ایران نے بدھ کو کہا ہے کہ اس نے آبنائے ہرمز کے قریب 10 بحری جہازوں کو نشانہ بنایا، جس کے بعد امریکہ کی جانب سے پانچ ایرانی تیل بردار ٹینکروں کو غرق کیے جانے کا اعلان کیا گیا ہے۔
فروری میں جنگ کے آغاز کے بعد سے دونوں جانب سے بحری جہازوں پر ایک دن میں یہ سب سے بڑے اور زیادہ حملے ہیں۔
روئٹرز کے مطابق حملوں کے نتیجے میں عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں تیزی آگئی اور عالمی معیار کے برینٹ خام تیل کی قیمت جولائی کے بعد پہلی مرتبہ 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی۔
اس سے قبل ایران نے دعویٰ کیا تھا کہ اس نے اردن میں قائم ایک امریکی فوجی اڈے پر بیلسٹک میزائل داغے جبکہ اردن کا کہنا ہے کہ اس نے 18 میزائلوں کو فضا میں ہی روک لیا جبکہ باقی دو غیر آباد علاقوں میں مار گرایا گیا۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
تاہم ایک امریکی عہدیدار نے کہا کہ ان کے تمام فوجی محفوظ ہیں۔
ایران کے پاسداران انقلاب نے کہا ہے کہ مزید کسی حملے کی صورت میں ایران اپنے ردعمل میں شدید اضافہ کرے گا۔ پاسداران انقلاب نے یہ بھی کہا کہ ایران جلد سمندر میں ایک نئے اور وسیع تر ممنوعہ علاقے کے نقشے جاری کرے گا، جو پاکستان کے قریب ساحل پر واقع چابہار تک پھیل جائے گا۔
دوسی جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ تہران نومبر میں ہونے والے امریکی وسط مدتی انتخابات پر اثرانداز ہونے کی کوشش کر رہا ہے، جن کے ذریعے یہ طے ہوگا کہ ان کی رپبلکن پارٹی کانگریس پر اپنا کنٹرول برقرار رکھ پاتی ہے یا نہیں۔
ٹرمپ نے صحافیوں سے گفتگو میں کہا: ’میرے خیال میں انتخابات کے فوراً بعد جنگ ختم ہو جائے گی کیونکہ وہ مزید مقابلہ نہیں کرسکتے۔ وہ انتخابات پر اثرانداز ہونے کے لیے بے چین ہیں۔‘
بعد ازاں بدھ کو وال سٹریٹ جرنل نے رپورٹ کیا کہ نائب صدر جے ڈی وینس اور وزیر خارجہ مارکو روبیو سمیت وائٹ ہاؤس کے اعلیٰ مشیروں نے نجی طور پر ٹرمپ کو خبردار کیا ہے کہ یہ تنازع ان کی صدارتی مدت کے اختتام یعنی جنوری 2029 تک جاری رہ سکتا ہے، تاہم روئٹرز فوری طور پر اس رپورٹ کی آزادانہ تصدیق نہیں کر سکا۔
کولمبیا کے دورے کے دوران صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے مارکو روبیو نے کہا کہ ’ایران امریکی بحری جہازوں کو نشانہ بنانے کی کوشش جاری رکھے ہوئے ہے اور وہ جب بھی ایسا کریں گے یا کرنے کی کوشش کریں گے، انہیں ٹینکرز کا نقصان اٹھانا پڑے گا۔‘
حالیہ دنوں میں سعودی عرب اور یمن میں حوثیوں کے درمیان لڑائی میں بھی شدت آئی ہے۔ یہ جنگ کا دوسرا محاذ ہے، جس سے مشرق وسطیٰ سے عالمی توانائی کی فراہمی کو خطرہ لاحق ہے۔
آبنائے ہرمز میں آمدورفت متاثر
حالیہ ہفتوں میں واشنگٹن نے آبنائے ہرمز سے تیل بردار جہازوں کی محفوظ آمدورفت میں اضافے پر اطمینان کا اظہار کیا تھا۔ جنگ سے قبل دنیا کی تقریباً پانچویں حصے کی تیل سپلائی اسی آبنائے سے گزرتی تھی، تاہم 30 اگست کو دوبارہ لڑائی شروع ہونے کے بعد آمدورفت بحال کرنے کی کوششوں کو ایک بار پھر دھچکا لگا ہے۔
توانائی سے متعلق مشاورتی ادارے رِسٹڈ انرجی کے چیف اکانومسٹ کلاڈیو گالمبرٹی کے مطابق آبنائے ہرمز سے تیل کی ترسیل کم ہوکر 20 لاکھ بیرل یومیہ رہ گئی ہے جبکہ 30 اگست کو لڑائی دوبارہ شروع ہونے سے ایک ہفتہ قبل یہ شرح 80 سے 90 لاکھ بیرل یومیہ تک پہنچ گئی تھی۔
خام تیل کی قیمتوں میں اضافے سے بھی زیادہ شدید اثر اس سے تیار ہونے والی ایندھن کی قیمتوں میں دیکھا گیا ہے۔
امریکہ میں ڈیزل کی اوسط خوردہ قیمت بدھ کو نئی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی اور 5.94 ڈالر فی گیلن سے تجاوز کرگئی۔
