امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ منگل کو ایران کے ساتھ ’پورا دن مذاکرات‘ ہوئے، جنہیں انہوں نے مثبت قرار دیا، تاہم ساتھ ہی یہ دھمکی بھی دی کہ اگر کوئی معاہدہ طے نہ پایا تو وہ ایران کو ’بہت سخت‘ نشانہ بنائیں گے۔
ٹرمپ نے یہ ریمارکس فاکس نیوز کے ایک پروگرام کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کیے۔
دوسری جانب امریکی حکام نے امید ظاہر کی ہے کہ آبنائے ہرمز کو دوبارہ جہاز رانی کے لیے کھولنے کے حوالے سے معاہدہ جلد طے پا سکتا ہے۔
امریکی وزیرِ خزانہ سکاٹ بیسنٹ نے سی این بی سی سے گفتگو میں کہا کہ ’امکان ہے کہ آج یا کل معاہدہ ہو جائے، جس کے نتیجے میں آبنائے ہرمز دوبارہ کھل سکے گی اور تنازع معمول کی سمت بڑھ سکے گا۔‘
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
آبنائے ہرمز خلیج فارس کے دہانے پر واقع ایک انتہائی اہم آبی گزرگاہ ہے، جس سے فروری 2026 میں امریکہ اور ایران کی جنگ شروع ہونے سے پہلے دنیا کی تقریباً پانچویں حصے کے برابر تجارت ہونے والا تیل اور قدرتی گیس گزرتی تھی، تاہم فروری کے بعد ایرانی حملوں کے باعث یہ راستہ عملاً بند رہا ہے۔
قطر کے امیر شیخ تمیم بن حمد آل ثانی نے بھی منگل کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے رابطہ کیا۔ قطر تنازع کے حل کے لیے ثالثی کی کوششوں میں مصروف ہے۔ قطری حکام کے مطابق دونوں رہنماؤں نے ایسے سفارتی حل پر گفتگو کی جو بحران کے پائیدار خاتمے میں مددگار ثابت ہو سکے۔
خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس (اے پی) کے مطابق ایران اور عمان ایک ایسے معاہدے کے قریب پہنچتے دکھائی دے رہے ہیں جس کے تحت آبنائے ہرمز کو دوبارہ جہاز رانی کے لیے کھولا جا سکتا ہے اور اس سے جاری جنگ کے خاتمے کی راہ بھی ہموار ہو سکتی ہے۔
مجوزہ معاہدے کے مطابق بحری جہاز خلیج فارس میں داخل ہوتے وقت ایران کے زیر کنٹرول راستہ استعمال کریں گے، جبکہ باہر نکلتے وقت عمان کے زیرکنٹرول راستے سے گزریں گے۔ تاہم اس معاہدے کا انحصار اس بات پر بھی ہے کہ امریکہ ایران کی بندرگاہوں پر عائد ناکہ بندی ختم کرے۔
ٹرمپ انتظامیہ ماضی میں ایسے کسی معاہدے کی مخالفت کرتی رہی ہے جس سے ایران کو آبنائے ہرمز پر کنٹرول حاصل ہو۔
آبنائے ہرمز اور بحیرہ احمر میں جہازوں پر حملے
برطانیہ کے میری ٹائم ٹریڈ آپریشنز سینٹر کے مطابق آبنائے ہرمز سے گزرنے والے ایک مال بردار جہاز کو ’نامعلوم ہتھیار‘ سے نشانہ بنایا گیا۔
حملہ مقامی وقت کے مطابق رات دو بجے عمان کے شہر خصب سے تقریباً 37 کلومیٹر شمال مشرق میں ہوا، جس سے جہاز کو نقصان پہنچا، تاہم اس کے پرچم یا سامان کی نوعیت کے بارے میں فوری معلومات جاری نہیں کی گئیں۔
ادھر بحیرہ احمر میں یمن کے ساحل کے قریب ایک انڈین پرچم بردار تجارتی جہاز دھماکہ خیز مواد سے بھری کشتی کے حملے کے بعد ڈوب گیا۔
یمنی کوسٹ گارڈ نے جہاز کے عملے کو بچا لیا، جن میں 13 انڈین اور ایک یمنی شہری شامل تھے۔ انڈیا نے حملے کی مذمت کی، تاہم فوری طور پر کسی گروہ نے ذمہ داری قبول نہیں کی۔ ایران کے حمایت یافتہ حوثی باغی اس سے پہلے بھی یمن کے قریب بحیرہ احمر میں جہازوں کو نشانہ بناتے رہے ہیں۔
