے۔

اس واقعے کی تحقیقات براؤن یونیورسٹی کی قائمہ کمیٹی کر رہی ہے تاہم پروفیسر سیرانو پہلے ہی اعلان کر چکے ہیں کہ وہ آئندہ کبھی گھر سے امتحان کی اجازت نہیں دیں گے۔

اے آئی کے ذریعے نقل کرنے والوں کو پکڑنے کے لیے ایک اور دلچسپ طریقہ مسیسیپی کی الکورن سٹیٹ یونیورسٹی کے پروفیسر ڈاکٹر جیسن گبسن نے اپنایا۔

انہوں نے اپنے ایک امتحانی سوال میں سفید رنگ میں ایک خفیہ ہدایت شامل کی جو طلبہ کو نظر نہیں آ سکتی تھی مگر اے آئی اسے پڑھ سکتی تھی۔

اس خفیہ ہدایت میں چیٹ بوٹس سے کہا گیا تھا کہ جواب میں ’مڈغاسکر‘ کا لفظ شامل کریں، چاہے وہ بے معنی ہی کیوں نہ ہو۔

پروفیسر گبسن کے مطابق 35 میں سے 32 طلبہ نے بغیر اپنے جوابات پڑھے اے آئی کا استعمال کیا، ورنہ وہ اس بے جوڑ لفظ کو دیکھ کر سمجھ جاتے۔

اپریل میں ییل یونیورسٹی کی ایک رپورٹ میں اعلیٰ تعلیم کے لیے اے آئی کو ’ایک بالکل نیا اور بے مثال چیلنج‘ قرار دیا گیا۔

رپورٹ کے مطابق: ’وہ اسائنمنٹس جنہیں پہلے گھنٹوں یا ہفتوں کی محنت درکار ہوتی تھی، اب لمحوں میں مکمل ہو سکتے ہیں۔ اساتذہ نصاب اور امتحانی طریقہ کار کو ازسرنو ترتیب دینے میں مصروف ہیں۔ اگرچہ اے آئی کے فوائد اپنی جگہ، لیکن اس کا موجودہ استعمال اس مرکوز اور سنجیدہ سوچ کو متاثر کر رہا ہے جو معیاری تعلیم کی بنیاد ہے۔‘

’مزید یہ کہ تیزی سے بدلتی ٹیکنالوجی انسانی مہارت پر عوام کے اعتماد کو بھی متاثر کر رہی ہے۔‘

رپورٹ میں یہ بھی تسلیم کیا گیا کہ ایک طرف نقل کو روکنا ضروری ہے تو دوسری طرف طلبہ کو مستقبل کے لیے تیار کرنا بھی ضروری ہے جہاں انہیں اے آئی استعمال کرنی ہوگی۔

پرنسٹن یونیورسٹی نے بھی حال ہی میں 133 سال پرانی بغیر نگرانی کے امتحانات کی روایت ختم کرنے کا فیصلہ کیا، جبکہ امریکن ایسوسی ایشن آف کالجز اینڈ یونیورسٹیز کے ایک سروے میں تین چوتھائی افراد نے کہا کہ انہیں چیٹ جی پی ٹی جیسے اے آئی ٹولز کے ذریعے نقل پر تشویش ہے۔

رواں ماہ شکاگو یونیورسٹی لا اسکول نے نئے طلبہ کے لیے لیپ ٹاپ اور سمارٹ فونز پر پابندی لگا دی تاکہ اے آئی کے استعمال کو روکا جا سکے، تاہم ساتھ ہی یہ بھی اعلان کیا کہ طلبہ کو اے آئی کا درست استعمال سکھایا جائے گا۔

سکول کی نئی حکمت عملی میں یہ بھی کہا گیا کہ ’ٹیکنالوجی بہت تیزی سے بدل رہی ہے۔‘

نئی پالیسی کے تحت 2026-2027 کے تعلیمی سال میں طلبہ کلاس کے دوران کسی بھی الیکٹرانک ڈیوائس کا استعمال نہیں کر سکیں گے جبکہ تمام امتحانات کلاس روم میں انٹرنیٹ یا کسی ایپ کے بغیر ہوں گے۔

قلم اور کاغذ کی طرف واپسی کے ذریعے لا اسکول ’بنیادی انسانی مہارتوں‘ کو فروغ دینا چاہتا ہے جو ایک وکیل کے لیے ضروری ہیں۔

اس حکمت عملی میں کہا گیا: ’ہمیں یہ یقینی بنانا ہوگا کہ طلبہ خود سوچنا سیکھیں، تنقیدی، حکمت عملی اور آزادانہ انداز میں اور وہ بھی اے آئی پر انحصار کیے بغیر لیکن ہمیں یہ حقیقت بھی تسلیم کرنا ہوگی کہ اے آئی اب عام ہو چکی ہے اور ہمارے طلبہ کو عملی زندگی میں اس کا استعمال آنا چاہیے۔‘

سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ اسائنمنٹس میں اصل انسانی محنت کو کیسے یقینی بنایا جائے، کیونکہ یہ کام اکثر کئی گھنٹوں یا دنوں میں مکمل ہوتے ہیں اور انہیں کلاس روم میں نگرانی کے ساتھ کرانا ممکن نہیں ہوتا۔

ایک حل اے آئی پکڑنے والے ٹولز ہو سکتے ہیں، جو اے آئی سے لکھی گئی تحریر کو پہچاننے کی کوشش کرتے ہیں لیکن یہ ٹولز ابھی قابل بھروسہ نہیں کیونکہ اے آئی کی ترقی ان سے کہیں زیادہ تیز ہے۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

گذشتہ ہفتے ہائر ایجوکیشن پالیسی انسٹی ٹیوٹ کی رپورٹ میں کہا گیا کہ یہ ٹولز اکثر غلط نتائج دیتے ہیں۔ خاص طور پر وہ طلبہ جن کی مادری زبان انگریزی نہیں، ان کی تحریر کو غلطی سے اے آئی قرار دیا جاتا ہے۔

اسی خطرے کے باعث یو سی ایل اے (امریکہ) اور یونیورسٹی آف واٹرلو (کینیڈا) سمیت کئی بڑی جامعات ایسے ٹولز کو ترک کر چکی ہیں۔

20  جولائی کی ہائر ایجوکیشن پالیسی انسٹی ٹیوٹ سے جاری  رپورٹ میں کہا گیا: ’ تعلیمی دیانت داری کو برقرار رکھنے کا حل صرف اے آئی پکڑنے والے ٹولز نہیں ہیں، بلکہ امتحانی نظام کی بنیادی ازسرِنو تشکیل ہے۔‘

رپورٹ میں تجویز دی گئی کہ صرف مضمون نویسی پر انحصار ختم کر کے ’مرحلہ وار اسائنمنٹس، زبانی امتحانات، اور نصاب میں اے آئی کی سمجھ‘ کو شامل کیا جائے۔

اب اساتذہ زیادہ سے زیادہ اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ پرانے امتحانی طریقے دوبارہ اپنائے جائیں جیسے ہاتھ سے لکھے گئے پرچے، زبانی امتحانات اور نگرانی میں ٹیسٹ۔

یونیورسٹی آف السٹر میں 30 سالوں سے تدریس کرنے والے ماہر تعلیم ڈاکٹر جان ملیکن کہتے ہیں: ’حل یہ نہیں کہ ہم (اے آئی سے) تیار شدہ کام کو پکڑنے کے لیے مزید پیچیدہ نظام بنائیں، بلکہ ہمیں امتحان کے طریقے اس طرح بدلنے ہوں گے کہ سیکھنے کا پورا عمل واضح نظر آئے۔‘

وہ مزید کہتے ہیں: ’مقصد یہ نہیں کہ امتحان کو اے آئی سے مکمل طور پر محفوظ بنایا جائے، یہ شاید ممکن ہی نہ ہو بلکہ مقصد یہ ہے کہ سیکھنے کا عمل اتنا واضح ہو کہ اندازے لگانے کی ضرورت نہ پڑے کہ کام کس نے کیا ہے۔‘

براؤن یونیورسٹی کا حالیہ واقعہ دیگر جامعات کے لیے ایک وارننگ بن سکتا ہے۔ یہ اب تک کا سب سے مشہور اے آئی کی مدد سے ہونے والی نقل کا واقعہ ہے، جو ظاہر کرتا ہے کہ اگر تدریسی طریقے نہ بدلے گئے تو کیا ہو سکتا ہے۔

انعام یافتہ ماہر معاشیات پروفیسر روبرٹو سیرانو نے ان نتائج کے سامنے آنے کے بعد کہا: ’میرے خیال میں اے آئی کی آمد ہم سب کے لیے سونامی کی طرح ثابت ہوئی ہے۔‘

انہوں نے مزید کہا: ’اس نے ہمیں بے خبری میں آ لیا ہے۔ لیکن میری عاجزانہ رائے میں، اس مسئلے پر خاموشی اختیار کرنا سب سے برا ردعمل ہے۔‘


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *