ایران امریکہ مذاکرات میں اسرائیل ’سپوئلر‘ ہے: پاکستان

پاکستان نے جمعے کو ایران اور امریکہ کے درمیان امن مذاکرات میں اسرائیل کو رکاوٹ ڈالنے والے عناصر میں شامل قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ’مشرق وسطیٰ میں امن و استحکام تل ابیب کے مفاد میں نہیں۔‘

دفتر خارجہ کے ترجمان سجاد حیدر نے ہفتہ وار بریفنگ میں کہا کہ اسرائیل کی توسیع پسندانہ پالیسیاں خطے میں کشیدگی کی ایک بڑی وجہ ہیں جبکہ پاکستان ایران اور امریکہ کے درمیان اختلافات کے حل کے لیے سفارتی کوششیں جاری رکھے گا۔

اس سے قبل 31 اکتوبر 2026 کو پاکستانی فوج کے ترجمان لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے خبر رساں ادارے روئٹرز کو دیے گئے انٹرویو میں ایران اور امریکہ کے درمیان امن کوششوں میں رکاوٹ ڈالنے والے عناصر کے لیے ’سپوئلرز‘ کا لفظ استعمال کیا تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ اب بھی کچھ ’طاقتور عناصر‘ موجود ہیں جو سمجھتے ہیں کہ تنازع جاری رہنا ان کے مفاد میں ہے۔ تاہم فوجی ترجمان نے ان عناصر کی شناخت ظاہر نہیں کی تھی۔

’خطے میں امن اسرائیل کے مفاد میں نہیں‘

انڈپینڈنٹ اردو کا واٹس ایپ گروپ یہاں جوائن کریں

جمعے کو دفتر خارجہ کی ہفتہ وار بریفنگ کے دوران انڈپینڈنٹ اردو نے ترجمان سے سوال کیا کہ پاکستان متعدد مرتبہ ایران اور امریکہ کے درمیان امن کوششوں کو نقصان پہنچانے والے عناصر (Spoilers) کے بارے میں خبردار کر چکا ہے۔ یہ عناصر کون ہیں اور کیا پاکستان کا اشارہ اسرائیل کی جانب ہے؟

اس سوال کے جواب میں سجاد حیدر خان نے کہا کہ ’آپ نے خود ہی ایک نام لے لیا ہے۔ اس کے علاوہ بھی مزید نام ہو سکتے ہیں، لیکن مجھے یقین ہے کہ آپ جانتی ہیں کہ اسرائیل کے مفاد میں یہ نہیں ہے۔‘

ترجمان نے مزید کہا کہ ’یہ کہنا بالکل درست ہوگا کہ خطے میں امن اسرائیل کے مفاد میں نہیں۔ آج پورا خطہ جن حالات کا سامنا کر رہا ہے اس کی ایک وجہ اسرائیل کی بلاجواز توسیع پسندانہ کوششیں ہیں۔‘

ان کے مطابق اسرائیل کی یہ پالیسیاں صرف ایران تک محدود نہیں بلکہ فلسطین، شام، لبنان اور دیگر قریبی ممالک تک پھیلی ہوئی ہیں۔

ایران اور امریکہ کے درمیان امن کوششوں سے متعلق ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ پاکستان نے ماضی میں بھی دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات کے لیے ہر ممکن سہولت کاری کی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ’ہمارے پڑوس میں امن ہماری اولین ترجیح ہے اور اسی مقصد کے تحت پاکستان نے ماضی میں ہر ممکن سہولت کاری کی۔‘

سجاد حیدر خان نے کہا کہ پاکستان نے ایک ’انتہائی دیانت دار ثالث‘ کا کردار ادا کیا اور اس کا ثبوت یہ ہے کہ وہ دو ایسے ممالک کو ایک کمرے میں لانے میں کامیاب ہوا جو گذشتہ 47 برس سے ایک دوسرے سے بات نہیں کر رہے تھے۔

ترجمان کے مطابق ’ان دونوں ممالک کو ایک جگہ بٹھا کر بات چیت کروانا، جس کے نتیجے میں اسلام آباد مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) پر کامیابی سے دستخط ہوئے، اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستان خطے میں امن قائم کرنے اور اسے فروغ دینے کے لیے کتنا سنجیدہ رہا ہے۔‘

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ پاکستان خطے میں امن و استحکام کے لیے اپنی سفارتی کوششیں جاری رکھے گا۔

ان کے مطابق پاکستان حالیہ عرصے میں بھی مختلف ممالک کو علاقائی امن اور استحکام پر بات چیت کے لیے ایک پلیٹ فارم پر لانے میں کامیاب رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ’خطے میں امن اور استحکام صرف پاکستان ہی نہیں بلکہ پورے خطے اور ہمارے خطے سے باہر کے ممالک کے مفاد میں بھی ہے۔‘

سجاد حیدر خان کا کہنا تھا کہ پاکستان امن کے لیے سہولت کاری اور سفارتی حل کی حمایت جاری رکھے گا۔

انہوں نے کہا کہ ’ہمیں امید ہے کہ بالآخر امن قائم ہوگا کیونکہ یہی آگے بڑھنے کا واحد راستہ ہے اور یہ سیاسی مذاکرات اور سفارت کاری کے ذریعے ہی ممکن ہے، جنگ کے ذریعے نہیں۔‘

دوسری جانب امریکہ میں وسط مدتی انتخابات سے متعلق سوال پر ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ پاکستان کے امریکہ کے ساتھ بہترین تعلقات ہیں اور واشنگٹن اسلام آباد کا ایک اہم شراکت دار ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ امریکہ میں کوئی بھی حکومت برسر اقتدار ہو، پاکستان اس کے ساتھ اچھے تعلقات برقرار رکھنے کا خواہاں ہے۔


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *