پاکستان کی وزارت خارجہ کے عہدے دار کے مطابق ایرانی وزیر داخلہ اسکندر مومنی آج پیر کو اعلیٰ سطح کے وفد کے ہمراہ پاکستانی رہنماؤں سے بات چیت کے لیے اسلام آباد آ رہے ہیں۔
ایرانی وفد یہ دورہ ایسے وقت میں کر رہا ہے جب پاکستان، امریکہ اور ایران کے درمیان سفارتی کوششیں جاری رکھنے کی کوشش کر رہا ہے جب کہ فوجی کشیدگی دوبارہ بڑھنے کی وجہ سے امن کا نازک عمل شدید دباؤ کا شکار ہے۔
پاکستان نے اپریل میں امریکی اور ایرانی حکام کے درمیان براہ راست مذاکرات کی میزبانی کی اور پس پردہ دونوں فریقوں سے رابطے برقرار رکھے۔ بعد ازاں جون میں پاکستان نے قطر کے ساتھ مل کر ’اسلام آباد مفاہمتی یادداشت‘ طے کرانے میں مدد کی۔
اس معاہدے کے تحت واشنگٹن اور تہران نے جنگ روکنے اور وسیع تر تنازعات پر مذاکرات شروع کرنے کا عہد کیا۔ اس کے بعد سوئٹزرلینڈ کے شہر برگن شٹاک میں بات چیت ہوئی، جہاں حکام نے ایک اعلیٰ سطح کی کمیٹی قائم کی اور ایران کے جوہری پروگرام، پابندیوں میں نرمی اور تنازعات کے حل کے طریقہ کار پر مذاکرات کے لیے 60 روزہ لائحہ عمل منظور کیا۔
اس کے بعد دوبارہ لڑائی شروع ہونے اور واشنگٹن اور تہران کی جانب سے ایک دوسرے پر معاہدے کی خلاف ورزی کے الزامات کے باعث یہ عمل دباؤ کا شکار ہو گیا ہے۔ اس کے باوجود پاکستان کا کہنا ہے کہ سفارتی رابطے بدستور قائم ہیں اور وہ مذاکرات میں سہولت فراہم کرنے کی کوششیں جاری رکھے گا۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
وزارت داخلہ کے ایک عہدے دار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر عرب نیوز کو بتایا، ’ایران کا اعلیٰ سطح کا وفد آج سرکاری دورے پر اسلام آباد پہنچ رہا ہے۔‘
انہوں نے کہا کہ اسکندر مومنی پاکستانی وزیر داخلہ محسن نقوی اور دیگر پاکستانی رہنماؤں سے ملاقاتیں کریں گے۔
ایرانی وفد کا یہ دورہ خطے میں پاکستان کی تیزی سے نازک ہوتی سفارتی پوزیشن کو بھی نمایاں کرتا ہے۔ اسلام آباد نے خود کو تہران اور واشنگٹن کے درمیان ثالث کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کی ہے، لیکن اس کے ساتھ ہی سعودی عرب کے ساتھ اس کی دیرینہ سٹریٹیجک شراکت داری بھی قائم ہے، جس میں باہمی دفاعی نظام کے تحت سکیورٹی تعاون بھی شامل ہے۔
ایرانی وزیر داخلہ کا یہ دورہ اسلام آباد اور تہران کے درمیان بڑھتے ہوئے دوطرفہ روابط کی بھی عکاسی کرتا ہے۔ وہ اور محسن نقوی حالیہ مہینوں میں کئی بار ملاقات کر چکے ہیں، جن میں سرحدی سکیورٹی، انسداد دہشت گردی میں تعاون، امیگریشن اور سرحد پار تجارت پر تبادلہ خیال ہوا۔ دونوں ممالک اپنی مشترکہ سرحد پر قریبی رابطہ قائم کرنا چاہتے ہیں۔
