اینڈی برنہم برطانیہ کے نئے وزیراعظم بن گئے، ایک دہائی میں ساتویں تبدیلی

برطانیہ میں پیر کو سیاسی منظرنامہ ایک بار پھر تبدیل ہو گیا جہاں حکمران لیبر پارٹی کے رہنما اینڈی برنہم نے پیر کو باضابطہ طور پر وزارت عظمیٰ کا منصب سنبھال لیا۔

اینڈی برنہم گذشتہ 10 برسوں کے دوران ملک کے ساتویں وزیراعظم ہیں، جو برطانوی سیاست میں مسلسل عدم استحکام کی عکاسی کرتا ہے۔

خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق سبکدوش ہونے والے وزیراعظم کیئر سٹارمر نے پیر کو بکنہم پیلس جا کر شاہ چارلس سوم کو اپنا استعفیٰ پیش کیا جسے قبول کر لیا گیا جس کے فوراً بعد اینڈی برنہم کو شاہی روایت کے مطابق حکومت بنانے کی دعوت دی گئی، جسے انہوں نے قبول کیا۔

اس عمل کو برطانوی سیاسی روایت میں ’کِسنگ ہینڈز‘ یا ’دست بوسی‘ کہا جاتا ہے، جو اقتدار کی منتقلی کی علامت ہے۔

56  سالہ اینڈی برنہم حال ہی میں ایک اہم ضمنی انتخاب جیت کر پارلیمنٹ میں واپس آئے تھے اور 12 جولائی کو رکن پارلیمنٹ کے طور پر حلف اٹھایا تھا۔

انہوں نے گذشتہ ہفتے لیبر پارٹی کی قیادت سنبھالی، جب پارٹی کے 379 ارکان نے انہیں اپنا نیا لیڈر منتخب کیا۔ چونکہ لیبر پارٹی ایوان زیریں میں اکثریت رکھتی ہے، اس لیے برنہم کا وزیرِاعظم بننا آئینی طور پر ممکن ہوا اور اس کے لیے عام انتخابات کی ضرورت پیش نہیں آئی۔

برطانوی پارلیمانی نظام کے تحت حکمران جماعت اپنے قائد کو مدت کے دوران تبدیل کر سکتی ہے، اور نیا قائد خود بخود وزیرِاعظم بن جاتا ہے۔ گذشتہ ایک دہائی میں برطانیہ کے بیشتر وزرائے اعظم اسی طریقہ کار کے ذریعے اقتدار میں آئے، جو سیاسی عدم تسلسل کی ایک نمایاں مثال ہے۔

اینڈی برنہم کو وزارتِ عظمیٰ سنبھالتے ہی کئی بڑے چیلنجز کا سامنا ہے، جن میں سرفہرست سست روی کا شکار معیشت کو بحال کرنا ہے۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

2008 کے مالیاتی بحران کے بعد سے برطانیہ کی اقتصادی ترقی کی اوسط شرح ڈیڑھ فیصد سے بھی کم رہی ہے، جبکہ اس سے پہلے یہ شرح تقریباً تین فیصد تھی۔

اس کے علاوہ حکومتی قرضہ مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) کے 95 فیصد سے تجاوز کر چکا ہے جو 1960 کی دہائی کے بعد بلند ترین سطح ہے۔

نئے وزیراعظم کو ایک طرف معیشت کو سہارا دینا ہے تو دوسری جانب عوام پر ٹیکسوں کا بوجھ بڑھائے بغیر مالی نظم و ضبط بھی برقرار رکھنا ہوگا۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ یہی وہ بنیادی مسئلہ ہے جس نے گذشتہ کئی حکومتوں کو مشکلات میں ڈالے رکھا۔

دوسری جانب کیئر سٹارمر نے وزارت عظمیٰ سے سبکدوش ہوتے ہوئے اپنی آخری تقریر میں برطانوی عوام کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ وہ فخر کے ساتھ عہدہ چھوڑ رہے ہیں۔ انہوں نے اینڈی برنہم کے لیے مکمل حمایت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ ملک کو مزید آگے لے جانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

بکنہم پیلس کے اندر اقتدار کی منتقلی کا عمل جاری تھا تو باہر روایتی ’چینجنگ آف دی گارڈ‘ کی تقریب بھی ہو رہی تھی، جس نے اس سیاسی تبدیلی کو ایک علامتی منظر فراہم کیا۔


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *